Updated: January 08, 2026, 5:13 PM IST
| Guwahati
آسام میں ریاست سے بے دخلی کی مہم کے دوران ۱۲۰۰؍ سے زیادہ بنگالی مسلمانوں کے گھر مسمار کر دیے گئے، حکومت کا کہنا تھا کہ یہ گھر وائلڈ لائف سینکچری میں غیر قانونی طور پر بنائے گئے تھے، جبکہ بے گھر ہونے والوں میں سے بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے خاندان دہائیوں سے ان علاقوں میں رہ رہے ہیں، اور ان کے آباؤ اجداد دریائی علاقوں میں اپنی زمین کھونے کے بعد یہاں آباد ہوئے تھے۔
بے دخلی کی مہم کے دوران گھروں کی مسماری کا ایک منظر۔ تصویر: ایکس
آسام کے سونیت پور ضلع میں، بنگالی مسلمان خاندانوں کے تقریباً۱۲۰۰؍ گھروں کو اس ہفتے کی شروع میں ایک بے دخلی کی مہم کے دوران مسمار کر دیا گیا ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ۵؍ اور۶؍ جنوری کو کی گئی یہ تازہ ترین کارروائی برہا چپاری وائلڈ لائف سینکچری میں غیر قانونی قبضے ختم کرنے کے مقصد سے تھی۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق، یہ زمین سینکچری کے اندر تقریباً۶۵۰؍ ہیکٹر رقبے پر محیط ہے۔ مقامی انتظامیہ کے ایک افسر نے بتایا کہ مبینہ طور پر قبضہ کرنے والوں نے جنگلی حیات کے محفوظ علاقے کے اندر مکان بنائے تھے اور فصلیں اگائی تھیں۔مقامی لوگوں کے مطابق،بے دخلی سے پہلے، زیادہ تر مکینوں نے خود ہی اپنے گھر گرائے اور علاقہ چھوڑ دیا۔ تاہم، سخت سردی کی وجہ سے بہت سے لوگ وہیں رہ گئے تھے اور انہوں نے حکام سے اپنی فصلیں کاٹنے کے لیے وقت دینے کی درخواست کی۔
یہ بھی پڑھئے: مسلمانوں، قبائلیوں اور اقلیتوں کو ختم کرنا بی جے پی کا ایجنڈا ہے: پرکاش راج
دریں اثناء سونیت پور کے ڈسٹرکٹ کمشنر آنند کمار داس نے کہا، ’’قبضہ کرنے والوں کی اس درخواست کے باوجود کہ انہیں موجودہ سردی کے موسم میں بے دخل نہ کیا جائے، انتظامیہ انہیں موجودہ بے دخلی مہم سے معاف نہیں کرے گی کیونکہ وہ غیر قانونی طور پر جنگلی علاقوں میں رہ رہے تھے۔واضح رہے کہ یہ پہلی ایسی کارروائی نہیں ہے۔فروری میں بھی، انتظامیہ نے وائلڈ لائف سینکچری اور قریبی گاؤںمیں ۲۰۹۹؍ہیکٹر زمین صاف کی تھی۔ بعد ازاں شمال مشرق کے ایک مقامی میڈیا کے مطابق، وزیر اعلیٰ ہمنت بشوا شرما نے پیر کو دعویٰ کیا کہ حکومت نے بے دخلی مہم کے دوران تقریباً ڈیڑھ لاکھ بیگھہ زمین دوبارہ حاصل کر لی ہے۔ تاہم بے گھر ہونے والوں میں سے بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے خاندان دہائیوں سے ان علاقوں میں رہ رہے ہیں، اور ان کے آباؤ اجداد دریائی علاقوں میں اپنی زمین کھونے کے بعد یہاں آباد ہوئے تھے۔
یاد رہے کہ گذشتہ سال جولائی میں، گوآلپارہ ضلع کے بیٹباری علاقے میں بے دخلی کے مقام پر ہونے والی جھڑپوں کے دوران پولیس کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک اور متعدد دیگر زخمی ہو گئے تھے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ آسام میں ۲۰۱۶ء سے بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) کی حکومت آنے کے بعد سے، مختلف اضلاع میں کئیانہدامی کارروائی چلائی گئی ہیں، جن کا زیادہ تر ہدف بنگالی بولنے والے مسلمانوں کی آبادی والے علاقے رہے ہیں۔