• Fri, 02 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

شری رام کو دُھرندھر بنا دیا، مکیش کھنہ نے ’’رامائن‘‘ کے وی ایف ایکس پرسوال اٹھائے

Updated: October 02, 2026, 6:10 PM IST | Mumbai

نیتیش تیواری کی انتہائی متوقع فلم ’’رامائن‘‘ کا ٹریلر سامنے آنے کے بعد اس میں دکھائے گئے ایکشن مناظر، بصری اثرات(وی ایف ایکس) اور بھگوان شری رام کے کردار کی پیشکش پر بحث شروع ہوگئی ہے۔ اسی دوران معروف اداکارمکیش کھنہ نے بھی فلم کے ٹریلر پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

Ramayan And Mukesh.Photo:INN
مکیش کھنہ اور رامائن۔ تصویر:آئی این این

نیتیش تیواری کی انتہائی متوقع فلم ’’رامائن‘‘ کا ٹریلر سامنے آنے کے بعد اس میں دکھائے گئے ایکشن مناظر، بصری اثرات(وی ایف ایکس)  اور بھگوان شری رام کے کردار کی پیشکش پر بحث شروع ہوگئی ہے۔ اسی دوران معروف اداکارمکیش کھنہ  نے بھی فلم کے ٹریلر پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ مکیش کھنہ، جو ’’مہابھارت‘‘ میں بھیشم پتا مہ کا کردار ادا کرنے کے لیے مشہور ہیں، نے ایک گفتگو میں کہا کہ فلم میں شری رام کو روایتی اور باوقار انداز میں پیش کرنے کے بجائے ایکشن ہیرو کی طرح دکھایا گیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:ہندوستان کی نظر برازیل کے خلاف توقعات سے بڑھ کر کارکردگی دکھانے پرمرکوز

مکیش کھنہ نے خاص طور پر ٹریلر کے ایکشن سیکوئنس پر اعتراض کیا۔ ان کے مطابق شری رام ایک ماہر تیرانداز اور جنگجو ضرور تھے، لیکن ٹریلر میں جس انداز سے انہیں ایکشن کرتے دکھایا گیا ہے، وہ ان کی نظر میں روایتی ’’رامائن‘‘ کی پیشکش سے میل نہیں کھاتا۔ انہوں نے ایک منظر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شری رام کو درخت پر چڑھ کر تیر چلاتے دکھایا گیا ہے، جبکہ انہوں نے ’’ رامائن‘‘ پڑھنے اور رام لیلا دیکھنے کے باوجود ایسا منظر پہلے نہیں دیکھا۔ 
مکیش کھنہ نے اسی تناظر میں کہا کہ  ’’شری رام کو دُھرندھر بنا دیا ہے‘‘  اور ان کا موازنہ سلمان خان، امیتابھ بچن اور رجنی کانت جیسے بڑے ایکشن اداکاروں سے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شری رام کو  ’’مریادا پرشوتم‘‘  کے طور پر پیش کیا جانا چاہیے اور ان کی شخصیت کی روحانی و باوقار شبیہ کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ 
اداکار نے فلم کے  بھاری وی ایف ایکس  پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کے مطابق بین الاقوامی ناظرین کسی بڑے پیمانے پر بنائی گئی فلم کو ایک فینٹسی یا بصری تماشے کے طور پر دیکھ سکتے ہیں، لیکن ہندوستانی ناظرین کے لیے شری رام کا کردار مذہبی اور ثقافتی عقیدے سے جڑا ہوا ہے۔ اسی لیے ان کے مطابق ہندوستان میں ’’رامائن‘‘ پیش کرتے وقت صرف جدید ٹیکنالوجی اور خصوصی اثرات کے بجائے عقیدت، احترام اور کردار کی روایتی عظمت کو بھی اہمیت دینی چاہیے۔ مکیش کھنہ نے یہ بھی کہا کہ اگر شری رام کو صرف ایک  ’’مین آف ایکشن‘‘  کے طور پر پیش کیا جائے تو ان کی روایتی شناخت متاثر ہوسکتی ہے۔ ان کے تبصرے میں یہ سوال بھی شامل تھا کہ اگر رام کو اس قدر ایکشن ہیرو کے طور پر دکھایا جائے تو پھر رامائن میں واندَر سینا کی مدد کی ضرورت کیوں پیش آتی۔’’رامائن‘‘ میں  رنبیر کپور شری رام اور سائی پلوی   سیتا کے کردار میں نظر آئیں گے۔ فلم کی ہدایت کاری نیتیش تیواری کر رہے ہیں، جبکہ اس بڑے بجٹ کے منصوبے کو دو حصوں میں پیش کرنے کی تیاری ہے۔ فلم کے پیمانے، کاسٹ اور وی ایف ایکس کے باعث ریلیز سے قبل ہی اس کے بارے میں خاصی دلچسپی پیدا ہوچکی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:مادھوری دکشت نے ’’کون بنے گا کروڑ پتی‘‘ کی شوٹنگ شروع کردی

مکیش کھنہ کے تازہ تبصروں نے ’’رامائن‘‘ کے ٹریلر کے گرد جاری گفتگو میں ایک نیا پہلو شامل کردیا ہے۔ جہاں فلم کے بڑے پیمانے کے وی ایف ایکس اور عالمی سطح پر پیش کرنے کی کوشش توجہ حاصل کر رہی ہے، وہیں شری رام کے کردار کو کس انداز میں پردۂ سیمیں پر پیش کیا جائے، اس حوالے سے مکیش کھنہ کی رائے بھی بحث کا موضوع بن گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK