Updated: August 22, 2026, 4:13 PM IST
| Tehran
امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف نئی اور سخت ترین اقتصادی پابندیوں کے اعلان پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ واشنگٹن کی یہ کوشش بھی ’’ناکامی سے دوچار ہونے والی ہے۔‘‘ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کو مالی طور پر کمزور کرنے کے لیے ’’Economic D-Day‘‘ کا اعلان کرتے ہوئے اتحادی ممالک سے بھی مہم میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این
ایران نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نئی اقتصادی پابندیوں کی دھمکی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مہم بھی ماضی کی طرح ناکام ہوگی۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعہ کو ایکس پر کہا کہ ایران کے خلاف پہلے بھی سخت ترین پابندیوں اور ’’Maximum Pressure‘‘ کی پالیسیوں کا اعلان کیا گیا، لیکن وہ اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکیں۔ عراقچی نے لکھا:’’۱۴؍ سال پہلے: تاریخ کی سب سے تباہ کن پابندیاں۔ ناکام۔ ۸؍ سال پہلے: زیادہ سے زیادہ دباؤ۔ ناکام۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ۵؍ ماہ قبل ایران سے ’’غیر مشروط ہتھیار ڈالنے‘‘ کا مطالبہ بھی ناکام ہوچکا ہے۔ ان کے مطابق اب امریکی صدر کی جانب سے اعلان کردہ ’’سب سے تباہ کن اقتصادی کارروائی‘‘ بھی ناکامی سے دوچار ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے: متحدہ عرب امارات: ہر۵۰؍ میں سے ایک بچہ ڈجیٹل شناخت کی چوری کا شکار
واضح رہے کہ ٹرمپ نے بدھ کو ایران کے خلاف نئی مہم کا اعلان کرتے ہوئے اسے کسی بھی ملک کے خلاف کی جانے والی ’’سب سے تباہ کن اقتصادی کارروائی‘‘ قرار دیا تھا۔ امریکی صدر نے اپنی نئی پالیسی کو ’’Economic Warfare and Isolation on an unprecedented scale‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ایران کو مالی طور پر سہارا دینے والے ذرائع ختم کرے گا۔ ٹرمپ نے خاص طور پر ان ممالک کو خبردار کیا جو ایران کے لیے اقتصادی ’’لائف لائن‘‘ کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے ممالک کے مالیاتی اداروں، کاروباری اداروں، ہوائی اڈوں یا سرکاری اداروں کو بھی سخت اقتصادی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے امریکہ کے اتحادیوں سے اس مہم میں شامل ہونے کی اپیل کرتے ہوئے اسے ’’Economic D-Day‘‘ کا نام دیا۔
یہ بھی پڑھئے: میرے والد صرف ایک نمبر نہیں: لبنانی صحافی کا اسرائیل سے جواب دہی کا مطالبہ
عراقچی نے اپنے بیان کے ساتھ سابق امریکی صدر باراک اوباما کی ایک تصویر بھی شیئر کی، جس میں ۲۰۱۲ء کا سابق امریکی نائب صدر جو بائیڈن کا بیان موجود تھا۔ اس میں ایران کے خلاف عائد کی جانے والی پابندیوں کو ’’پابندیوں کی تاریخ کی سب سے تباہ کن‘‘ پابندیاں قرار دیا گیا تھا۔ عراقچی نے اسی تاریخی پس منظر کو موجودہ امریکی پالیسی کی ناکامی کے اپنے مؤقف کی بنیاد بنایا۔ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران اقتصادی دباؤ ایک مرتبہ پھر واشنگٹن کی حکمت عملی کا مرکزی حصہ بن گیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا نیا منصوبہ ایران کے مالیاتی ذرائع، کاروباری روابط اور بین الاقوامی اقتصادی تعلقات کو محدود کرنے پر مرکوز ہے، جبکہ تہران کا کہنا ہے کہ اس طرح کی مہم پہلے بھی مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکی۔