۴ء۸۷؍لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا،بارش میں کمی اور ندیوں کی سطح آب خطرے کے نشان سے نیچے آنے سے راحت۔
EPAPER
Updated: August 22, 2026, 11:26 AM IST | Agency | Bhubaneswar
۴ء۸۷؍لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا،بارش میں کمی اور ندیوں کی سطح آب خطرے کے نشان سے نیچے آنے سے راحت۔
ادیشہ میں سیلاب کی صورتحال سے۱۳ء۴۴؍ لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔۷؍ اضلاع میں راحت اور بچاؤ مہم جاری رہنے کے درمیان۴؍لاکھ ۸۷؍ ہزار ۳۵۰؍ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرکے راحتی کیمپوں میں پہنچایا گیا ہے۔خصوصی راحت کمشنر کے دفتر کے تحت ریاستی ایمرجنسی آپریشن سینٹر کی تازہ رپورٹ کے مطابق بالیشور، میور بھنج، بھدرک، جاج پور، کیونجھار، کیندرپاڑہ اور سندر گڑھ اضلاع میں مجموعی طور پر۱۳؍لاکھ ۴۴؍ہزار ۶۹۸؍ افراد سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں۷۶؍ بلاک،۵۰۵؍گرام پنچایتیں،۱۷۰۳؍ گاؤں اور ۱۲؍شہری مقامی ادارے شامل ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں بچاؤ، راحت، بحالی اور ضروری خدمات کی فراہمی کا کام جاری ہے اور سیلاب کی صورتِ حال پر مسلسل کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:حد بندی پر جنوبی ریاستوں کا مطالبہ، لوک سبھا کی نشستیں برقرار رکھیں
حکام نے بتایا کہ میور بھنج، بالیشور، بھدرک، جاج پور، کیندرپاڑہ اور کیونجھار اضلاع میں گزشتہ چند دنوں سے صورتِ حال کافی چیلنجنگ بنی ہوئی تھی۔ تاہم اہم دریاؤں میں اب پانی کی سطح کم ہو رہی ہے اور وہ خطرے کے نشان سے نیچے بہہ رہے ہیں، جس سے انتظامیہ کو کچھ راحت ملی ہے۔
احتیاطی اقدام کے طور پر اب تک۴؍لاکھ ۸۷؍ ہزار۳۵۰؍افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرکے ۸۸۰؍ راحتی کیمپوں میں ٹھہرایا گیا ہے۔ ایس ای او سی، ضلعی ایمرجنسی آپریشن مراکز (ڈی ای او سی) اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ تال میل قائم کرکے چوبیس گھنٹے صورتِ حال کی نگرانی کر رہا ہے۔
سیلابی پانی سے گھرے گاؤں میں امدادی ٹیمیں متاثرہ خاندانوں تک پکا ہوا کھانا اور صاف پینے کا پانی براہِ راست پہنچا رہی ہیں۔ بچوں، حاملہ خواتین، بزرگوں اور معذور افراد کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں مفت باورچی خانے بھی چلائے جا رہے ہیں، جہاں اب تک۴؍لاکھ ۹۵؍ہزار ۸۳۳؍ افراد کو پکا ہوا کھانا فراہم کیا جا چکا ہے۔ مقامی ضروریات کے مطابق خشک راشن اور دیگر ضروری امدادی سامان بھی تقسیم کیا جا رہا ہے۔ متاثرہ خاندانوں کو۴۷۶۵؍ پولی تھین شیٹس اور رول فراہم کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ریکارڈ ’سپر ایل نینو‘ کا خطرہ، ۲۰۲۷ء میں دنیا کا گرم ترین سال بننے کا خدشہ
راحت رسانی کیلئےکون کون سرگرم؟
بچاؤ اور ہنگامی کارروائیوں میں تیزی لانے کیلئے متاثرہ اضلاع میں۱۲۶؍ امدادی ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔ ان میں او ڈی آر ایف کی۳۲، این ڈی آر ایف کی۸، فائر سروسیز و ایمرجنسی سروسیز کی۴۶؍ اور پولیس، سول ڈیفنس و مقامی افراد کی۴۰؍ ٹیمیں شامل ہیں۔ یہ ٹیمیں پھنسے ہوئے لوگوں تک پہنچنے اور انہیں بروقت امداد فراہم کرنے کے لئے مسلسل کام کر رہی ہیں۔