• Tue, 08 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھیونڈی میں آوارہ کتے کی دہشت، کامت گھر میں چند گھنٹوں میں ۳۲؍ افراد کو کاٹ لیا،۲؍بچے بھی شامل

Updated: September 08, 2026, 11:24 AM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi

شہر میں آوارہ کتوں کی بڑھتی تعداد اب شہریوں کیلئے محض پریشانی نہیں بلکہ جان و سلامتی کا سنگین خطرہ بنتی جارہی ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

شہر میں آوارہ کتوں کی بڑھتی تعداد اب شہریوں کیلئے محض پریشانی نہیں بلکہ جان و سلامتی کا سنگین خطرہ بنتی جارہی ہے۔ کامت گھر علاقے میں ایک آوارہ کتے نے چند گھنٹوں کے اندر ۳۲؍ افراد کو کاٹ کر شہری انتظامیہ کے آوارہ کتوں پر قابو پانے کے دعوؤں کی قلعی کھول دی۔ متاثرین میں ۲؍ بچے بھی شامل ہیں، جن کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث آئی جی ایم سب ڈسٹرکٹ اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔آئی جی ایم اسپتال کی ڈاکٹر مادھوی پنڈھارے کے مطابق کتے کے کاٹنے کے بعد مجموعی طور پر ۳۲؍ افراد علاج کیلئے اسپتال پہنچے، جن میں ۲؍ بچے کیٹیگری۔۳؍کے ڈاگ بائٹ کا شکار ہوئے اور دونوں کو بچوں کے وارڈ میں داخل کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:یہ بھی پڑھئے:ظہران ممدانی کا روڈی جیولیانی کو جواب، ۱۱؍ ستمبر یادگاری تقریب میں شرکت کریں گے

کامت گھر کا یہ واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بھیونڈی میں کتوں کے کاٹنے واقعات پہلے ہی خطرناک حد تک بڑھ چکے ہیں۔ میونسپل کارپوریشن کے اعداد و شمار کے مطابق اپریل سے جولائی کے صرف ۴؍ ماہ میں ۳؍ ہزار ۲۹۲؍ شہری کتوں کے کاٹنے کا شکار ہوئے ہیں۔ایک کتے کی نس بندی پر میونسپل کارپوریشن تقریباً ۱۴۴۰؍ روپے خرچ کرتی ہے۔ اس کے باوجود آوارہ کتوں کی تعداد اور ڈاگ بائٹ کے واقعات میں کمی نہ آنا مہم کی رفتار پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ 

میونسپل کارپوریشن کے اسسٹنٹ کمشنر فیصل تاتلی نے بتایا کہ آوارہ کتوں نس بندی کے بعد ضروری کارروائی مکمل کرکے کتوں کو تقریباً ایک ہفتے بعد اسی مقام پر واپس چھوڑ دیا جاتا ہے جہاں سے انہیں پکڑا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK