Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’اعظم خان پر فرضی مقدمہ ، عرفان اور رما کانت کو سیاسی رنجش کے تحت جیل بھیجا گیا ‘‘

Updated: March 25, 2026, 1:02 PM IST | Abdullah Arshad | Lucknow

اکھلیش یادو نےالزام عائد کیا کہ اترپردیش میں قانون کا راج نہیں، صرف فرضی انکائونٹر کے ذریعہ امن و امان کی دہائی دی جارہی ہے ۔

Akhilesh Yadav.Photo:INN
اکھلیش یادو۔آئی این این
 سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نےمنگل کو ایک بار پھر اتر پردیش کی یوگی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انھوںنے کہاکہ سیاسی رنجش میں سابق ریاستی وزیر محمد اعظم کے خلاف فرضی مقدمے درج کرائے گئے اور پارٹی کے ممبر اسمبلی عرفان سولنکی اور رما کانت یادو کو جیل بھیجا گیا۔ انہوں نے سماجوادی پارٹی کے عہدیداروں اور کارکنوں کو فرضی معاملوں میں پھنسانے کا الزام لگاتے ہوئے کہاکہ اتر پردیش میں قانون کا راج قائم کرنے کے نام پر لوگوں کے فرضی انکائونٹر کئے جا رہے ہیں۔  ریاست میں امن و امان نام کی کوئی چیز نہیں رہ گئی ہے پولیس اور افسران بدعنوانی میں ملوث ہیں ۔  انھوںنے جھانسی اور دوسرے انکائونٹروں کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ حکومت کے اسی طریقہ کار کی وجہ سے تلخیوں میں مزید اضافہ ہو رہا ہے اس کیلئے بی جے پی خود ذمہ دار ہے ۔ 
 
 
ایک پروگرام کے دوران انہوں نے سیاسی پارٹیوںمیں بڑھ رہی تلخیوں کیلئے بی جے پی کو ذمہ دار قراردیتے ہوئےکہا کہ بی جے پی کی حکومت خود ان تلخیوں کو بڑھانے کا کام کررہی ہے۔ انھوں نے کہاکہ بی جے پی حکومت اور اس کے لیڈران حزب اختلاف کے لیڈروں کو فرضی معاملوں میں پھنسانے کا کام کر رہے ہیں۔ انھوں نے سابق ریاستی وزیر اورپارٹی کے سینئر لیڈر محمد اعظم خان کا نام لیتے ہوئےکہاکہ ان کے خلاف کس نے فرضی مقدمے درج کرائے، کس نے ان کی یونیورسٹی کو بند کرایا، پارٹی کے ممبر اسمبلی عرفان سولنکی کو معمولی تنازع میں جیل بھیج دیا گیا ، رما کانت یادو کو ۲۵ ؍سال پرانے معاملے میں جیل بھیجنے کا کام کس نے کیا، روز کسی نا کسی لیڈر یا کارکن کے خلاف فرضی مقدمے درج کرائے جارہے ہیں ۔ 
 
 
انھوںنے یوگی حکومت کو آڑے ہاتھوںلیتے ہوئے کہا کہ یوپی میں قانون کا راج ہے صرف یہ ثابت کرنے کیلئے حکومت کے اشارے پر فرضی انکائونٹر کرائےجارہے ہیں۔ فرضی انکائونٹر کے معاملہ میںیوپی اوّل نمبر پر ہے جبکہ پولیس محکمہ پوری طرح سے بدعنوانی میں پھنسا ہو اہے ، ایک کانسٹبل کے پاس سو کروڑ روپے  برآمد ہو رہے ہیں، لیکھ پال کے پاس سے کروڑوں روپے نکل رہے ہیں اور ایک وکیل جیل میں بند ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس دن ہم لوگ آواز اٹھانا بند کردیں گےاسی  دن وہ  وکیل بھی منگیش یادو کی طرح ماردیا جائے گا۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK