• Wed, 28 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آسٹریا: ۱۴؍ سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی زیر غور

Updated: January 28, 2026, 6:01 PM IST | Vienna

آسٹریلیا اور فرانس کی طرح آسٹریا بھی ۱۴؍ سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی لگانے پر غور کر رہا ہے، حکومت کا ہدف نئے تعلیمی سال کے آغاز میں اس پابندی کو نافذ کرنا ہے جبکہ اسے عملی شکل دینے کے لیے تکنیکی حل زیرِ غور ہیں۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

آسٹریا میں ڈیجیٹل امور کے سیکرٹری الیگزنڈر پرول نے منگل کو سرکاری نشریاتی ادارے او آر ایف  کو بتایا کہ آسٹریلیا اور فرانس کی طرح آسٹریا بھی۱۴؍ سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی لگانے پر غور کر رہا ہے۔پرول نے اعلان کیا کہ حکومت کا ہدف نئے تعلیمی سال کے آغاز میں اس پابندی کو نافذ کرنا ہے جبکہ اسے عملی شکل دینے کے لیے تکنیکی حل زیرِ غور ہیں۔سیاسی جماعتوں کے ماہرین ایک تفصیلی خاکہ تیار کرنے کے لیے ملاقات کریں گے، جس میں عمر کی تصدیق کے طریقوں کے لیے آسٹریلیا کو ماڈل بنایا جائے گا۔ واضح رہے کہ آسٹریلیا میں صارفین کو شناختی دستاویزات فراہم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ پلیٹ فارمز چہرے اور آواز کی پہچان اور رویے کے تجزیے کا بھی استعمال کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: فیس بک، انسٹاگرام، وہاٹس ایپ؛ پریمیم فیچرز کیلئے جلد ہی ادائیگی کرنی پڑ سکتی ہے

دریں اثناء اتحاد کی جماعتیں آسٹریا کی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی (SPO) اور لبرل پارٹی پابندی کے اصول کی حمایت کررہی ہیں لیکن عملدرآمد پر اختلاف رکھتی ہیں۔لبرل پارٹی کے میڈیا ترجمان ہنرائیک برانڈسٹوٹر نے ڈیٹا اکٹھا کرنے کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے آسٹریلیائی ماڈل اپنانے کی مخالفت کی ہے، اور انہوں نے ’’ ای ایل ڈی‘‘ نظام کا انتظار کرنے کا مشورہ دیا ہے، جس کے ۲۰۲۷ء تک قابل عمل ہونے کی توقع ہے۔ بعد ازاںآسٹریا میں تجویز کردہ عمر کی حد پر بحث جاری ہے، پرول۱۴؍ سال کی حمایت کرتے ہیں، جو قانونی اہلیت کی عمر اور یورپی یونین کے جنرل ڈیٹا پروٹیکشن ریگولیشن (GDPR) کے مطابق ہے، جو رکن ممالک کو آن لائن ڈیٹا پروسیسنگ کے لیے رضامندی کی عمر۱۳؍ سے۱۶؍ سال کے درمیان طے کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر۲۰۲۶ ءکے آخر تک یورپی سطح پر کوئی حل طے نہیں ہوتا تو قومی پابندی نافذ کی جائے۔ 
 جبکہ دائیں بازو کی فریڈم پارٹی (FPO) نے اس منصوبے پر تنقید کی ہے، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ یہ اظہار کی آزادی کو محدود کرتا ہے، جبکہ گرینز پارٹی نے لازمی عمر کی تصدیق نہ کرنے والے اور قانون کا پاس نہ رکھنے والے پلیٹ فارم پر جرمانے کا مطالبہ کیا ہے۔یورپی یونین کی سطح پر،  ڈیجیٹل فضاء میں نابالغوں کی حفاظت کے لیے عمر کی حدود کو منظور کیا ہے۔یورپی پارلیمنٹ، جس نے پہلے سوشل نیٹ ورکس، ویڈیو پلیٹ فارم اوراے آئی چیٹ بوٹس کے لیے کم از کم عمر۱۳؍ سال رکھنے کا مطالبہ کیا تھا، یورپی کمیشن پر زور دے رہی ہے کہ وہ۲۰۲۶ء کے آخر تک عمر کی پابند حد مقرر کرے۔

یہ بھی پڑھئے: قطبی گرداب کا اثر، درجہ حرارت منفی ۲۰؍ ، نیاگرا آبشار منجمد

واضح رہے جکہ صدر ایمانوئل میکرون کی حمایت یافتہ ایک فرانسیسی بل کو پیر کو نیشنل اسمبلی کے ایوان زیریں نے منظور کر لیا۔ اس کا مقصد۲۰۲۶ء کے تعلیمی سال کے آغاز میں پابندی نافذ کرنا ہے، جبکہ تمام صارفین کے لیے مکمل عمر کی تصدیق یکم جنوری۲۰۲۷ء تک قائم ہونی ہے۔فرانس کے صدر میکرون نے ایکس کے ذریعے ملک میں پابندی کا خیرمقدم کیا، اسے فرانسیسی بچوں اور نوجوانوں کی حفاظت کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا۔ انہوں نے کہا’’کیونکہ ہمارے بچوں کے ذہن فروخت کے لیے نہیں ہیں۔ نہ امریکی پلیٹ فارم کے لیے، اور نہ ہی چینی نیٹ ورک کے لیے۔کیونکہ ان کے خوابوں پر  الگورتھم حکمرانی نہ کریں۔ کیونکہ ہم ایک پریشان نسل نہیں، بلکہ ایک ایسی نسل چاہتے ہیں جو فرانس، جمہوریہ اور اس کے اقدار پر یقین رکھتی ہو۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK