یہ پابندیاں، جو زیادہ سے زیادہ ۹۰؍دن تک نافذ رہ سکتی ہیں، اس خدشے کے پیشِ نظر لگائی گئی ہیں کہ بڑی تعداد میں بلک صارفین کم ریٹیل قیمتوں کا فائدہ اٹھانے کے لیے پیٹرول پمپ سے ایندھن خرید رہے ہیں۔
EPAPER
Updated: June 12, 2026, 7:03 PM IST | New Delhi
یہ پابندیاں، جو زیادہ سے زیادہ ۹۰؍دن تک نافذ رہ سکتی ہیں، اس خدشے کے پیشِ نظر لگائی گئی ہیں کہ بڑی تعداد میں بلک صارفین کم ریٹیل قیمتوں کا فائدہ اٹھانے کے لیے پیٹرول پمپ سے ایندھن خرید رہے ہیں۔
عام صارفین کے لیے ایندھن کی بلا تعطل دستیابی یقینی بنانے کے مقصد سے حکومت نے صنعتی، تجارتی اور ادارہ جاتی صارفین کو ریٹیل فیول پمپ سے پیٹرول اور ڈیزل خریدنے سے روک دیا ہے اور انہیں ہدایت دی ہے کہ وہ ایندھن مخصوص بلک سپلائی ذرائع کے ذریعے حاصل کریں۔ یہ اطلاع پی ٹی آئی نے ایک سرکاری حکم نامے کے حوالے سے دی ہے۔
کون متاثر ہوگا؟
نئے حکم نامے کے تحت صنعتی یونٹس، تجارتی ادارے اور ادارہ جاتی صارفین پیٹرول پمپ سے پیٹرول اور ڈیزل نہیں خرید سکیں گے۔ انہیں اپنی ذاتی کنزیومر پمپ سہولیات یا مجاز بلک سپلائی انتظامات کے ذریعے ایندھن حاصل کرنا ہوگا۔
حکومت نے یہ قدم کیوں اٹھایا؟
حکومت کے مطابق یہ اقدام دنیا کے بعض حصوں میں جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث عالمی پیٹرولیم سپلائی چین میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے سبب اٹھایا گیا ہے۔ ان رکاوٹوں نے شپنگ لاجسٹکس اور پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی کو متاثر کیا ہے، جس سے ایندھن کی فراہمی کے تحفظ کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ’’موجودہ صورتحال میں ملک کے بعض حصوں میں ریٹیل آؤٹ لیٹس کے ذریعے پیٹرول اور ڈیزل کی فروخت میں غیر معمولی اضافہ اس وجہ سے دیکھا گیا ہے کہ صنعتی، تجارتی اور ادارہ جاتی صارفین بلک اور ریٹیل قیمتوں کے فرق کی وجہ سے ریٹیل آؤٹ لیٹس کا رخ کر رہے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:سابق نشانہ باز جسپال رانا کا انتقال
حکومت کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی جغرافیائی سیاسی حالات نے بین الاقوامی پیٹرولیم سپلائی چین، شپنگ لاجسٹکس اور پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی پر منفی اثر ڈالا ہے، جس کے باعث یہ اقدام ضروری ہو گیا۔
قیمتوں کے بڑے فرق نے پیٹرول پمپ کا رخ بڑھایاحکومت نے ریٹیل آؤٹ لیٹس پر ڈیزل کی خریداری کے قواعد بھی سخت کر دیے ہیں۔ اب ڈیزل صرف گاڑیوں کے فیول ٹینکوں یاPESO (پیٹرولیم اینڈ ایکسپلوسوز سیفٹی آرگنائزیشن) سے منظور شدہ کنٹینرز میں فروخت کیا جا سکے گا۔
فی صارف یا فی گاڑی یومیہ خریداری کی حد ۲۰۰؍ لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ اس طرح خریدا گیا ڈیزل دوبارہ فروخت نہیں کیا جا سکے گا ۔ دہلی میں اس وقت ریٹیل پمپ پر ڈیزل کی قیمت تقریباً۲۰ء۹۵؍ روپے فی لیٹر ہے، جبکہ بلک فروخت کی قیمت تقریباً۵۰ء۱۳۴؍ روپے فی لیٹر ہے۔ یہ فرق اس وقت پیدا ہوا جب سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے مغربی ایشیا کے بحران کے بعد عالمی توانائی قیمتوں میں اضافے کے باوجود گھریلو صارفین اور ٹرانسپورٹ شعبے کو ریلیف دینے کے لیے ریٹیل قیمتیں نسبتاً کم رکھیں۔
یہ بھی پڑھئے:پنجابی گلوکارہ افسانہ خان کی آواز میں جذباتی اتار چڑھاؤ ہے
عام صارفین پر کیا اثر پڑے گا؟
حکام کے مطابق اگر صنعتوں اور تجارتی اداروں کو پیٹرول پمپ سے بلا روک ٹوک بڑی مقدار میں ایندھن خریدنے کی اجازت دی جائے تو عام صارفین کے لیے مختص ایندھن کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے، جس سے مقامی سطح پر قلت اور ضروری خدمات میں رکاوٹ پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
بلک خریداروں کو پیٹرول پمپ سے ایندھن خریدنے سے روک کر حکومت کا مقصد: پیٹرول پمپوں پر طویل قطاروں کو روکنا، مقامی سطح پر سپلائی میں خلل سے بچنا، گھبراہٹ میں خریداری (Panic Buying) کو روکنا، اور کم ریٹیل قیمتوں کا فائدہ عام صارفین تک محدود رکھنا ہے، نہ کہ بڑے تجارتی صارفین تک۔اس اقدام سے حکومت کو امید ہے کہ عام شہریوں کے لیے ایندھن کی دستیابی اور قیمتوں کا استحکام برقرار رکھا جا سکے گا۔