گلوبل صمود فلوٹیلا کا بحری بیڑا بارسلونا سے ۲۹؍ مارچ کو دوبارہ غزہ کیلئے روانہ ہوگا، سماجی کارکنوں نے جمعرات کو اس کا اعلان کیا، اس مرتبہ ہزاروں کارکنوں کی شرکت متوقع ہے۔
EPAPER
Updated: February 07, 2026, 3:04 PM IST | Gaza
گلوبل صمود فلوٹیلا کا بحری بیڑا بارسلونا سے ۲۹؍ مارچ کو دوبارہ غزہ کیلئے روانہ ہوگا، سماجی کارکنوں نے جمعرات کو اس کا اعلان کیا، اس مرتبہ ہزاروں کارکنوں کی شرکت متوقع ہے۔
گلوبل صمود فلوٹیلا کا امدادی بیڑا۲۹؍ مارچ کو بارسلونا سے جنگ زدہ غزہ کے لیے وسیع تر بین الاقوامی شرکت کے ساتھ دوبارہ روانہ ہوگا۔ سماجی کارکنوں نے جمعرات کو اس کا اعلان کیا۔گلوبل صمود کی کارکن سیمیہرا اکڈینیز اوردو نے جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ میں لائیو اسٹریم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ، ’’روانگی بارسلونا سے ہوگی، جو تاریخی نقطہ آغاز ہے، اس کے بعد تیونس، اٹلی اور دیگر بحیرہ روم کے بندرگاہوں سے ہوتی ہوئے ہم۲۹؍ مارچ کو سفر کریں گے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ’’اس بار ہمارے ساتھ ہزاروں شرکاء ہوں گے، جن میں ایک ہزار سے زائد ڈاکٹرز، نرسز اور صحت کے پیشہ ور افراد شامل ہیں۔ ہمارے ساتھ طبی پیشہ ور ہوں گے، ماحول دوست تعمیرات کے ماہرین ہوں گے اور جنگی جرائم کے تحقیقات کار بھی ہوں گے، جو گزشتہ مشن سے اسے مختلف بناتا ہے۔‘‘
کارکنوں نے امریکی صدر کی جانب سے مشرق وسطی کے تنازعے کے حل کی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے زور دیا کہ یہ اقدام ’’ٹرمپ پلان کا متبادل ہے،‘‘ کیونکہ اس میں فلسطینی شامل ہیں اور انہیں یہ فیصلہ کرنے دیتا ہے کہ ’’وہ اپنے وطن کی تعمیر نو کیسے کرنا چاہتے ہیں۔‘‘اس کے علاوہ ایک اور کارکن نے اعلان کیا کہ بحری مشن کے متوازی، زمین کے حوالے سے ایک تحریک ’’ نیوصمود لینڈ کونوو‘‘ بھی چلائی جائے گی۔انہوں نے وضاحت کی کہ اس نئے انسان دوست قافلے میں طبی امداد، خوراک اور دیگر تمام امدادی سامان شامل ہوگا جس کی غزہ والوں کو ضرورت ہے۔ ڈاکٹرز اور انجینئرز جیسے پیشہ ور افراد اس زمینی مشن کا حصہ بنیں گے جو شمالی افریقہ سے روانہ ہو کر مصر ہوتا ہوا رفح بارڈر کراسنگ تک جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: اولمپک مشعل میلان پہنچی، ایک گروہ کا غزہ سے اظہار یکجہتی
بعد ازاں انہوں نے مزید کہا کہ ایک دوسرا زمینی قافلہ جنوبی ایشیا سے روانہ ہوگا اور اس کی تفصیلات جلد ہی اعلان کی جائیں گی۔کارکن نے وضاحت کی کہ رفح کراسنگ اگرچہ کھلا ہونا چاہیے، لیکن اسرائیلی ریاست کی ہیرا پھیری کی وجہ سے وہاں ناقابل یقین تکلیف کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کا وہاں داخل ہونا اور نکلنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ ’’لہٰذا ان انسانی راستوں کی ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے، اور ہمیں دنیا بھر کے لوگوں کے طور پر اپنی ذمہ داری واقعی اٹھانی چاہیے۔‘‘کارکنوں میں سے ایک نے اپیل کی کہ"ہم جانتے ہیں کہ ترک عوام فلسطین سے محبت کرتے ہیں، فلسطینیوں سے محبت کرتے ہیں، غزہ سے محبت کرتے ہیں۔ اور ہم تمام ترک عوام سے بہت زیادہ توقعات رکھتے ہیں... اس لیے ہم ترک عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ متحرک ہوں۔‘‘ تاہم جنوری کے وسط میں، ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے کہا تھا کہ ان کی حکومت غزہ پٹی کے لیے اگلے صمود مشن میں براہ راست شامل ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے: فیشن برانڈ ’زارا‘ پرانتہا پسند اسرائیلی وزیر کو انتخابی امدادی فنڈ دینے کا الزام
واضح رہے کہ پہلا گلوبل صمود بحری مشن۲۰۲۵ء کے وسط میں شروع ہوا تھا، اور اکتوبر میں، اسرائیلی بحریہ نے انسان دوست امدادی بیڑے کے حصے کے طور پر۴۰؍ سے زیادہ کشتیوں پر حملہ کیا اور ان پر قبضہ کر لیا۔تل ابیب نے۴۵۰؍ سے زیادہ کارکنوں کو حراست میں لے لیا جو سوار تھے۔ بہت سے لوگوں نے اسرائیلی قابضوں کے ہاتھوں ہونے والے بدسلوکی کی کہانیاں سنائیں۔یہ بھی یاد رہے کہ اسرائیل نے تقریباً۲۴؍ لاکھ آبادی والے غزہ پر تقریباً۱۸؍ سال سے ناکہ بندی کر رکھی ہے اور مارچ میں اس نے محاصرہ سخت کر دیا جب اس نے بارڈر کراسنگز بند کر دیے اور خوراک اور ادویات کی ترسیل روک دی، جس سے علاقے کو قحط کیصورتحال پیدا ہوگئی۔
غزہ میں اسرائیلی نسل کشی۸؍ اکتوبر۲۰۲۳ء کو شروع ہوئی، جس میں تقریباً۷۲؍ ہزار فلسطینی شہید ہوگئے اور۱۷۱؍ ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے، جبکہ غزہ کے۹۰؍ فیصد سے زیادہ بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا گیا۔