Inquilab Logo Happiest Places to Work

حج ۲۰۲۶ء: سعودی حکومت کا ۱۸؍ اپریل تک تمام غیر ملکیوں کو مکہ مکرمہ چھوڑنے کا حکم

Updated: April 13, 2026, 5:02 PM IST | Makkah

حج سیزن ۲۰۲۶ء کی تیاریوں کے پیشِ نظر سعودی حکام نے عمرہ اور دیگر ویزہ رکھنے والوں کیلئے نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں، جن کے تحت ۱۸؍ اپریل کے بعد مکہ مکرمہ میں قیام اور داخلہ محدود ہوگا۔ یہ اقدامات لاکھوں عازمینِ حج کیلئے نظم و ضبط، سیکیورٹی اور سہولت کو یقینی بنانے کے مقصد سے کئےگئے ہیں۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

سعودی حکام نے آنے والے حج سیزن کی تیاریوں کے تحت عمرہ زائرین کو ۱۸؍ اپریل تک ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ یہ ہدایت سعودی وزارتِ حج و عمرہ کی جانب سے جاری کی گئی ہے۔ اسی دوران، سعودی وزارتِ داخلہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ۲۸؍ اپریل کے بعد صرف حج ویزہ رکھنے والے افراد کو ہی مکہ مکرمہ میں قیام کی اجازت ہوگی جبکہ دیگر تمام ویزہ ہولڈرز کیلئے شہر میں رہنا غیر قانونی قرار دے دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ ہدایت عمرہ ویزہ، وزٹ ویزہ اور دیگر اقسام کے ویزہ رکھنے والے افراد دی گئی ہے۔ اس مقررہ تاریخ کے بعد قیام کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی جس میں بھاری جرمانے اور قید کی سزا شامل ہے۔ مزید برآں ۱۳؍ اپریل سے سعودی عرب میں مقیم غیر ملکیوں کیلئے بھی مکہ مکرمہ میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جب تک کہ ان کے پاس باقاعدہ پرمٹ نہ ہو۔ 

یہ بھی پڑھئے: امریکی ناکہ بندی کا اعلان، ہرمز میں جہاز رانی معطل، تیل کی قیمتوں میں اضافہ

بتا دیں کہ یہ ہدایت دراصل ہر سال حج سیزن کے قریب سعودی حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اُن وسیع انتظامات کا حصہ ہے جن کا مقصد لاکھوں عازمینِ حج کی آمد کے دوران نظم و ضبط، سیکوریٹی اور سہولت کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ سعودی عرب ماضی میں بھی حج سے قبل عمرہ اور وزٹ ویزہ رکھنے والوں کے قیام اور مکہ مکرمہ میں داخلے پر مرحلہ وار پابندیاں عائد کرتا رہا ہے تاکہ غیر متعلقہ ہجوم کو کم کیا جا سکے اور صرف حج ویزہ رکھنے والے افراد کو ہی مرکزی مذہبی مقامات تک رسائی دی جائے۔ خاص طور پر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں رش کو منظم کرنا ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے، اسی لئے وزارتِ حج و عمرہ اور وزارتِ داخلہ مشترکہ طور پر ایسے اقدامات نافذ کرتی ہیں، جن میں پرمٹ سسٹم، ڈجیٹل نگرانی اور سخت قانونی کارروائیاں شامل ہوتی ہیں تاکہ حج کے دوران کسی بھی قسم کی بدنظمی یا سیکوریٹی خدشات سے بچا جا سکے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK