Inquilab Logo Happiest Places to Work

ونچت بہوجن اگھاڑی کے وفدمیں شامل افراد پولیس افسر کو میمورنڈم دیتے ہوئے

Updated: April 21, 2026, 11:08 AM IST | Sajid Mehmood Shaikh | Mumbai

بھائندرپولیس اسٹیشن کے باہر صحافی کو بھی زدوکوب کیا۔ پولیس نے صرف این سی لی۔ونچت بہوجن اگھاڑی کے وفد کی پولیس افسران سے ملاقات ۔و فد میں شامل وکیل نے متنبہ کیا کہ ایف آئی آر درج نہیں کی گئی تو عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔

Members Of The Vanchit Bahujan Aghadi Delegation Giving A Memorandum To A Police Officer.Photo:INN
ونچت بہوجن اگھاڑی کے وفدمیں شامل افراد پولیس افسر کو میمورنڈم دیتے ہوئے- تصویر:آئی این این
یہاں مغربی جانب  نہرو نگر میںاتوار کی رات  بجرنگ دل کارکنان نے ایک گھر میں داخل ہو کر خواتین اور  ایک بزرگ مذہبی شخص کے ساتھ مارپیٹ کی۔ اسی طرح پولیس اسٹیشن کے باہر ایک صحافی پر بھی حملہ کیا۔
اس ضمن میں ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو ا ہے جس میں خواتین بتا رہی ہیں کہ  انہوں نے اپنے گھر میں ایک دعائیہ تقریب کا انعقاد کیا تھا۔ اس وقت بجرنگ دل کے کارکنان زبردستی گھر میں داخل ہو ئے  اور خواتین پر تبدیلیٔ مذہب کا الزام عائد کیا تو انہوںنے  جواب میں بتایا کہ وہ مذہب تبدیل نہیں کر رہی ہیں بلکہ اپنی زندگی بدل رہی ہیں کیونکہ اُن کے شوہروں نے نشہ چھوڑ دیا ہے۔ خواتین یہ بھی بتا رہی ہیں کہ ان کارکنوں نے انہیں گالیاں دیں ،ان کے بال پکڑے اور ان سے مارپیٹ کی۔ ان لوگوں نے ۶۰ ؍سالہ  پادری کا کالر پکڑا اور ان کے ساتھ بدتمیزی کی ۔خواتین کا موقف یہ تھا کہ وہ یسوع مسیح کی دعا کرتی ہیں اور ایک آزاد اور جمہوری ملک میں رہتے ہوئے یہ ان کا حق ہے کہ وہ جہاں چاہیں، عبادت کریں۔ا ن خواتین نے مزیدبتایا کہ ان کارکنوں نے کہا کہ وہ بجرنگ دل سے ہیں اور انہیں ملک سے بھگانے کا اختیار ملا ہوا ہے ۔
اطلاع کے مطابق  خواتین مارپیٹ کے خلاف  بھائندر پولیس اسٹیشن پہنچیں  ۔تفصیل کے مطابق کیتن باریا کو کسی نے فون کرکے بتایا کہ پولیس اسٹیشن میں تبدیلیٔ مذہب کا ایک بڑا معاملہ آیا ہے جس کے کوریج کیلئے وہ وہاں پہنچے۔ جب وہ پولیس اسٹیشن کے باہر سے ویڈیو (ویژوئل)  بنا رہے تھے تبھی وہاں موجود بجرنگ دل کے تقریبا ۲۰ ؍سے ۲۵ ؍ کارکنوں نے انہیں گھیر لیا اور   بدتمیزی کی اور سوال کیا کہ وہ ویڈیو کیوں بنا رہے ہیں۔ کیتن باریا نے ان کو بتایا کہ وہ ایک صحافی ہیں ، اس کے باوجود ان کا موبائل فون چھیننے کی کوشش کی گئی اور ان کے ساتھ مارپیٹ کی گئی۔ کیتن باریا نے پولیس کی بے بسی پر بھی سوال اٹھایا کہ پولیس اسٹیشن کے سامنے ایسی غنڈہ گردی ہو رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج نکالی جائے اور حملہ آوروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
اس واقعے کے بعد کیتن باریا کی طبیعت بگڑ گئی، ان کا  بی پی ہائی ہو گیا اور انہیں مارپیٹ کے دوران چوٹیں آئیں جس کے بعد انہیں بھائندر مغرب میں واقع پنڈت بھیم سین جوشی اسپتال عرف ٹھیمبا اسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں انتہائی نگہداشت والے وارڈ میں ان کا علاج جاری ہے ۔
 
 
اس واقعے سے میرابھائندر کی صحافیوں اور انصاف پسند شہریوں میں غم وغصہ پایا جارہا ہے ۔کئی صحافیوں نے اس واقعہ کی مذمّت کی اور ویڈیو بنائے۔ بھیم آرمی کے ریاستی نائب صدر محمد آصف منصوری نے اپنے غم وغصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب ایک صحافی پولیس اسٹیشن کے اندر محفوظ نہیں ہے تو پھر عام آدمی کا کیا ہوگا ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھیم آرمی صحافیوں کی حمایت میں آگے آئے گی۔ اگر خاطیوں کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی تو ہم ۲۱؍ اپریل سے بے مدت احتجاج کریں گے ۔
 
 
اس تعلق سے ونچت بہوجن اگھاڑی کے وفد نے پولیس افسران سے ملاقات اور کارروائی کا مطالبہ کیا تو پولیس افسر نے بتایا کہ دفعہ ۲۱ ؍کے تحت این سی لی گئی ہے۔ وفد میں شامل ایڈووکیٹ بریگینزا نے مطالبہ کیا کہ اس  معاملے میں ایف آئی آر ہونی چاہئے۔ انہوں نے الزام لگاتے ہوئے کہاکہ  پولیس کسی کے دباؤ میں کام کر رہی ہے۔ اگر پولیس ایف آئی آر درج نہیں کرتی تو ہم عدالت کا رخ کریں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK