• Fri, 02 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

برطانیہ میں ڈیزل کی اوسط قیمت پہلی بار۲؍ پاؤنڈ فی لیٹر سے تجاوز کرگئی

Updated: October 02, 2026, 8:05 PM IST | London

برطانیہ میں ڈیزل کی قیمت نے ایک نیا ریکارڈ قائم کرتے ہوئے پہلی مرتبہ ۲؍پاؤنڈ فی لیٹر کی نفسیاتی حد عبور کرلی ہے۔ موٹرنگ تنظیم آر اے سی کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ۲؍ اکتوبر کو برطانیہ بھر میں ڈیزل کی اوسط پمپ قیمت ۰۱ء۲۰۰؍ پنس فی لیٹر تک پہنچ گئی۔

Diesel.Photo:INN
ڈیزل۔ تصویر:آئی این این

برطانیہ میں ڈیزل کی قیمت نے ایک نیا ریکارڈ قائم کرتے ہوئے پہلی مرتبہ  ۲؍پاؤنڈ فی لیٹر  کی نفسیاتی حد عبور کرلی ہے۔ موٹرنگ تنظیم آر اے سی  کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ۲؍ اکتوبر کو برطانیہ بھر میں ڈیزل کی اوسط پمپ قیمت ۰۱ء۲۰۰؍  پنس فی لیٹر  تک پہنچ گئی، جو ایک دن پہلے ۷۹ء۱۹۹؍پنس فی لیٹر تھی۔
یہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب عالمی سطح پر ایندھن کی رسد اور قیمتوں پر شدید دباؤ برقرار ہے۔آر اے سی  کے مطابق ڈیزل کی قیمت گزشتہ چند ہفتوں سے مسلسل بڑھ رہی ہے اور اب یہ جون ۲۰۲۲ء میں قائم ہونے والے۰۹ء۱۹۹؍  پنس فی لیٹر  کے سابقہ ریکارڈ سے بھی آگے نکل گئی ہے۔ جون ۲۰۲۲ء میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد عالمی توانائی منڈیوں میں شدید اتھل پتھل پیدا ہوئی تھی۔
 ڈیزل کی قیمت میں اضافے کا براہِ راست اثر برطانوی گاڑی مالکان کے ایندھن کے اخراجات پر پڑ رہا ہے۔آر اے سی  کے مطابق اوسط فیملی کار میں ۵۵؍ لیٹر ڈیزل  بھرنے کی لاگت اب تقریباً ۰۱ء۱۱۰؍  پاؤنڈ  ہوگئی ہے، جو ۲۸؍ فروری کے مقابلے میں تقریباً ۷۰ء۳۱؍ پاؤنڈ زیادہ  ہے۔ آر اے سی کے مطابق اوسطاً ۴۵؍ میل فی گیلن ایندھن استعمال کرنے والی ڈیزل گاڑی کے لیے فی میل خرچ تقریباً ۲۰؍پنس  تک پہنچ گیا ہے۔ اگر کوئی ڈرائیور سالانہ ء۱۰؍ہزار میل سفر کرتا ہے تو صرف ایندھن پر اس کا سالانہ خرچ تقریباً  ۲۰۲۰؍ پاؤنڈ  ہوتا ہے۔
 برطانیہ میں صرف ڈیزل ہی مہنگا نہیں ہوا بلکہ پیٹرول کی قیمت میں بھی اضافہ جاری ہے۔آر اے سی کے مطابق عام پیٹرول کی اوسط قیمت اب تقریباً۷۱ء۱۷۴؍ پنس فی لیٹر  ہے۔ اس حساب سے ۵۵؍ لیٹر کے ٹینک کو بھرنے پر تقریباً ۹۶؍ پاؤنڈ  خرچ ہوتے ہیں۔ تازہ فیول فائنڈر  اعداد و شمار بھی ڈیزل کی اوسط قیمت کو تقریباً ۱ء۲۰۰؍ پنس فی لیٹر  اور پیٹرول کو۸ء۱۷۴؍  پنس فی لیٹر  ظاہر کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:سجیت نے شاندار مقابلہ کرتے ہوئے کشتی میں طلائی تمغہ جیتا

 آر اے سی  کے پالیسی سربراہ سائمن ولیمز  نے کہا ہے کہ ۲؍پاؤنڈ فی لیٹر کی سطح وہ حد ہے جسے کوئی عبور نہیں کرنا چاہتا تھا۔ ان کے مطابق قیمتوں میں اضافے سے روزانہ طویل فاصلہ طے کرنے والے افراد، مال بردار ٹرانسپورٹ، ڈیلیوری کمپنیوں، بڑی گاڑیوں کے بیڑے رکھنے والے کاروبار اور چھوٹے کاروباری افراد سب متاثر ہوں گے۔ ایندھن کے بڑھتے اخراجات سے کاروباری اداروں کے لیے نقل و حمل اور ترسیل کی لاگت میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے، جس کا اثر بعض شعبوں میں اشیا اور خدمات کی قیمتوں پر بھی پڑنے کا خدشہ ہے۔
 رپورٹس کے مطابق برطانیہ میں ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ تیزی کا تعلق عالمی ایندھن کی رسد میں رکاوٹوں اور مشرق وسطیٰ کے بحران سے بھی ہے۔ برطانیہ اپنی سڑکوں کے لیے درکار ڈیزل کا تقریباً ۵۵؍فیصد درآمد  کرتا ہے، اس لیے عالمی منڈی میں سپلائی میں کمی یا برآمدی پابندیوں کا براہِ راست اثر برطانوی صارفین پر پڑ سکتا ہے۔ اس صورتحال میں  آبنائے ہرمز   کے ذریعے توانائی کی ترسیل میں رکاوٹ، روسی ڈیزل برآمدات میں کمی اور عالمی منڈی میں سپلائی کے خدشات نے ایندھن کی قیمتوں پر دباؤ بڑھایا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:شری رام کو دُھرندھر بنا دیا، مکیش کھنہ نے ’’رامائن‘‘ کے وی ایف ایکس پرسوال اٹھائے

برطانیہ اور بعض یورپی ممالک میں بڑھتی ہوئی ڈیزل قیمتوں کے درمیان ہنگامی ایندھن ذخائر استعمال کرنے کے معاملے پر بھی بات چیت ہوئی ہے۔ ادھر برطانوی حکومت نے ملک میں ڈیزل کی فراہمی کو مضبوط اور لچکدار  قرار دیتے ہوئے قلت کے خدشات کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔دوسری جانب برطانیہ کی  اے اے  کے مطابق یکم اکتوبر کو ملک کے تقریباً ایک تہائی پیٹرول اسٹیشنز پر ڈیزل کی قیمت ۲؍ پاؤنڈ فی لیٹر یا اس سے زیادہ  درج کی گئی تھی، تاہم تقریباً دو تہائی اسٹیشنز پر قیمت اس حد سے کم تھی۔ تنظیم نے صارفین کو مختلف پیٹرول اسٹیشنز کی قیمتوں کا موازنہ کرنے کا مشورہ دیا ہے کیونکہ قریبی اسٹیشنز کے درمیان بھی فی لیٹر کئی پنس کا فرق ہوسکتا ہے۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے بعد آر اے سی  نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈرائیورس اور کاروباری اداروں پر بڑھتے مالی دباؤ کو کم کرنے کے لیے  فیول ڈیوٹی  میں مزید کمی یا  وی اے ٹی  میں کمی جیسے اقدامات پر غور کیا جائے۔آر اے سی  کے مطابق مہنگے ایندھن کے ساتھ بجلی اور گیس کے بڑھتے بل بھی گھرانوں کے بجٹ پر اضافی دباؤ ڈال رہے ہیں۔  برطانیہ میں ڈیزل کی اوسط قیمت کا پہلی بار ۲۰۰؍ پنس فی لیٹر  سے تجاوز کرنا نہ صرف ڈرائیوروں کے لیے بڑھتے ہوئے اخراجات کی علامت ہے بلکہ عالمی توانائی منڈی میں جاری رسد کے دباؤ اور جغرافیائی کشیدگی کے برطانوی صارفین پر پڑنے والے اثرات کو بھی نمایاں کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK