Updated: September 07, 2026, 9:57 PM IST
| New Delhi
روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے اثرات اب عالمی غذائی اجناس کی منڈی پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ بحیرۂ اسود کے علاقے میں روس اور یوکرین کی بندرگاہوں، اناج کے ٹرمینلز اور بحری جہازوں پر حملوں کے باعث گندم کی برآمدات متاثر ہوئی ہیں، جس سے ایشیائی ممالک کے لیے گندم کی درآمد مہنگی ہوگئی ہے۔
گیہوں۔ تصویر:آئی این این
روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے اثرات اب عالمی غذائی اجناس کی منڈی پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ بحیرۂ اسود کے علاقے میں روس اور یوکرین کی بندرگاہوں، اناج کے ٹرمینلز اور بحری جہازوں پر حملوں کے باعث گندم کی برآمدات متاثر ہوئی ہیں، جس سے ایشیائی ممالک کے لیے گندم کی درآمد مہنگی ہوگئی ہے۔ روس اور یوکرین عالمی گندم تجارت کے تقریباً ۲۷؍ فیصد حصے سے وابستہ ہیں، اس لیے ان دونوں ممالک سے ہونے والی سپلائی میں خلل کا براہِ راست اثر بین الاقوامی مارکیٹ پر پڑتا ہے۔ جولائی کے آخر سے بحیرۂ اسود کی صورتحال خراب ہونے کے بعد ایشیائی خریداروں نے متبادل سپلائرز کی جانب رخ کرنا شروع کردیا ہے۔
روس اور یوکرین سے آنے والی کھیپ میں تاخیر کے باعث ایشیا کے کئی بڑے گندم درآمد کرنے والے ممالک اب آسٹریلیا اور ارجنٹائنا سے گندم خرید رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایشیائی خریداروں نے متبادل ذرائع سے کم از کم ۵ ؍لاکھ میٹرک ٹن گندم خریدی ہے۔ رپورٹس کے مطابق آسٹریلیا کی پریمیم وہائٹ وہیٹ تقریباً ۳۱۵ سے ۳۳۰؍ ڈالر فی ٹن جبکہ ارجنٹائنا کی گندم ۳۱۰ سے ۳۱۵؍ ڈالر فی ٹن میں خریدی جا رہی ہے۔ اس کے مقابلے میں بحیرۂ اسود کی گندم تقریباً ۲۶۰ سے ۲۸۰؍ ڈالر فی ٹن کی سطح پر دستیاب تھی۔ اس طرح متبادل ذرائع سے گندم خریدنے والے ممالک کو فی ٹن کئی درجن ڈالر اضافی ادا کرنا پڑ رہے ہیں، جس کا اثر درآمدی لاگت اور بالآخر صارفین تک پہنچنے والی خوراک کی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔بحیرۂ اسود سے گندم کی سپلائی میں خلل کے بعد آسٹریلوی گندم کی قیمت بھی تیزی سے بڑھی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:اب خوف کو پیچھے چھوڑنے کا وقت ہے، ایشا رِکھی نے ’’بگ باس ۲۰‘‘ میں آنے کی وجہ بتائی
ایس اینڈ پی گلوبل کے مطابق اگست میں آسٹریلوی گندم کی قیمت تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ ۳۱ اگست کو آسٹریلوی پریمیر وہائٹ ویٹ کی قیمت تقریباً ۳۱۲؍ ڈالر فی میٹرک ٹن جبکہ اسٹینڈ وہائٹ ویٹ کی قیمت تقریباً ۳۰۲؍ ڈالر فی ٹن ریکارڈ کی گئی۔ اس صورتحال کا سب سے زیادہ اثر ان ممالک پر پڑ رہا ہے جو گندم کی اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے درآمدات پر انحصار کرتے ہیں۔ انڈونیشیا، بنگلہ دیش، ویتنام، ملائیشیا، تھائی لینڈ اور سری لنکا جیسے ایشیائی ممالک روس اور یوکرین سے آنے والی گندم کی سپلائی میں خلل کے باعث زیادہ قیمت ادا کر رہے ہیں۔ انڈونیشیا دنیا کے بڑے گندم درآمد کرنے والے ممالک میں شامل ہے، اس لیے بحیرۂ اسود سے آنے والی سپلائی میں رکاوٹ اس کی درآمدی لاگت پر خاصا اثر ڈال سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:دلیپ ٹرافی فائنل:ایشان کشن ٹرپل سنچری سے محروم ، ایسٹ زون نے ۷۰۸؍ رنز بنائے
روس-یوکرین جنگ کے باعث صرف ایشیائی مارکیٹ ہی متاثر نہیں ہوئی بلکہ عالمی گندم مارکیٹ میں بھی تیزی دیکھی گئی ہے۔ شکاگو بورڈ آف ٹریڈ میں گندم کے فیوچرز کی قیمت جون کے آخر سے تقریباً ۳۵ ؍فیصد بڑھ چکی ہے۔ ستمبر کے آغاز میں گندم کی قیمت ۲۰۲۳ء کے اوائل کے بعد بلند ترین سطح تک پہنچ گئی تھی۔ اگرچہ موجودہ قیمتیں ۲۰۲۲ء میں جنگ کے آغاز کے بعد بننے والی ریکارڈ بلند سطح سے اب بھی نیچے ہیں، لیکن بحیرۂ اسود میں جاری کشیدگی نے مارکیٹ میں دوبارہ’’وار پریمیم ‘‘ پیدا کردیا ہے۔