Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ: ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے سزائے موت پر پابندی ختم، پوپ لیو نے مذمت کی

Updated: April 25, 2026, 10:06 PM IST | Washington

امریکہ میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے سزائے موت پر عائد پابندی ختم کرنے کے فیصلے کی پوپ لیو نے مذمت کرتے ہوئے موت کی سزا کو ناقابل قبول قرار دیا۔

Pope Leo XIV and Donald Trump . Photo: INN
پوپ لیو اور ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این

امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے وفاقی سزائے موت پر پابندی ختم کرنے اور فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے موت کی سزا بحال کرنے کے اعلان کے چند گھنٹے بعد، پوپ لیوچہار دہم نے ایک پرزور ویڈیو پیغام میں سزائے موت کی مذمت کی۔ ویڈیو کے ٹائمنگ نے اس بارے میں کوئی ابہام نہیں چھوڑا کہ پوپ کا موقف کیا ہے یا وہ کس سے خطاب کر رہے ہیں۔بعد ازاں پوپ لیو نے شکاگو (ان کے آبائی شہر) کے کیتھولک ادارے ڈی پال یونیورسٹی کو بھیجے گئے پیغام میں کہا، ’’ کسی شخص کا وقار سنگین جرائم کرنے کے بعد بھی ختم نہیں ہوتا۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: جی پی ٹی کی فلوریڈا اورکنیڈا میں فائرنگ کرنے والوں کی رہنمائی، آلٹ مین کی معذرت

دریں اثناءکیتھولک چرچ کے سربراہ، جو حالیہ دنوں میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی عوامی طور پر  مخالفت کر رہے ہیں، نے اپنے پرزور پیغام میں کہا کہ ہر زندگی مقدس ہے۔ انہوں نے کہا، ’’کیتھولک چرچ نے ہمیشہ یہ تعلیم دی ہے کہ ہر انسانی زندگی، حمل کے لمحے سے لے کر قدرتی موت تک، مقدس ہے اور اسے تحفظ کا حق حاصل ہے۔ یقیناً زندگی کا حق ہر دوسرے انسانی حق کی بنیاد ہے۔‘‘یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ جرم کرنے والوں کو سزا دی جانی چاہیے، انہوں نے تجویز دی کہ اس طرح کی سخت سزاؤں کے بجائے ایسے طریقے اپنائے جا سکتے ہیں جو شہریوں کو تحفظ دیں جبکہ مجرموں کو توبہ کا موقع فراہم کریں۔ انہوں نے کہا، "مزید برآں، قید کے مؤثر نظام تیار کیے جا سکتے ہیں اور کیے گئے ہیں جو شہریوں کو تحفظ دیتے ہیں جبکہ ساتھ ہی مجرموں کو توبہ کے امکان سے مکمل طور پر محروم نہیں کرتے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: پولینڈ نے غزہ فلوٹیلا حملے کی تحقیقات شروع کیں، ہند رجب فاؤنڈیشن نے خیرمقدم کیا

مزید برآں پوپ نے اپنے پیشروؤں کا بھی حوالہ دیا تاکہ واضح کیا جا سکے کہ یہ محض ذاتی رائے نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، ’’پوپ فرانسس اور میرے حالیہ پیشروؤں نے متعدد بار اصرار کیا کہ مشترکہ بھلائی کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے اور انصاف کے تقاضوں کو سزائے موت کا سہارے لیے بغیر پورا کیا جا سکتا ہے۔ چرچ سکھاتا ہے کہ سزائے موت ناقابلِ قبول ہے کیونکہ یہ شخص کے وقار پر حملہ ہے۔‘‘ واضح رہے کہ پوپ کا یہ تبصرہ اسی دن آیا جب قائم مقام امریکی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچے نے بائیڈن دور کی وفاقی پھانسیوں پر پابندی ختم کرنے اور فائرنگ اسکواڈ سمیت سزائے موت کی بحالی کا باضابطہ اعلان کیا۔ساتھ ہی بلانچے نےگزشتہ انتظامیہ پر یہ الزام بھی لگایا کہ وہ انتہائی خطرناک مجرموں، جن میں دہشت گرد، بچوں کے قاتل، اور پولیس اہلکاروں کے قاتل شامل ہیں، کے خلاف انتہائی سزا پر عملدرآمد کرنے میں ناکام رہی۔ یاد رہے کہ بائیڈن کی صدارت کے دوران یا ٹرمپ کی دوسری مدت کے پہلے۱۵؍ مہینوں میں کوئی وفاقی پھانسی نہیں دی گئی۔جبکہ آخری وفاقی پھانسی ٹرمپ کی پہلی انتظامیہ کے آخری دنوں میں ہوئی تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK