مالونی ہیلتھ کیئراینڈپبلک سروس سینٹر کی پہل۔اس منفرد پیش رفت سے غریبوں کو دوا دینے، پولوشن ختم کرنے اور نشہ کی لعنت کے خاتمہ پرتوجہ مرکوز کی گئی ہے۔
خالی بوتلیں جمع کرنے کے لئے لگایا گیا باکس۔ تصویر:آئی این این
غریبوں کی دوا کے ذریعے مدد کرنے کی جانب مالونی ہیلتھ کیئر اینڈ پبلک سروس سینٹرکی جانب سے پلاسٹک کی خالی بوتلوں کو باکس میں جمع کرنے اور اسے فروخت کرکے غریب شہریوں کو معمولی فیس پر یا بہت سے مریضوں کو مفت میںدوا فراہم کرانے کا ایک منفرد قدم اٹھایا گیا ہے۔ اس پیش رفت کے ۳؍بنیادی مقاصد ہیں، پولوشن ختم کرنا، غریبوں کو دوا دینا اور نشہ کی لعنت کا خاتمہ ۔مذکورہ سینٹر نے مالونی (مہاڈا) میں اپنے کلینک کے باہر ’’پلاسٹک کی بوتلوں کے ری سائیکل باکس‘ نصب کیا ہے۔ مکینوں کو خالی پلاسٹک کی بوتلوں کو سڑکوں پر پھینکنے کے بجائے باکس میں ڈالنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ اس کے بعدوقفے وقفے سے اسے کھولا جاتا ہے اوراس سے ماہانہ ۴۰۰؍تا ۸۰۰؍ روپے جمع ہوتے ہیں۔ اس پیسے سے غریب شہریوں کو بخار، بدن درد، کھانسی، نزلہ اور سر درد جیسی بیماریوں کے لئے معمولی فیس پر اوربہت سے مریضوں کو مفت دوائیں فراہم کرائی جاتی ہیں۔ اپنی نوعیت کا یہ منفرد ماڈل ایک سادہ لیکن مؤثر پیغام اس طرح دیتا ہےکہ ’’آپ مجھے پلاسٹک کی بوتلیں کھلائیں (ڈالیں)، میں ضرورت مندوں کو مفت ادویات کی شکل میں واپس کر دوں گا۔‘‘
’’غریبوں کے لئے چھوٹا موٹا علاج بھی مشکل ہے‘‘
مالونی ہیلتھ کیئر اینڈ پبلک سروس سینٹر کے بانی حسین شیخ چونکہ خود لائف لائن اسپتال سے جڑے ہوئے ہیں اوران کی اہلیہ بھی ڈاکٹر ہیں، لوگ انہیںہیلتھ بڈی کے نام سےبھی جانتے ہیں نےنمائندۂ انقلاب سے بات چیت کرتے ہوئے مذکورہ بالا تفصیلات کے ساتھ یہ بھی بتایاکہ ’’ طبی لائن سے جڑنے کے سبب یہ انداز ہ ہواکہ غریبوں کے لئے چھوٹا موٹا علاج بھی مشکل ہے، اس لئے ایک سال قبل چند ساتھیوں اور کچھ تنظیموں کے ساتھ مل کر اس کا آغاز کیا اور مالونی مہاڈا میں اپنے میڈیکل سینٹر کے قریب ایک ’باکس‘لگایا اور لوگوں سے درخواست کی کہ وہ پلاسٹک کی بوتلیں ادھر ادھر نہ پھینکیں ، باکس میںڈالیں ۔‘‘
آج خصوصی نشست
انہوں نے یہ بھی بتایاکہ ’’یہ تجربہ کامیاب رہا، اسی بنیاد پرمذکورہ سینٹرکی جانب سے ۳۰؍ نومبر اتوارکو دوپہر ۱؍ بجے سے ۳؍ بجے تک ایک عوامی بیداری نشست کا انعقاد کیا گیا ہے۔ اس میںمختلف شعبوں کے لوگوں کو مدعو کیا گیا ہے تاکہ اس طرح کے باکس مالونی کے الگ الگ حصوں میں لگائے جائیں اور زیادہ سے زیادہ غریبوں کا علاج ہو۔