اسکول بس پر درخت گرنے سے پڑوس کے بچے کی موت پر معاوضہ کی پالیسی دوبارہ شروع کرنے کیساتھ ٹھیکیدار کیخلاف کیس درج کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
EPAPER
Updated: July 12, 2026, 6:31 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai
اسکول بس پر درخت گرنے سے پڑوس کے بچے کی موت پر معاوضہ کی پالیسی دوبارہ شروع کرنے کیساتھ ٹھیکیدار کیخلاف کیس درج کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
شیوسینا (شندے) کی کارپوریٹر سمردھی کاٹے اپنے پڑوس میں رہنے والے ایک طالب علم کی چمبور میں اسکول بس پر درخت گرنے سے ہونے والی موت کی روداد بیان کرتے ہوئے بی ایم سی ہائوس میں رو پڑیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے معاملات میں بی ایم سی کے متعلقہ ڈپارٹمنٹ کو ذمہ دار قرار دینے کے ساتھ خاطی ٹھیکیدار کیخلاف کیس درج کرواکر سخت کارروائی کی جائے۔
واضح رہے کہ سمردھی کاٹے کے پڑوس میں رہنے والے ویہان مشرا کی ۳۰؍ جون کو چمبور میں اسکول بس پر درخت گرنے سے موت ہوگئی تھی۔ سمردھی کا بیٹا ہرشو مہلوک ویہان کا قریبی دوست تھا جس کی وجہ سے حادثہ کے بعد انہیں اسپتال بلایا گیا تھا اور وہاں ویہان کی والدہ نے روتے بلکتے ان سے کہا تھا کہ اپنے بیٹے ہرشو سے کہہ دینا اب ویہان کبھی تیرے ساتھ کرکٹ کھیلنے نہیں آئے گا۔ جمعہ کو بی ایم سی ہائوس میں یہ جملہ کہتے ہوئے سمردھی کاٹے رو پڑیں اور ۱۱؍ منٹ سے زیادہ طویل اپنی تقریر میں زیادہ تر اوقات وہ جذباتی رہیں۔
یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: ڈمپر کی زد میں آکر ۳؍ سالہ بچی جاں بحق، شہری مشتعل، دفتر میں توڑ پھوڑ
انہوں نے بتایا کہ ویہان کی والدہ گوالیار کی رہنے والی ہیں اور والد یو پی کے ہیں اس لئے بچے کی لاش رکھنے کیلئے فریج کا انتظام کیا گیا تھا۔ اس وقت فریج کے پاس اپنے بیٹے کا اسکول بیگ رکھا دیکھ کر اس کی والدہ ایک بار پھر بے تحاشہ چیخیں مار کر رونے لگی تھیں۔ وہ ان کا اکلوتا بیٹا تھا جو ان کی شادی کے کئی برسوں بعد ہوا تھا جس کے تعلق سے انہوں نے کئی خواب دیکھے تھے۔ اس جوڑے نے ۳؍ سے ۴؍ برس قبل ہی ان کی عمارت میں مکان لیا تھا اور اس کے دروازے پر میاں بیوی اور بیٹے کا نام لکھا تھا۔ انہوں نے اس کی تصویر فیس بُک پر شیئر کرکے لکھا تھا ’’ہمارے سپنوں کا گھر‘‘۔ تاہم ان کے بیٹے کی موت نے ان کی زندگی بدل کر رکھ دی ہے۔ سمردھی اس کی والدہ کا سامنا نہیں کرپارہی ہیں جس کی وجہ سے انہوں نے ان کے گھر جانا بند کردیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حادثہ والے دن کئی کارپوریٹر اسپتال آئے تھے اور اس عہدے پر رہنے کے باوجود وہ سب اور بچے کے والدین خود کو لاچار محسوس کررہے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: شاستری نگر اسپتال کی بدحالی پر سیاست گرم، مقامی قیادت کےخلاف بینر
سمردھی نے کہا کہ ہائوس میں دیگر کارپوریٹروں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ ایسے حاد ثات کے متاثرین کیلئے معاوضہ کی پالیسی دوبارہ شروع کی جائے اور خود ان کا بھی یہی مطالبہ ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ ویہان کے والدین آسودہ حال ہیں اور انہیں معاوضہ کی ضرورت نہیں لیکن کئی مرتبہ متاثرین بہت غریب ہوتے ہیں مثلاً ۷؍ سے ۸؍ برس قبل اس طرح کے حادثہ میں ایک بچے کی موت ہوگئی تھی اور اس کی والدہ گھریلو ملازمہ تھی لیکن بی ایم سی کی جانب سے اسے کوئی معاوضہ نہیں دیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہاکہ ایسے حادثات کیلئے ہمیشہ گارڈن ڈپارٹمنٹ کو ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے جبکہ اس کیلئے بی ایم سی کے ’ایس ڈبلیو ایم‘ اور ’بی ایف‘ ڈپارٹمنٹ کو بھی ذمہ دار قرار دینا چاہئے۔ مزید یہ کہ ٹھیکیدار کو بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ اس پر کیس بھی درج کیا جائے کیونکہ بلیک لسٹ کردینے کے باوجود وہ کسی دیگر کمپنی سے رائلٹی لے کر بی ایم سی کیلئے کام کرنا جاری رکھتا ہے جس کی روک تھام اور جوابدہی طے ہونی چاہئے تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات کی روک تھام ہوسکے۔