کمرشیل گیس سلنڈر نہ ملنے سے گاہک اور ملازمین کو دشواریوں سے بچانے کیلئے ہوٹل مالکن کی کوشش۔
EPAPER
Updated: March 16, 2026, 3:19 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Badlapur
کمرشیل گیس سلنڈر نہ ملنے سے گاہک اور ملازمین کو دشواریوں سے بچانے کیلئے ہوٹل مالکن کی کوشش۔
ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے اثرات اب پوری دنیا میں محسوس کئے جا رہے ہیں۔ ملک بھر میں ایل پی جی کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ رسوئی گیس کے ساتھ ساتھ ہوٹلوں کو فراہم کی جانے والی کمرشیل گیس کی سپلائی بھی متاثر ہوئی ہے۔ سلنڈر دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے ہوٹل مالکان اپنے ہوٹل بند کررہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں جہاں ہوٹل مالکان کا نقصان ہو رہا ہے وہیں ان پر منحصر ملازمین بھی بے روزگاری کا شکار ہو رہے ہیں۔ لیکن ایسے وقت میں بدلاپور کی ایک ہوٹل مالکن نے اس کا ایک بہترین حل نکال لیا ہے۔ اس حل سے نہ صرف ان کا ہوٹل کھلا رہے گا بلکہ کسی ملازم پر فاقہ کشی کی نوبت بھی نہیں آئے گی۔
یہ بھی پڑھئے: پی این جی اور سی این جی کی سپلائی میں بھی کٹوتی
مشرقی وسطی کے حالات کے نتیجے میں سپلائی چین متاثر ہونے سے کمرشیل گیس سلنڈروں کی فراہمی تقریباً معطل ہو کر رہ گئی ہے۔ اس صورتحال سے دل برداشتہ ہو کر کئی ہوٹل مالکان نے اپنے کاروبار بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کی وجہ سے یومیہ اجرت پر کام کرنے والےہزاروں ملازمین کے سامنے فاقہ کشی کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ بدلاپور میں بھی صورتحال مختلف نہ تھی جہاں ہوٹل مالکان اس مخمصے میں تھے کہ گیس سلنڈر کے بغیر کاروبار کیسے چلایا جائے۔ ایسے وقت میں ہوٹل مالکن انیتا انوسے نے حالات کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بجائے مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ انیتا نے اپنے ہوٹل کے باہر ہی روایتی مٹی کا چولہا تیار کر لیا ہے اور اب وہ اسی قدیم طریقے سے گاہکوں کے لئے لذیذ پکوان تیار کر رہی ہیں۔ اس بارے میں انیتا انوسے نے بتایا کہ اگر میں گیس کی قلت کا بہانہ بنا کر ہوٹل بند کر دیتی تو میرے یہاں کام کرنے والے درجنوں ملازمین کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہو جاتے۔ اس کے علاوہ میرے مستقل گاہک جو روزانہ ناشتے اور کھانے کے لئے مجھ پر بھروسہ کرتے ہیں وہ کہاں جاتے؟ اس لئے میں نے فیصلہ کیا کہ حالات جیسے بھی ہوں میں پیچھے نہیں ہٹوں گی۔ انیتا کی اس کوشش کی ہر کوئی تعریف کر رہا ہے۔