Inquilab Logo Happiest Places to Work

پی این جی اور سی این جی کی سپلائی میں بھی کٹوتی

Updated: March 16, 2026, 11:23 AM IST | Nadeem Asran | Mumbai

گیس بھرنے کے ۱۸؍ سے زائداسٹیشن بند۔ سپلائی میں کمی کے سبب شہر اور اطراف کے علاقوں کے۳؍لاکھ رکشے اور۵؍لاکھ سے زائد چار پہیہ گاڑیاں متاثر۔

Following the shortage of cooking gas, the supply of gas through pipes to consumers has also been cut. Photo: INN
رسوئی گیس کی قلت کے بعدصارفین کو پائپ سے سپلائی کی جانے والی گیس میں بھی کٹوتی کردی گئی ہے۔ تصویر: آئی این این

ایران، امریکہ اور اسرائیل جنگ کے سبب رسوئی گیس سلنڈر نہ ملنے سے شہری، ہوٹل اور ریسٹورنٹ مالکان یا چھوٹے پیمانے پر کاروبار کرنے والے افراد پہلے ہی گیس کی قلت سے پریشان ہیں ، اب شہر اور مضافات کی فلک بوس عمارتوں میں رہنے والوں کے ساتھ وہ تجارتی ادارے جنہیں پائپ کے ذریعہ گیس (پی این جی) سپلائی کی جاتی ہے، میں بھی کٹوتی شروع کردی گئی ہے جس سے انہیں دشواریاں پیش آسکتی ہیں۔ 
بھارت اور ایچ پی کے گیس سلنڈروں کی قلت سے پریشان حال لاکھوں صارفین گیس ایجنسیوں پر لمبی قطاریں لگا کر گھنٹوں انتظار کے بعد سلنڈر حاصل کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں اور اب شہر اور مضافات میں پائپ لائنوں کے ذریعہ گھریلو گیس کا استعمال کرنے والے تقریباً ۳۰؍ لاکھ صارفین کو پائپ لائن سے گیس سپلائی میں ۱۰؍ فیصد کی کٹوتی کردی گئی۔ پی این جی کے علاوہ اب سی این جی کی مدد سے رکشا اور چار پہیہ گاڑی کے لاکھوں ڈرائیوروں اور مالکان بھی گیس کی قلت سے بری طرح متاثر ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: بی ایم سی میٹھی ندی کی صفائی کا ذمہ ناتجربہ کار ٹھیکیداروں کو دینے کیلئے تیار

جنگ کے سبب پیدا ہونے والے بحران سے مہانگر گیس لمیٹڈ (ایم جی ایل) نے کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کی سپلائی کم کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس کی وجہ سے پائپڈ نیچرل گیس (پی این جی) یعنی گیس پائپ لائن کے ذریعہ رسوئی گیس کا استعمال کرنے والے ۳۰ ؍لاکھ افراد اور تجارتی ادارے متاثر ہوں گے۔ واضح رہے کہ شہر اور مضافات میں پائپ لائنوں کے ذریعہ گیس سپلائی کے ۱۵۰؍ اسٹیشن موجود ہیں ۔ 
جنگ کے سبب ہر چند کہ اب تک پیٹرول کی سپلائی میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے لیکن سی این جی سے چلنے والے رکشے اور چار پہیہ گاڑیوں کے ڈرائیوروں اور مالکان ان کی قلت سے پریشان کا شکار ہورہے ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ شہر کے اکثر پیٹرول پمپ پر سی این جی سپلائی اب متاثر ہونے لگی ہے جس کی وجہ سے ایک دو نہیں بلکہ رکشا اور چار پہیہ گاڑیوں میں گیس بھرنے کے ۱۸؍سے ۲۰؍ ریفل اسٹیشنوں کو بند کردیا گیا ہے۔ گیس کی قلت کی وجہ سے ممبئی کے ۳ ؍لاکھ آٹو رکشے اور سی این جی سے چلنے والی ۵ ؍لاکھ چار پہیہ گاڑی چلانے والے ڈرائیوراور مالکان متاثر ہونے لگے ہیں ۔ پریشانی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اگر انہیں گیس بھرانا ہے تو دو سے چار اسٹیشنوں پر جاکر طے شدہ مقدار میں ہی گیس بھروانا پڑتی ہے۔ ایک ہی وقت میں پوری ٹنکی نہیں بھرا سکتے ہیں ۔ 
اس تعلق سے یہ بھی کہا جارہا کہ جب تک جنگ بند نہیں ہوتی اور حالات بہترنہیں ہوتے، اس وقت تک کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے۔ واضح ہو کہ ایم جی ایل کا بنیادی ڈسٹری بیوشن وڈالا میں ہے۔ یہیں سے قدرتی گیس مختلف سی این جی اور پی این جی اسٹیشنوں پر سپلائی کی جاتی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK