۴؍ ہفتے میں عمارتیں ملبے کے ڈھیر میں تبدیل، مکین پریشان،انہدامی کارروائی میں جانبداری برتنے کا الزام۔ آس پاس کے مکینوں میں بھی بے چینی۔
صدرو کمپاؤنڈ میں منہدم شدہ عمارتوںکا ملبہ ہٹایا جارہاہے۔ تصویر:انقلاب
شیل پھاٹا کے قریب دوستی کمپلیکس کے پیچھے واقع اے وی کے کمپاؤنڈ کی عمارتوں کو منہدم کرنے کے بعد۳؍ نومبر سے صدرو کمپاؤنڈ میں واقع ۷؍ سے ۱۰؍ عمارتوں کو عدالت کے حکم کا حوالہ دے کر منہدم کرنے کا جو سلسلہ شروع کیاگیا تھاوہ چوتھے ہفتہ کے آخری دن یعنی سنیچر کو بھی جاری رہا۔ عالیشان عمارتیں اب ملبے میں تبدیل ہوچکی ہیں اور بے گھر ہونے والے مکین اب بھی بلڈروں کی اس یقین دہانی پر آس لگائے ہوئے ہیں کہ زمین مالک سے صلح کرنے کے بعد ان کا آشیانہ ایک بار پھر ملے گا لیکن یہ کب تک ملے گا؟ اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔اس بڑے پیمانے پر انہدامی کارروائی کے بعد آس پاس کی عمارتوں کے مکین بھی پریشان ہیں اور عالیشان طریقے سے بنایا ہوا اپنا فلیٹ فروخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن انہیں خریدار نہیں مل رہے ہیں۔سنیچر کو جب نمائندۂ انقلاب نے اے وی کے کمپاؤنڈ اور صدرو کمپاؤنڈ کا دورہ کیا تو وہاں دیکھاکہ یہ عمارتیں بھی ملبوں کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئی ہیں۔ چاروں طرف ملبہ نظر آرہا تھا۔ صدرو کمپاؤنڈ میں سنیچر کو بھی جے سی بی اور گیس کٹر سے انہدامی کارروائی جاری تھی۔ متعدد مزدور عمارتوں کے ملبے سے سلاخوں کو الگ کرنے کے کام میں مصروف تھے۔ مقامی افراد سے رابطہ قائم کرنے پر انہوںنے بتایاکہ کوئی نہ کوئی مکین اس آس پر یہاں ضرور آتا ہے کہ ان کے آشیانے کو بچانے کا کوئی نظم ہو جائے گا۔باز گشت یہ بھی تھی کہ مکین عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کی تگ و دو میں ہیں۔ اس سلسلے میں ایک مکین سے گفتگو کرنے پر انہوںنے بتایاکہ ’’ہمیں بلڈر نے یقین دلایاہے کہ زمین مالک سے جو مسئلہ ہے اسے حل کیاجائے گااور صلح ہونے کےبعد وہیں پر عمارت تعمیرکر کے مکینوں کو دوبارہ بسایاجائے گا۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ’’ عدالت میں تاریخ پہ تاریخ والا معاملہ چلتا ہے تومکین کب تک اسے عدالت میں پیش کر سکیں گے ؟یہ ایک بڑا سوال ہے ۔‘‘
ایک متاثرہ نے کہاکہ’’ اللہ رب العزت نے مکان دلوایا تھا اور اسی کی ذات سے امید ہے کہ وہ کوئی بہتر نظم کرے گا۔‘‘
متاثرہ مکین کے مطابق’’ میرے بھائی نے زندگی بھر کی کمائی کی پونجی لگا کر۲؍ فلیٹ صدرو کمپاؤنڈ میں لئے تھے اور دونوں ہی منہدم ہو گئے اور وہ کرایہ کے مکان میں ممبرا ریلوے اسٹیشن کے پاس رہنے پر مجبور ہے۔ وہ ایک کمپنی میں ملازمت کرتے ہیں، اب ان کیلئے دوبارہ مکان خریدنا دشوار ہے۔‘‘انہوں نےانہدامی کارروائی میں جانبداری برتنے کا الزام عائد کر تے ہوئے کہاکہ ’’ساری کارروائی اور قانون مسلم اکثریتی علاقوں کی بستیوں ہی پر نافذ کئے جارہے ہیں۔ قریب ہی دیوا اور ڈومبیولی علاقے بھی ہے ،یہاں تک کہ تھانے میں بھی کئی عمارتیں غیر قانونی ہیںلیکن اب تک ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ یہ دہرا رویہ نہیں ہے تو اور کیا ہے؟‘‘
اس ضمن میں شیو سینا( شندے) پارٹی سے تعلق رکھنے والے انور کچی جو انہدامی کارروائی کو رکوانےمیں پیش پیش تھے،سے رابطہ قائم کیاگیا تو انہوںنے بتایاکہ ’’اس سلسلے میں فی الحال ہم عدالت سے رجوع نہیں ہو رہےہیں بلکہ بلڈروں ہی سے بات چیت کے ذریعے مکان کی بحالی کی کوشش کی جارہی ہے ۔‘‘
اسی دوران خان کمپاؤنڈ میں واقع عائشہ رئیل اسٹیٹ ایجنٹ سے گفتگو کرنے پرانہوں نے بتایاکہ ’’اے وی کے اور صدرو کمپاؤنڈ میں ٹی ایم سی کی سخت پولیس بندوبست میں جارحانہ انہدامی کارروائی کے بعد آس پاس کی عمارتوں کے مکینوں میں بھی بے چینی پائی جارہی ہے اور وہ بھی اپنا فلیٹ بیچنا چاہتے ہیں لیکن خریدار نہیں مل رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید بتایاکہ ’’ایک صاحب کا پوری طرح فرنش فلیٹ ہے ، انہدامی کارروائی سے قبل وہ اسے ۱۷؍لاکھ میں فروخت کرنا چاہتے تھے لیکن اب وہ اسی فلیٹ کو ۱۳؍ لاکھ روپے میں فروخت کرنے کو تیار ہے لیکن انہدامی کارروائی ہونے کے ڈر سے اس کا بھی کوئی خریدار نہیں مل رہا ہے۔‘‘
اسٹیٹ ایجنٹ کے بقول انہدامی کارروائی کے دوران متعدد مکینوں کو کم ڈپازٹ اور کرایہ پر خان کمپاؤنڈ کی متعد د عمارتوں میں مکان بھی دلوایا گیا ہے۔
واضح رہے کہ اے وی کے کمپاؤنڈ میں واقع ۱۷؍ عمارتوں کو بھی جارحانہ انہدامی کارروائی میں منہدم کیا جاچکا ہے۔ تھانے میونسپل کارپوریشن کی جانب سے یہ جواز پیش کیا گیا تھاکہ دونوں ہی کارروائی عدالت کے حکم پر کی گئی ہے۔ زمین کی ایک مالکن نے عدالت میں پٹیشن داخل کی تھی کہ اس کی زمین پر غیر قانونی عمارتیں تعمیر کر دی گئی ہیں اور انہیں میونسپل افسران نے رشوت لےکر تعمیر کروایا ہے لہٰذا عدالت نے زمین کے مالکن کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے میونسپل کمشنر کو انہدامی کارروائی کرنے کی ہدایت دی تھی، حالانکہ اس کارروائی کو روکنے کیلئے مکینوں نے مقامی صحافی اور سماجی کارکن رفیق کامدار اور انور کچی کی قیادت میں کافی کوشش کی تھی لیکن بعد میں رفیق کامدار ایک مقدمہ میں جیل بھیج دیاگیا ہے جس کے بعد جارحانہ انہدامی کارروائی انجام دی گئی۔