• Mon, 02 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دریائے اجنار کی صفائی کرتے ہوئے بٹو تباہی کی صحت متاثر، جِلدی امراض میں مبتلا

Updated: November 02, 2026, 5:10 PM IST | Indor

دریائے اجنار کو کچرے سے پاک کرنے کی تنہا مہم چلانے والے نوجوان بٹو تباہی کو آلودہ پانی میں صفائی کے باعث جلدی امراض اور جسمانی تکالیف کا سامنا ہے۔ کئی ماہ کی محنت اور صحت کی قربانی کے باوجود دریا میں دوبارہ کچرا جمع ہونے لگا ہے، مگر بٹو نے صفائی مہم ترک نہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

مدھیہ پردیش کے شہر بیاورا کے رہنے والے۲۰؍ سالہ نوجوان سریندر سنگھ چودھری، جو سوشل میڈیا پر ’بٹو تباہی‘ (Bittu Tabahi) کے نام سے مشہور ہیں، عوامی مقامات پر گندگی پھیلانے کے خلاف اپنی انفرادی مہم کے دوران صحت کے مسائل سے دوچار ہوگئے ہیں۔ دریائے اجنار (Ajnar River) کی صفائی کیلئے ان کی مسلسل کوششیں اب ان کی جسمانی صحت پر اثر انداز ہونے لگی ہیں۔ دریا کے آلودہ پانی میں اتر کر کچرا نکالنے اور صفائی کا کام کرنے کے نتیجے میں انہیں جلد کے مسائل اور جسمانی درد کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کی حالت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہیں ہر رات سونے سے پہلے دوائیں استعمال کرنی پڑتی ہیں۔ 
صفائی مہم کا آغاز
ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق، بٹو تباہی نے۲۶؍ جنوری۲۰۲۶ء کو دریائے اجنار کی صفائی کا کام شروع کیا تھا۔ وہ بیاورا شہر کے ایک ایسے حصے کی صفائی میں مصروف ہوگئے تھے جہاں پلاسٹک کی بوتلیں، تھیلیاں، کچرا، آبی کائی اور دیگر ٹھوس فضلہ جمع ہوکر دریا کے بہاؤ میں رکاوٹ بن رہا تھا۔ انہوں نے اس کام کیلئے کسی سرکاری مشینری، ادارہ جاتی مالی مدد یا باقاعدہ مہم کا سہارا نہیں لیا بلکہ بنیادی آلات اور بعض اوقات اپنے ہاتھوں سے ہی کچرا نکالنا شروع کیا۔

یہ بھی پڑھئے: مروڈ: تاریخی جنجیرہ قلعہ پر مستقل طورپربھگوا جھنڈا لگانے کا مطالبہ

سوشل میڈیا پر شہرت، مگر صحت متاثر
بٹو کی صفائی مہم کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئیں۔ دریا کی صفائی سے پہلے اور بعد کی تصاویر دیکھ کر ملک اور بیرون ملک کے لوگوں نے ان کی کوششوں کو سراہا۔ تاہم، مسلسل آلودہ پانی اور کچرے کے رابطے میں رہنے کی وجہ سے ان کے ہاتھوں اور پیروں کی جلد متاثر ہوگئی۔ انہیں مسلسل خارش اور درد کی شکایت رہنے لگی ہے۔ بٹو نے ٹائمز آف انڈیا کو بتایا کہ ان کے ہاتھوں اور پیروں میں ہونے والی خارش اور تکلیف انہیں شدید پریشانی میں مبتلا کرتی ہے۔ انہیں ہر رات سونے سے پہلے دوائیں لینی پڑتی ہیں تاکہ اگلی صبح اٹھ کر دوبارہ دریا کی صفائی کیلئے جاسکیں۔ 
والدین صحت کے حوالے سے فکرمند
بٹو کے والدین بھی ان کی صحت کو لے کر کافی پریشان ہیں۔ وہ انہیں گندے پانی میں اترنے اور کچرا نکالنے سے منع کرتے ہیں، کیونکہ اس کام کے باعث ان کی صحت متاثر ہورہی ہے۔ تاہم، بٹو نے اپنے والدین کو یہ بتانا بھی مناسب نہیں سمجھا کہ وہ اب تک صفائی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ والدین ان کی صحت کے حوالے سے پہلے ہی بہت فکر مند ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ ان کی وجہ سے انہیں مزید پریشانی ہو۔ اس کے باوجود وہ دریا کو دوبارہ کچرے کا ڈھیر بنتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے۔

یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: ایف ڈی اے کی کارروائی، ایکسپائر غذائی اشیاء ضبط

صفائی کے بعد دوبارہ کچرا جمع ہونے سے مایوسی
بٹو نے کئی مہینوں کی محنت سے دریا کے ایک حصے سے بڑی مقدار میں ٹھوس اور پلاسٹک کا کچرا نکالا تھا، لیکن اکتوبر میں یہ خبریں سامنے آئیں کہ جس حصے کو انہوں نے صاف کیا تھا وہاں دوبارہ پلاسٹک اور دیگر کچرا جمع ہونے لگا ہے۔ ان کے مطابق، یہ صورت حال انتہائی افسوس ناک ہے، کیونکہ انہوں نے بغیر کسی سرکاری مشینری یا مالی امداد کے اپنی محنت سے دریا کو صاف کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مہم انہوں نے سوشل میڈیا پر شہرت حاصل کرنے کیلئے شروع نہیں کی تھی بلکہ دریا ان کے شہر کی شناخت کا حصہ ہے اور وہ اس کے پانی میں کچرا جمع ہوتے ہوئے برداشت نہیں کرسکتے۔ بار بار کچرا پھینکے جانے سے انہیں محسوس ہوتا ہے کہ ان کی ساری محنت ضائع ہورہی ہے۔ 
کوڑے دان رکھنے کے باوجود نہیں بدلی لوگوں کی عادت
دریا میں کچرا پھینکنے کی عادت کو روکنے کیلئے بٹو نے اپنے خرچ پر دریا کے کنارے کوڑے دان بھی نصب کئےتھے، تاکہ لوگ کچرا پانی میں پھینکنے کے بجائے ان میں ڈالیں۔ تاہم، ان کی اس کوشش کے باوجود لوگ دریا میں کچرا پھینکنے سے باز نہیں آئے۔ اس صورت حال نے انہیں مزید مایوس کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’ووٹ بچاؤ،دیش بچاؤ ریلی‘ میں دیگر مسائل پر بھی آواز بلند کی گئی، دوردراز سے لوگ آئے

ہمت اب بھی برقرار
صحت کے مسائل اور مسلسل مایوسی کے باوجود بٹو نے صفائی مہم ترک نہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کا جسم تکلیف میں ضرور ہے، لیکن ان کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ جب تک دریا میں کچرے کا ایک ذرہ بھی موجود ہے، وہ اپنی استطاعت کے مطابق اسے صاف کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ دریا کے پانی میں کچرا نہ پھینکیں اور صفائی کے معاملے میں اپنی ذمہ داری محسوس کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر لوگ بیدار ہوجائیں اور انہیں تعاون فراہم کریں تو کسی طالب علم کو دریا کی صفائی کیلئے اپنی صحت خطرے میں ڈالنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ 
انتظامیہ اور عوامی تعاون کی ضرورت
رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ دریا کی صفائی جیسے بڑے کام کی ذمہ داری صرف کسی ایک فرد پر نہیں ڈالی جاسکتی۔ اس کیلئے بلدیاتی اداروں کی مستقل مدد، کچرے کو ٹھکانے لگانے کے مناسب انتظامات، عوامی بیداری اور مقامی لوگوں کی عملی شرکت ضروری ہے۔ بٹو تباہی کی جدوجہد نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ آخر عوامی مقامات کو صاف رکھنے کی ذمہ داری ہر شہری کیوں محسوس نہیں کرتا؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK