گرانٹ روڈ پر واقع ۱۱۲؍ سال پرانا مشہور ایرانی کیفے بند ہونے کی خبریں منطر عام پر ہیں۔ مڈڈے کی رپورٹ کے مطابق یہ کیفے جلد ہی بند ہو سکتا ہے۔
EPAPER
Updated: January 19, 2026, 9:53 PM IST | Mumbai
گرانٹ روڈ پر واقع ۱۱۲؍ سال پرانا مشہور ایرانی کیفے بند ہونے کی خبریں منطر عام پر ہیں۔ مڈڈے کی رپورٹ کے مطابق یہ کیفے جلد ہی بند ہو سکتا ہے۔
مڈڈے کی ایک رپورٹ کے مطابق گرانٹ روڈ پر واقع ۱۱۲؍ سال پرانا مشہور ایرانی کیفے بی میروان اینڈ کمپنی جلد ہی بند ہو سکتا ہے۔ بومن میروان کے بنیاد کردہ میروان اینڈ کمپنی ایرانی کیفے کو پچھلے ہفتے کے آخر میں بند دیکھ کر مستقل گاہک حیران ہو گئے۔ گاہکوں نے پایا کہ وہاں ایک نوٹس چسپاں کیا گیا کہ کیفے اب بند ہے۔ ۲۰۱۴ء میں مڈڈے نے اطلاع دی تھی کہ کیفے اب بند ہونے کے قریب ہے، صرف مرمت کے بعد ہی دوبارہ کھلے گا۔ تاہم اب لوگ حیران ہیں کہ یہ حقیقت ہو سکتا ہے۔ مڈڈے نے بتایا کہ جب ہم پارسی ایرانی کیفے بانیان کمیونٹی کے ممبران سے ملے، تو انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ خبر اپنے مستقل گاہکوں کے ذریعے سننے کو ملی۔
کئی لوگوں نے کہا کہ یہ شہر کے ایرانی کیفے کلچر کے ایک دور کے خاتمے کی علامت ہے۔ کھانے کے شائقین کو اس بات کا افسوس رہے گا کہ اس کیفے کا ماوا کیک اور بن مسکا چائے آخری بار کھانے سے محروم رہے۔ واضح ہو کہ یہ کیفے اپنے ماوا کیک کیلئے مشہور ہے، جو عام طور پر دوپہر تک ختم ہو جاتے ہیں۔ اگرچہ پرانے وقت کے لوگوںکو لکڑی کی میزیں جس کی اوپری سطح شیشے کی ہو، منفرد ایرانی کرسیاں، چار خانوں والےسرخ ٹیبل کلاتھ اور بلاشبہ، پسندیدگی کے ساتھ کھانا یاد ہو سکتا ہے، لیکن اس کیفے کی پیشکش پیسوں کے معاملے میں دیگر سے آسان تجربہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ممبئی میں اب بھی ادھو شیو سینا ،شندے سے زیادہ مقبول
گرانٹ روڈ، شہر کے قدیم ترین اسٹیشنوں میں سے ایک ہے، اور ایک وقت تھا جب اسٹیشن کے باہر ہیک وکٹوریہ (گھوڑوں سے چلنے والی گاڑیاں) اور ٹیکسی اسٹینڈ ہوتا تھا۔ تاہم ٹرینیں وہاں کچھ زیادہ وقت کیلئے رکتی تھیں تاکہ لوگ میروان کیفے سے اشیاء خرید سکیں۔ بدلتے وقت، عصری مسائل، جائیداد کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، ریسٹورنٹ کے عملے کی کمی، نئی نسل کی پرانی نسل سے عہدہ سنبھالنے کی خواہش اور دیگر کئی عوامل نے مل کر ایرانی کیفے کو ممبئی کے کھانے کے شائقین کے نقشے سے ہٹا دیا ہے۔ برون پاؤ اور مسکا پاؤ کیلئے مشہور اس کیفے کا بند ہونا ہمیں یاد دہانی کراتا ہے کہ ہم دھیرے دھیرے پرانی چیزوں کو فراموش کرتے جا رہے ہیں۔