Inquilab Logo Happiest Places to Work

بنگال میں تعینات سی آر پی ایف جوانوں کے رول پر سوال

Updated: April 19, 2026, 6:50 AM IST | Kolkata

بی جےپی لیڈروں کے ساتھ گھومنے اورپرچے بانٹنےکا الزام ، ڈیرک او برائن کا چیف الیکٹورل آفیسر کو مکتوب، کارروائی کا مطالبہ،خواتین ریزرویشن کو انتخابی موضوع بنانے کی کوششوں کے مقابلہ کیلئے بھی ٹی ایم سی سرگرم، ریلیوں میں اعلان کیا کہ آئینی ترمیمی بل خواتین ریزرویشن کیلئے نہیں پارلیمانی سیٹوں میں اضافہ کیلئے تھا

In Bengal, TMC is trying to stop BJP on every front.
بنگال میں ٹی ایم سی ہر محاذ پر بی جے پی کو روکنے کی کوشش کررہی ہے

مغربی بنگال  جہاں اقتدار پر  قبضہ کرنے کیلئے بی جے پی نے اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے، میںالیکشن کمیشن پر مرکزی حکومت کے اشارے پر  زعفرانی  پارٹی کی حمایت میں کام کرنے کے الزامات کےبیچ اب سی آر پی ایف کے جوانوں پر بھی جانبداری اور  بی  جے پی  کے امیدواروں کی انتخابی مہم کا حصہ بننے کا الزام عائد ہورہا ہے۔ ترنمول کانگریس کے سینئر لیڈر اور رکن پارلیمان  ڈیرک او برائن نے بنگال کے چیف الیکٹورل آفیسر سے اس کی تحریری شکایت کرتےہوئے خاطی افسران کے خلاف کارروائی کی مانگ کی ہے۔  دوسری طرف لوک سبھا میں آئینی ترمیمی بل کے مسترد کئے جانے کو بی جے پی کے ذریعہ خواتین  ریزرویشن کا معاملہ بنا کر پیش کرنے کی کوشش کا مقابلہ کرنے کیلئے ٹی ایم سی سرگرم ہوگئی ہے۔  ممتا بنرجی اور اشوک بنرجی سے لے کر پارٹی  کے تمام لیڈروں  نے سنیچر کو انتخابی ریلیوں  میں زور دیکر یہ واضح کیا کہ آئینی ترمیمی بل خواتین ریزرویشن کیلئے نہیںتھا بلکہ پارلیمنٹ کی سیٹوں کو بڑھانےکیلئے تھا  جس کی اپوزیشن نے مخالفت کی۔
سی آر پی ایف کے رول پر سوال
  ٹی ایم سی لیڈر ڈیرک اوبرائن نے چیف الیکٹورل آفیسر کو لکھے گئے خط میں  ایک ویڈیو کا حوالہ دیا ہے جس میں  سی آر پی ایف  کا جوان  بی جےپی امیدوار کاپمفلٹ بانٹتے ہوئے نظر آرہا ہے۔  ڈیک او برائن نے اپنی شکایت میں  سی آر پی ایف جوانوں پر  بی جے پی امیدواروں کے ساتھ  گھومنے، پرچے بانٹنے اور ووٹروں کو بی جے پی کے حق میں ووٹ دینے کیلئے متاثر کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں  نے نشاندہی کی کہ سی آر پی ایف جوانوں کا یہ عمل ’’  فورس ڈپلائمنٹ اِن الیکشن مینول۲۳ء ‘(انتخابات میں سیکوریٹی فورسیز کی تعیناتی کامینوئل)، عوامی نمائندگی ایکٹ ۱۹۵۱ء اور تعزیرات ہند ۲۰۲۳ء کی خلاف ورزی ہے۔ 
آزادانہ ووٹنگ کا حق متاثرہورہا ہے
 ’این ڈی ٹی وی‘ کی خبر کے مطابق ڈیرک اوبرائن نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے مبینہ ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے  الیکشن کمیشن سے کہا  ہےکہ’’ کچھ لوگ دعویٰ کر رہے ہیں کہ سی آر پی ایف اہلکار بی جے پی کے ساتھ مل کر کام کر رہے تھے۔ سی آر پی ایف جوانوں کا یہ رویہ مجرمانہ دھمکی اور انتخابی عمل پر غیر مناسب  طریقہ سے اثر انداز ہونے کی کوشش   ہے جو دفعہ ۱۷۴؍ کے تحت جرم ہے۔‘‘ انہوں  نے متنبہ کیا کہ ’ اس سے رائے دہندگان میں خوف کا ماحول پیدا ہورہا ہے اور آزادانہ ووٹنگ کا حق متاثر ہورہا ہے۔‘‘
ایف آئی آر کے اندراج کی مانگ
 ٹی ایم سی لیڈر نے زور دے کر کہا کہ مرکزی فورسیزکیلئے  انتخابی ڈیوٹی کے دوران مکمل غیر جانبداررہنا لازمی ہے۔  پولیس فورس کے کسی بھی اہلکار کو ووٹروں کو کسی پارٹی کے حق میں متاثر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ انہوں نے چیف الیکٹورل آفیسر سے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ سی آر پی ایف اہلکاروں کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا جائے۔ ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے احکامات دیئے جائیں۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ تمام مرکزی فورسیز کو مغربی بنگال میں غیر جانبداری برقرار رکھنے اور الیکشن کمیشن کے قوانین پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت دی جائے۔
 ترمیمی بل پر بی جےپی کے بیانیہ کا مقابلہ
 اس بیچ لو سبھا میں آئینی ترمیمی بل کی ناکامی کو خواتین ریزرویشن کی مخالفت کے طور پر پیش کرنے کے بی جےپی  کے ہتھ کنڈہ کےمقابلہ کیلئے ٹی ایم سی سرگرم ہوگئی ہے۔ پارٹی سربراہ ممتا بنرجی اور سینئر لیڈر ابھیشیک بنرجی سمیت تمام لیڈروں  نے اپنی اپنی انتخابی ریلیوں میں  زور دے کر عوام کو آگاہ کیا ہے کہ مذکورہ بل خواتین کے ریزرویشن کیلئے نہیں  تھا بلکہ لوک سبھا کی سیٹیں من مانے طریقے سے بڑھانے کیلئے تھا۔ پارٹی نے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ لوک سبھا میں اس کے تمام اراکین پارلیمان میں خواتین کا فیصد ۲۷؍ ہے جو کسی بھی دوسری پارٹی سے سب سے زیادہ ہے۔ بی جے پی اس محاذ پر سب سے پیچھے ہے۔  اس کے اراکین پارلیمان میں خواتین صرف ۱۲؍ فیصد ہیں۔
خواتین کیلئے ۵۰؍ فیصد ریزرویشن کا چیلنج
  اس سے قبل ٹی ایم سی کے رکن پارلیمان کلیان بنرجی نے حکومت پر عوام کو گمراہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ خواتین ریزرویشن ایک دن میں نافذ ہوسکتاہے۔ انہوں  نے حکومت کو  چیلنج کیا کہ وہ پارلیمنٹ کی موجود ۵۴۳؍  نشستوں میں  سے ۵۰؍ فیصدنشستیں خواتین کیلئے مختص کرے،  ٹی ایم سی اس کی حمایت کریگی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK