Inquilab Logo Happiest Places to Work

جنگ کے اثر سے کیلے اور انگور سستے، سیب مہنگا

Updated: March 09, 2026, 11:17 AM IST | Shahab Ansari | Mumbai

جواہر لال نہرو پورٹ ٹرسٹ پر بڑے پیمانے پر کنٹینر پھنسے ہونے سے پیاز اور پھلوں کے سڑنے کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔

Apart from the war, one of the reasons for the decline in grape prices is the grape season. Photo: INN
جنگ کے علاوہ انگور کے دام کم ہونے کی ایک وجہ انگور کا موسم بھی ہے۔ تصویر: آئی این این

رمضان المبارک میں خلیجی ممالک میں پھلوں کی مانگ بڑھ جاتی ہے جس کی وجہ سے ریاست کے بڑے تاجر عمدہ معیار کے پھل اور دیگر اشیاء ان ممالک میں فروخت کیلئے بھیج دیتے ہیں البتہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کی وجہ سے فضائی اور بحری راستے بند ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے ممبئی کے ’جواہر لال نہرو پورٹ ٹرسٹ‘ (جے این پی ٹی) پر ہزاروں کنٹینرپھنسے ہوئے ہیں اور بیرون ممالک بھیجے نہیں جاسکے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ کیلا، انگور اور تربوز جیسی چند اشیاء کے دام کم ہوگئے ہیں تو سیب کے دام آسمان چھونے لگے ہیں۔ 
واضح رہے کہ جے این پی ٹی پر جو کنٹینر پھنسے ہوئے ہیں ان میں سے اکثر و بیشتر دبئی کے ذریعہ خلیجی ممالک میں بھیجے جانے تھے۔ کئی دنوں تک ان کنٹینر کے یہاں  پھنسے رہ جانے سے کھانے پینے کی اشیاء کے خراب ہوجانے کا خدشہ ہوتا ہے اور انہیں خراب ہونے سے بچانے کیلئے کنٹینر کو ٹھنڈا رکھا جاتا ہے جس کیلئے پورٹ سے بجلی حاصل کی جاتی ہے جس کا یومیہ خرچ فی کنٹینر تقریباً ۸؍ ہزار روپے ہوتا ہے۔ ٹھنڈا رکھنے کی وجہ سے اگر پھلوں کے خراب ہونے کے عمل میں تاخیر ہوجائے تب بھی اس پر یومیہ خرچ بڑھ گیا ہے اس لئے پھل خراب ہوں تب بھی نقصان ہے اور اگر خراب ہونے سے بچ جائیں تب بھی یومیہ خرچ بڑھنے سے یا تو منافع بہت کم ہوجائے گا یا اس میں بھی نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔ 
اس نمائندے نے جب اس سلسلے میں نل بازار میں پھل فروخت کرنے والے علی احمد قریشی سے گفتگو کی تو انہوں نے بتایا کہ سب سے زیادہ جن چیزوں کے دام کم ہوئے ہیں وہ کیلے اور انگور ہیں۔ جو کیلے رمضان کے ابتدائی دنوں میں ۸۰؍ سے ۶۰؍ روپے تک فروخت ہورہے تھے اب وہ ۳۰؍ سے ۴۰؍ روپے میں فروخت ہونے لگے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جنگ کے علاوہ انگور کے دام کم ہونے کی ایک وجہ انگور کا موسم بھی ہے، جس پھل کا موسم ہوتا ہے وہ سستا ہوجاتا ہے۔ ان کے مطابق جو انگور ۲۰۰؍ روپے فی کلو گرام فروخت ہورہے تھے اب وہ ۱۲۰؍ سے ۱۰۰؍ روپے فی کلو میں دستیاب ہوگئے ہیں۔ 
سیب کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں سیب کا موسم ختم ہوچکا ہے اب ایران، ترکی اور دیگر بیرون ممالک سے آئے ہوئے سیب یہاں فروخت ہوتے ہیں لیکن جنگ کی وجہ سے درآمد بند ہے اور بازار میں سیب کم ہوگئے ہیں۔ جن کے پاس ہیں وہ مہنگے فروخت کررہے ہیں۔ اب تک جو سیب ۱۲۰؍ سے ۱۴۰؍ روپے فی کلو گرام مل جاتے تھے وہ معیار کے حساب سے کم از کم ۱۸۰؍ سے ۲۸۰؍ روپے تک فروخت ہورہے ہیں۔ خربوزے اور مالٹا کے دام میں بھی کچھ حد تک اضافہ ہوا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: امسال زکوٰۃ زیادہ نکلے گی مگر کم ہی لوگ اس کی نتیجہ خیز تقسیم پر غور کررہے ہیں

بائیکلہ کے بدلوپورہ میں پھل فروخت کرنے والے الطاف خان نے بتایا کہ جو تربوز ابتدائی رمضان میں ۵۵؍ سے ۶۵؍ روپے فی کلو گرام تک فروخت ہوئے تھے اب ان کے دام کم ہوکر ۴۰؍ سے ۵۰؍ روپے فی کلو گرام ہوگئے ہیں۔ ان کے مطابق عام طور پر ۳؍ کلو کے آس پاس کے وزن کے تربوز بازار میں آتے ہیں اگر کوئی ایک پورا تربوز خریدے تو اس پر اسے تقریباً ۴۵؍ روپے تک سستا پھل مل جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اب ایک پورا تربوز خریدنے والوں کی تعداد کم ہوگئی ہے۔ اب لوگ علاحدہ علاحدہ رہنے لگے ہیں اور چھوٹے خاندان کی وجہ سے لوگ ۲۰؍ سے ۳۰؍ روپے کے ٹکڑے لے جاتے ہیں جس کی وجہ سے صارفین کو تربوز کے دام کم ہونے کا احساس نہیں  ہوتا۔ 
واشی کے اے پی ایم سی مارکیٹ میں پھلوں کے تھوک بازار کے ڈائریکٹر سنجے پنسارے نے انقلاب سے گفتگو کے دوران اعتراف کیا کہ جے این پی ٹی پر پھلوں کے کنٹینر پھنسے ہونے کی وجہ سے کیلے، انگور، تربوز اور پپیا جیسے پھلوں کے دام کم ہوگئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جن تاجروں نے پیشگی زیادہ مال خرید لیا تھا موجودہ حالات کے پیدا ہونے سے یا تو انہیں نقصان ہورہا ہے یا پھر منافع کم ہوگیا ہے۔ 
دہانو کی اے پی ایم سی مارکیٹ میں سبزی ترکاری کے تاجر اشوک والنج کے مطابق پیاز اور دیگر چند اشیاء کے جو کنٹینر پھنسے ہوئے ہیں ان سے اب تک انہی تاجروں کو تکلیف ہورہی ہے جن کا مال ان میں ہے۔ ان کے مطابق اب تک ان کنٹینروں کی اشیاء ممبئی اور اطراف کے بازاروں میں  نہیں آئی ہیں، اگر یہ اشیاء بازاروں میں  آگئیں تب ان اشیاء کے دام کم ہونے کا امکان ہے۔ ایک تاجر کے مطابق باسمتی چاول کے دام بھی تقریباً ۱۰؍ فیصد تک کم ہوئے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK