Updated: April 13, 2026, 10:00 PM IST
| Canberra
آسٹریلیا نے اپنی ۱۲۵؍ سالہ تاریخ میں پہلی بار ایک خاتون کو آرمی چیف مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سوزن کوائل جولائی سے فوج کی قیادت سنبھالیں گی اور سائمن اسٹورٹ کی جگہ لیں گی۔ وزیر اعظم انتھونی البانیز نے اس تقرری کو تاریخی قرار دیا، جبکہ وزیر دفاع رچرڈ مارلیس نے اسے خواتین کے لیے ایک اہم پیش رفت کہا۔
آسٹریلیا نے اپنی فوجی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے پہلی بار ایک خاتون کو آرمی چیف مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت کے مطابق سوزن کوائل جولائی میں باضابطہ طور پر آسٹریلوی فوج کی قیادت سنبھالیں گی، جس کے ساتھ ہی وہ ملک کی ۱۲۵؍ سالہ فوجی تاریخ میں اس عہدے پر فائز ہونے والی پہلی خاتون بن جائیں گی۔ وہ موجودہ آرمی چیف سائمن اسٹورٹ کی جگہ لیں گی، جبکہ اس کے ساتھ دفاعی قیادت میں دیگر اہم تبدیلیاں بھی کی گئی ہیں۔ اس تقرری پر وزیر اعظم انتھونی البانیز نے اسے ایک ’’تاریخی لمحہ‘‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدام نہ صرف فوج بلکہ پورے ملک کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہنگری انتخابات: وکٹر اوربان کی ۱۶؍ سالہ حکمرانی ختم، پیٹر میگیار کی شاندار فتح
وزیر دفاع رچرڈ مارلیس نے بھی اس فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ تقرری خواتین کے لیے ایک مضبوط پیغام ہے۔ ان کے الفاظ میں ’’جیسا کہ سوسن نے خود کہا، آپ وہ نہیں بن سکتے جو آپ دیکھ نہیں سکتے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ سوزن کی کامیابی موجودہ اور آنے والی نسل کی خواتین کے لیے حوصلہ افزائی کا باعث بنے گی، خاص طور پر ان خواتین کے لیے جو آسٹریلیا کی دفاعی فوج میں شمولیت پر غور کر رہی ہیں۔ ۵۵؍ سالہ سوزن نے ۱۹۸۷ء میں فوج میں شمولیت اختیار کی تھی اور اپنے کیریئر کے دوران مختلف اعلیٰ کمانڈ عہدوں پر خدمات انجام دی ہیں۔ وہ اس سے قبل ’’چیف آف جوائنٹ کیپیبلٹیز‘‘ کے عہدے پر فائز تھیں، جو آسٹریلوی دفاعی ڈھانچے میں ایک اہم پوزیشن سمجھی جاتی ہے۔
یہ تقرری ایک وسیع تر اصلاحاتی عمل کا حصہ بھی ہے، جس کے تحت آسٹریلوی فوج میں خواتین کی نمائندگی بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس وقت خواتین آسٹریلوی فوج کا تقریباً ۲۱؍ فیصد حصہ ہیں، جبکہ اعلیٰ قیادت میں ان کی نمائندگی ۵ء۱۸؍ فیصد کے قریب ہے۔ فوج نے ۲۰۳۰ء تک اس شرح کو ۲۵؍ فیصد تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آسٹریلوی دفاعی ادارے کو اندرونی چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ گزشتہ سال ایک کلاس ایکشن مقدمہ دائر کیا گیا تھا، جس میں الزام لگایا گیا کہ فوج ہزاروں خواتین اہلکاروں کو جنسی ہراسانی، حملوں اور امتیازی سلوک سے محفوظ رکھنے میں ناکام رہی۔ اس پس منظر میں کوئل کی تقرری کو ایک مثبت اور اصلاحی قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: حج ۲۰۲۶ء: سعودی حکومت کا ۱۸؍ اپریل تک تمام غیر ملکیوں کو مکہ مکرمہ چھوڑنے کا حکما
اسی اعلان کے ساتھ، حکومت نے دیگر اعلیٰ عسکری تقرریوں کا بھی اعلان کیا ہے۔ بحریہ کے سربراہ مارک ہمونڈ کو آسٹریلین ڈیفنس فورس کا نیا سربراہ مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ریئر ایڈمرل میتھیو بکلی بحریہ کی قیادت سنبھالیں گے۔ یہ تبدیلیاں آسٹریلیا کی دفاعی حکمت عملی اور ادارہ جاتی اصلاحات دونوں کا حصہ ہیں، جہاں صنفی توازن، شفافیت اور پیشہ ورانہ معیار کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔