Inquilab Logo Happiest Places to Work

۱۲؍ اگست: مکمل سورج گہن، روس سے اسپین تک تاریکی ہوگی

Updated: August 08, 2026, 7:04 PM IST | Madrid

۱۲؍ اگست ۲۰۲۶ء کو سال کا واحد مکمل سورج گرہن رونما ہوگا، جس کا مکمل مرحلہ شمالی روس، گرین لینڈ، آئس لینڈ، بحرِ اوقیانوس اور اسپین سمیت محدود علاقوں میں دیکھا جاسکے گا۔ ناسا اس واقعے کی براہِ راست کوریج فراہم کرے گا، جبکہ جزوی گرہن دیکھنے والوں کو خصوصی حفاظتی چشمے استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ جنوبی ایشیاء بشمول ہندوستان، میں گرہن دیکھنا ممکن نہیں ہوگا۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

۱۲؍ اگست ۲۰۲۶ء کو آسمان پر سال کا ایک اہم فلکیاتی منظر رونما ہوگا، جب چاند سورج اور زمین کے درمیان آکر سورج کو مکمل طور پر ڈھانپ لے گا۔ یہ ۲۰۲۶ء کا واحد مکمل سورج گرہن ہوگا۔ مکمل گرہن کا محدود راستہ شمالی روس سے شروع ہوکر گرین لینڈ، آئس لینڈ اور شمالی بحرِ اوقیانوس سے گزرتا ہوا اسپین اور پرتگال کے ایک چھوٹے حصے تک پہنچے گا، جبکہ یورپ، شمالی افریقہ، شمالی امریکہ اور دیگر وسیع علاقوں میں جزوی سورج گرہن دیکھا جاسکے گا۔ ناسا کے مطابق عالمی سطح پر جزوی گرہن تقریباً 15:34 یو ٹی سی پر شروع ہوگا۔ مکمل گرہن کا مرحلہ تقریباً 16:58 یو ٹی سی پر شروع، جبکہ مکمل گرہن کا عالمی عروج تقریباً 17:46 یو ٹی سی پر ہوگا۔ مکمل مرحلہ تقریباً 18:34 یو ٹی سی پر ختم ہوگا اور جزوی گرہن کا آخری مرحلہ تقریباً 19:58 یو ٹی سی پر مکمل ہوگا۔ 
مکمل گرہن کا دورانیہ ہر مقام پر مختلف ہوگا اور زیادہ تر مقامات پر یہ ۲؍ منٹ سے کم رہے گا۔ گرین لینڈ، روس اور شمالی بحرِ اوقیانوس کے مرکزی راستے کے قریب مکمل تاریکی نسبتاً زیادہ دیر تک رہ سکتی ہے، تاہم مجموعی طور پر مکمل مرحلہ ڈھائی منٹ سے کم ہوگا۔ آئس لینڈ مکمل سورج گرہن کے اہم مشاہداتی مقامات میں شامل ہوگا۔ ریکیاوک میں جزوی گرہن مقامی وقت کے مطابق تقریباً 4:47 شام شروع ہوگا اور مکمل گرہن 5:48 شام سے 5:49 شام تک جاری رہے گا۔ کیفلاوک میں مکمل مرحلہ تقریباً ایک منٹ ۳۹؍  سیکنڈ، جبکہ ریکیاوک میں تقریباً ایک منٹ ایک سیکنڈ ہوگا۔ 

یہ بھی پڑھئے: جنوبی کوریا: سیٹیلائٹ فالکن۹؍ کے ملبے سے چاند پر بننے والے گڑھے کی تصویر کشی کی

اسپین میں بھی کئی مقامات سے مکمل گرہن دیکھا جاسکے گا۔ بلباؤ میں مکمل مرحلہ تقریباً 8:27 رات سے شروع ہوکر ۳۱؍ سیکنڈ جاری رہے گا، جبکہ سانتاندر میں مکمل گرہن تقریباً ایک منٹ ۴؍  سیکنڈ تک رہے گا۔ اسپین کے بعض دوسرے علاقوں، جیسے والنسیا اور زاراگوزا، میں بھی مکمل گرہن دیکھا جاسکے گا۔ پرتگال کے ایک چھوٹے شمالی حصے میں بھی مکمل گرہن کا راستہ گزرے گا، جبکہ ملک کے دیگر حصوں اور یورپ کے وسیع علاقے میں سورج جزوی طور پر ڈھکا ہوا نظر آئے گا۔ ناسا کے مطابق شمالی امریکہ، بیشتر کنیڈا، شمالی امریکہ کے کچھ حصوں، یورپ اور شمال مغربی افریقہ سمیت وسیع علاقوں میں بھی جزوی گرہن دیکھا جاسکے گا۔ 
برطانیہ میں مکمل سورج گرہن نہیں ہوگا، لیکن کئی علاقوں میں سورج کا بڑا حصہ چاند کے پیچھے چھپ جائے گا۔ لندن میں تقریباً ۹۱؍  فیصد سورج ڈھکا ہوا نظر آسکتا ہے، جبکہ ڈبلن میں یہ تناسب تقریباً ۹۴؍ فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔ اس کے باوجود ان مقامات پر مکمل تاریکی والا مرحلہ نہیں آئے گا۔ ناسا اس فلکیاتی واقعے کے سائنسی مشاہدے کے لیے خصوصی انتظامات بھی کررہا ہے۔ ناسا کے مطابق اس کے ڈبلیو ۵۷؍ بلند پرواز تحقیقی طیارے گرہن کے دوران تقریباً ۵۰؍ ہزار فٹ کی بلندی سے سورج اور اس کے بیرونی ماحول کا مشاہدہ کریں گے۔ ناسا کی معاونت سے سائنسی غبارے بھی آئس لینڈ اور اسپین میں فضا پر گرہن کے اثرات کا جائزہ لیں گے۔ 

یہ بھی پڑھئے: یورپ میں موسمیاتی بحران شدید، لندن کے باغات اور پارک ہریالی سے محروم

اس گرہن کی خاص سائنسی اہمیت یہ ہے کہ مکمل گرہن کے دوران سورج کی بیرونی فضا، یعنی کورونا، نمایاں ہوجاتی ہے۔ ناسا کے مطابق اس مختصر مرحلے میں سائنس دان سورج کے کورونا اور زمین کے ماحول پر گرہن کے اثرات کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔ گرہن دیکھنے والوں کے لیے آنکھوں کی حفاظت انتہائی ضروری ہے۔ جزوی گرہن کے دوران سورج کو براہِ راست دیکھنا آنکھوں کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے اور عام دھوپ کے چشمے محفوظ نہیں ہیں۔ ناسا نے ایسے خصوصی شمسی چشمے یا فلٹر استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے جو آئی ایس او 12312-2 معیار کے مطابق ہوں۔ دوربین، کیمرے یا دوسری بصری آلات کے ساتھ بھی مناسب شمسی فلٹر کے بغیر سورج کو دیکھنا خطرناک ہے۔ صرف اس مختصر مرحلے کے دوران براہِ راست دیکھنا محفوظ ہے جب چاند سورج کے روشن حصے کو مکمل طور پر ڈھانپ لے؛ جیسے ہی سورج کا کوئی روشن حصہ دوبارہ نمودار ہو، آنکھوں کی حفاظت لازمی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK