رِہا ہوتے ہی ۴۰؍ منٹ میں گرفتاری اور ۱۴؍ دنوںکی عدالتی تحویل کو چیلنج کیا، مگر یوپی سرکار تحویل میں رکھنے کیلئے کوشاں، رامپور پولیس بھی ریمانڈ مانگے گی۔
EPAPER
Updated: November 03, 2026, 9:32 AM IST | Hamidullah Siddiqui/Agency | Luckhnow/New Delhi
رِہا ہوتے ہی ۴۰؍ منٹ میں گرفتاری اور ۱۴؍ دنوںکی عدالتی تحویل کو چیلنج کیا، مگر یوپی سرکار تحویل میں رکھنے کیلئے کوشاں، رامپور پولیس بھی ریمانڈ مانگے گی۔
سماج وادی پارٹی بانیوں میں شامل سینئر لیڈر اور سابق وزیر محمد اعظم خان نے رامپور جیل سے رہا ہوتے ہی جیل کے باہر ۴۰؍ منٹ میں گرفتار کئے جانےا ور غازی آباد کورٹ کے ذریعہ ۱۴؍ دنوں کی عدالتی تحویل میں بھیجے جانے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ پیر کو چیف جسٹس سوریہ کانت اس پر اسی ہفتے سماعت کیلئے تیار ہوگئے۔ ایک طرف جہاں اعظم خان قیدو بند سے نجات کی کوشش کررہے ہیں وہیں دوسری جانب یوگی سرکار انہیں رہا نہ ہونے دینے کی تیاریوں میں جٹی ہوئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ای ڈی کے بعد اب رامپور پولیس ان کو ریمانڈ میں لینے کیلئے مقامی عدالت میں درخواست داخل کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
نئے نئے کیس قید میںرکھنے کی سازش
اعظم خان کی پیروی کرتے ہوئے ان کے وکیل نظام پاشا نے الزام لگایا کہ اترپردیش حکومت انہیں مسلسل جیل میں رکھنے کیلئے نئے نئے کیس زندہ کررہی ہے۔ ۷۸؍ سالہ لیڈر کی ۳۱؍ اکتوبر کوجیل سے رہا ہوتے ہی کی گئی گرفتاری کو انہوں نے غیر قانونی قرار دیا اورکہا کہ یہ معاملہ۷؍ سال پرانی ایف آئی آر سے نکالا گیا ہے جو اعظم خان کے خلاف درج ہونے والا۸۸؍واں مقدمہ تھا۔ اس سے پہلے ۸۷؍ ایف آئی آر میں وہ ملزم بنائے جاچکے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: دریائے اجنار کی صفائی کرتے ہوئے بٹو تباہی کی صحت متاثر، جِلدی امراض میں مبتلا
تازہ گرفتاری کا سیاسی مقصد
ایڈوکیٹ پاشا نے اس کارروائی کو یوپی اسمبلی انتخابات سے جوڑتے ہوئے نشاندہی کی کہ گرفتا ری کا سیاسی مقصد بھی ہے۔ انہوں نے عدالت کو یاد دلایا کہ سپریم کورٹ اس سے پہلے بھی اعظم خان کو راحت دے چکا ہے۔چیف جسٹس سوریہ کانت نے معاملہ کی اسی ہفتے شنوائی کا وعدہ کرتےہوئے سوال کیا کہ اعظم خان الہ آباد ہائی کورٹ جانے کے بجائے براہ راست سپریم کورٹ سے کیوں رجوع ہوئے جبکہ ہائی کورٹ نے حال ہی میں انہیں ضمانت دی ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ’’ہائی کورٹ پر بھروسہ رکھئے ، اسی نے راحت دی ہے۔‘‘
اعظم خان اب کس کیس میں گرفتار ہیں؟
اعظم خان کو اب منی لانڈرنگ کے کیس میں گرفتارکیاگیا ہے۔ یہ معاملہ مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی سے متعلق ہے۔ ای ڈی کاالزام ہے کہ عوامی کاموں کیلئے مختص سرکاری فنڈکا رُخ یونیورسٹی کی تعمیر کی جانب موڑ دیا گیا۔ ایجنسی کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اعظم خان نے شہری ترقیات کے وزیر اور اترپردیش جل نگم پر اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے یہ کام کیا۔