Inquilab Logo Happiest Places to Work

باقر قالیباف کے تعلق سے افواہیں، ایران کی تردید

Updated: April 26, 2026, 9:57 AM IST | Mumbai

سوشل میڈیا اور بعض میڈیا رپورٹ نے ایران کی سیاسی فضا میں ہلچل پیدا کر دی، جہاں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے حوالے سے مختلف دعوے سامنے آئے، جن میں ان کے مبینہ استعفے کی خبریں بھی شامل تھیں۔

Muhammad Ali Bagher Ghalibaf. Photo: INN
محمد علی باقر قالیباف۔ تصویر: آئی این این

سوشل میڈیا اور بعض میڈیا رپورٹ نے ایران کی سیاسی فضا میں ہلچل پیدا کر دی، جہاں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے حوالے سے مختلف دعوے سامنے آئے، جن میں ان کے مبینہ استعفے کی خبریں بھی شامل تھیں۔دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ ملک کی قیادت میں امریکی مذاکرات کے حوالے سے اختلافات کے باعث انہوں نے استعفیٰ دے دیا ہے، تاہم پارلیمنٹ کے میڈیا دفتر نے ان خبروں کی سختی سے تردید کر دی۔پارلیمنٹ کے میڈیا اور ثقافتی امور کے مرکز کے سربراہ ایمان شمسی نے جمعہ کی شب کہا کہ پھیلائی جانے والی افواہیں صرف رائے عامہ کو متاثر کرنے کیلئے ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ قالیباف بدستور اپنی ذمہ داریاں سنجیدگی سے انجام دے رہے ہیں اور امریکہ کے ساتھ مذاکراتی ٹیم کی تشکیل میں بھی کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے سزائے موت پر پابندی ختم، پوپ لیو نے مذمت کی

یہ تردید ایسے وقت میں سامنے آئی ہے ،جب ایران کے اندرونی حلقوں میں اختلافات اور کشمکش سے متعلق خبریں آرہی ہیں جن کے باعث امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے فیصلوں میں تاخیر کا دعویٰ کیا جا رہا تھا۔اسرائیلی چینل ۱۲؍نے بھی دعویٰ کیا کہ تہران ایک گہرے اور سنگین بحران سے گزر رہا ہے، جو فیصلوں کے عمل کو متاثر کر رہا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ محمد باقر قالیباف جنہوں نے مبینہ طور پر اسلام آباد میں دو ہفتے قبل مذاکرات کے پہلے دور میں امریکہ سے رابطوں میں کردار ادا کیا تھا، وہ پاسداران انقلاب کی مداخلت کے بعد پیچھے ہٹ گئے۔ اندرونی طور پر انہیں اس کوشش پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا کہ وہ جوہری پروگرام کو مذاکرات میں شامل کرنے کی کوشش کر رہے تھے، جسے بعض حلقے ریڈ لائن قرار دیتے ہیں۔یہ تمام قیاس آرائیاں اس وقت تیزی سے پھیلیں جب ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے اندر سخت گیر اور معتدل حلقوں کے درمیان اختلافات کا ذکر کیا، جس کے باعث مذاکراتی عمل متاثر ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK