• Wed, 28 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

فیس بک، انسٹاگرام، وہاٹس ایپ؛ پریمیم فیچرز کیلئے جلد ہی ادائیگی کرنی پڑ سکتی ہے

Updated: January 28, 2026, 1:01 PM IST | California

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے اعلان کیا ہے کہ ۲۰۲۶ء میں وہ انسٹاگرام، فیس بک اور وہاٹس ایپ جیسے اپنے مقبول سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پریمیم سبسکرپشن ماڈل متعارف کرائے گا جس میں صارفین کو خاص اور نئے فیچرز استعمال کرنے کیلئے ادائیگی کرنی ہوگی، جبکہ بنیادی خدمات مفت رہیں گی۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا (Meta) نے اعلان کیا ہے کہ وہ ۲۰۲۶ء میں اپنے مقبول سوشل میڈیا پلیٹ فارمز انسٹاگرام، فیس بک اور وہاٹس ایپ میں پریمیم سبسکرپشن فیچرز کا تجربہ شروع کرے گا، جس میں صارفین کو خاص، نئے اور اہم فیچرز تک رسائی کے لیے ادائیگی کرنی ہوگی جبکہ بنیادی خدمات اب بھی مفت رہیں گی۔ میٹا کا کہنا ہے کہ یہ اقدام کمپنی کے کاروباری ماڈل میں اہم تبدیلی کی علامت ہے جس کے تحت وہ صرف اشتہارات پر انحصار چھوڑ کر سبسکرپشن ریونیو کی جانب بھی قدم بڑھا رہی ہے۔ اس نئی اسکیم کے تحت صارفین کو ہر ایپ میں مختلف پریمیم فیچرز اور اے آئی فیچرز فراہم کیے جائیں گے جو عام مفت استعمال کنندگان کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے۔میٹا کے مطابق ان پریمیم فیچرز میں مواد شیئرنگ پر مزید کنٹرول، تخلیقی ٹولز، اور اے آئی فیچرز تک رسائی شامل ہوسکتی ہے۔ مثال کے طور پر، انسٹاگرام پر ممکنہ طور پر صارفین کو لامحدود آڈینس لسٹ( ایسے فالورز کی فہرست دیکھنے کی صلاحیت جو آپ کو فالو نہیں کرتے، اور اسٹوریز کو گمنام طور پر دیکھتے ہیں) دیکھنے مل سکتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ایران میں انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن، روزانہ۲۰؍ ملین ڈالر سے زائد کا نقصان

واضح رہے کہ یہ نئی سبسکرپشن خدمات ’’میٹا ویریفائیڈ‘‘ سے الگ ہوں گی، جو فی الوقت موجودہ ایک ’’پے منٹ پلان ہے جس کا مقصد تخلیق کاروں اور کاروباری صارفین کے لیے توثیق، ترجیحی سپورٹ، شناختی تحفظ اور دیگر فوائد فراہم کرنا ہے۔ نئے سبسکرپشن ماڈلز عام صارفین کے تجربے کو بہتر بنانے اور انہیں زیادہ طاقتور ٹولز مہیا کرنے پر مبنی ہوں گے۔ میٹا نے اعلان کیا ہے کہ وہ مینس اے آئی (ایک طاقتور اے آئی ایجنٹ جسے کمپنی نے تقریباً ۲؍ ارب ڈالر میں حاصل کیا تھا) کو بھی اپنے پریمیم منصوبوں میں ضم کرے گا تاکہ صارفین کو زیادہ جدید مصنوعی ذہانت کے فیچرز فراہم کیے جا سکیں۔ اس اے آئی کی شمولیت سے صارفین کو خودکار تخلیقی کام، ویڈیو اور مواد بنانے میں مدد، اور دیگر انٹیلی جنس تجربات ممکن ہو جائیں گے۔ ابتدائی طور پر یہ سبسکرپشن سروسیز ٹیسٹنگ فیز میں متعارف کروائی جائیں گی۔ اس دوران صارفین کے تجربے کو بہتر بنانے کیلئے فیچرز کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔کمپنی نے ابھی قیمتوں کا اعلان نہیں کیا ہے لیکن امکان ہے کہ ہر پلیٹ فارم کے لیے الگ فیس یا پیکجز ہوں گے۔

یہ بھی پڑھئے: دنیا میں قانون کی حکمرانی کے بجائے جنگل راج عام ہو رہا ہے: انتونیو غطریس

میٹا کے اس فیصلے کا مقصد متنوع آمدنی کے ذرائع تیار کرنا اور اشتہارات کے علاوہ بھی مضبوط ریونیو جنریشن کے راستے تلاش کرنا ہے۔ خصوصاً ایسے وقت میں جب سوشل میڈیا صارفین کی توقعات بڑھ رہی ہیں اور اے آئی ٹولز کی مانگ میں اضافہ ہورہا ہے، میٹا اپنی خدمات کو مزید پریمیم اور ذاتی نوعیت کا بنانے پر کام کر رہا ہے۔ ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بنیادی سروسیز مفت رہیں گی، صارفین کو پریمیم فیچرز کے لیے ادائیگی کرنا ایک بڑا تجربہ ثابت ہوگا، خاص طور پر ایشیا اور ہندوستان جیسے زیادہ صارف والے ممالک میں۔ کمپنی کا ماننا ہے کہ ان فیچرز کی بدولت بہت سے صارفین سبسکرپشن لیں گے۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK