Inquilab Logo Happiest Places to Work

آسٹریا نے ایران پر امریکی حملوں کیلئے فضائی حدود استعمال کرنے سے انکار کردیا

Updated: April 03, 2026, 12:57 PM IST | Vienna

آسٹریا نے ایران کے خلاف امریکی فوجی آپریشنز کیلئے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں، اس کی وجہ ملک کی عسکری غیر جانبداری کی پالیسی بتائی گئی ہے۔ یہ فیصلہ یورپ میں امریکہ کی فوجی کارروائیوں کے حوالے سے بڑھتی کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

وزارت دفاع نے جمعرات کو کہا کہ آسٹریا نے امریکی عسکری آپریشنز کیلئے ایران کے خلاف اپنے فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے اور اس کی وجہ ملک کے غیر جانبداری کے قانون کو بتایا۔ وزارت کے ترجمان نے تصدیق کی کہ واشنگٹن کی طرف سے ’کئی‘ درخواستیں موصول ہوئی ہیں لیکن تعداد کی وضاحت نہیں کی، جیسا کہ آسٹریائی عوامی براڈکاسٹر ORF نے رپورٹ کیا۔ ترجمان نے مزید کہا کہ ہر کیس کو الگ الگ جائزہ لیا جائے گا اور اسے آسٹریائی وزارت خارجہ کے ساتھ ہم آہنگی میں دیکھا جائے گا۔ 

یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز کو فوجی کارروائی سے کھولنا غیر حقیقت پسندانہ ہے: ایمانوئل میکرون

آسٹریا، جو طویل عرصے سے عسکری غیر جانبداری کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے، نے امریکی پروازوں پر عمومی پابندی عائد نہیں کی، لیکن ہر درخواست کو کیس بہ کیس بنیاد پر جائزہ لے رہا ہے۔ اپوزیشن جماعت سوشلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی (SPO) نے بھی حکومت سے کہا کہ موجودہ موقف برقرار رکھا جائے۔ سوون ہیرگووچ، ایلاؤسٹر آسٹریا میں SPO کے سربراہ نے کہا ’’وزیر دفاع کلاؤڈیا ٹینر (OVP) کو خلیج میں کسی بھی مزید امریکی فوجی پرواز کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔ نہ ہی کسی ٹرانسپورٹ فلائٹ یا دیگر لوجسٹک سپورٹ کی اجازت دینی چاہئے۔ بالکل ویسے ہی جیسے اسپین، فرانس، اٹلی اور سوئزرلینڈ کر رہے ہیں۔ یہ جنگ آسٹریا کے اقتصادی مفادات، پورے یورپ، اور عالمی امن کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: ایران کا ٹرمپ کی ’پتھر کے زمانے‘ کی دھمکی پر دوٹوک جواب، امریکہ کو خبردار کیا

اس سے قبل اس ہفتے، اسپین نے اس تنازع سے متعلق عسکری پروازوں کیلئے اپنے فضائی حدود بند کر دیئے تھے، جبکہ اٹلی نے امریکی طیاروں کی سسلی کے ایک اڈے پر لینڈنگ کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔ 
واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے۲۸؍ فروری سے ایران پر فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، جن میں اب تک ۱۳۴۰؍سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای بھی شامل ہیں۔ تہران نے اسرائیل کے ساتھ ساتھ اردن، عراق اور خلیجی ممالک میں امریکی عسکری اڈوں کو نشانہ بناتے ہوئے ڈرون اور میزائل حملوں کے ذریعے بدلہ لیا جس سے جانی و مالی نقصان ہوا اور عالمی منڈیوں اور ہوا بازی پر اثر پڑا۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK