Inquilab Logo Happiest Places to Work

امسال زکوٰۃ زیادہ نکلے گی مگر کم ہی لوگ اس کی نتیجہ خیز تقسیم پر غور کررہے ہیں

Updated: March 06, 2026, 10:32 AM IST | Saadat Khan | Mumbai

سونے چاندی کی قیمت میں ہوش رُبا اضافے کے سبب زکوٰۃ کی رقم زیادہ بنے گی اس لئے کچھ لوگ اضافی رقم کے تعلق سے کشمکش میں مبتلا ہیں تو کچھ لوگ فیصلہ کرچکے ہیں کہ اُنہیں کیا کرنا ہے۔

Zakat donors plan to change the distribution of the money. (File photo)
زکوٰۃ دینے والوں نے رقم کی تقسیم میں تبدیلی کا ارادہ کیا ہے۔ (فائل فوٹو)

امسال سونے چاندی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کی وجہ سے صاحبانِ نصاب کی زکوٰۃ بھی زیادہ نکلے گی اسی لئے زکوٰۃ دینے والوں نے رقم کی تقسیم میں تبدیلی کا ارادہ کیا ہے۔

گزشتہ سال رمضان میں ۲۴؍ قیراط سونے کی قیمت ۸۷؍ ہزار ۵۵۰؍ روپے فی تولہ تھی (یکم مارچ ۲۰۲۵ء)۔ اس سال یکم مارچ (۲۶ء) کو ۲۴؍ قیراط سونے کی قیمت ایک لاکھ ۵۹؍ ہزار ۸۰؍ روپے فی تولہ تھی۔ یہ اضافہ دوگنا سے کچھ کم ہے۔ چاندی کا بھی یہی حال رہا۔ یکم مارچ ۲۵ء کو فی کلو چاندی کی قیمت ۹۷؍ ہزار روپے تھی جبکہ یکم مارچ ۲۶ء کو فی کلو ۳؍ لاکھ روپے تھی۔ اس طرح چاندی کی قیمت میں سونے سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔ صاحبانِ نصاب، بالخصوص جن کے پاس زیورات ہیں، اگر اُن کے اثاثہ میں اضافہ نہ ہوا ہو تب بھی قیمت بڑھنے کی وجہ سے، جسے ہوش رُبا اضافہ کہا جائیگا، زکوٰۃ کی رقم زیادہ بنے گی اسی لئے زکوٰۃ دینے والے زکوٰۃ کی تقسیم کےسابقہ طریقے پر غور کررہے ہیں کہ آیا اس میں تبدیلی کی ضرورت ہے؟

یہ بھی پڑھئے: تراویح کے ذریعے نوجوانوں کی خصوصی تربیت

جنوبی ممبئی کی ایک خاتون نے بتایاکہ ’’ میرا ۴۲؍ سالہ بھانجہ گزشتہ ۲۰؍ سال سے زکوٰۃ پر انحصار کررہا ہے۔ ہر سال ہم ۳؍ بہنیں مل کر اپنی پوری زکوٰۃ اُس کو دیتے ہیں۔ اگر سونے چاندی کی قیمت میں اضافہ نہ ہوا ہوتا تو ممکن تھا کہ ہم اُسی طریقے سے زکوٰۃ کی رقم اُسے دے دیتے مگر امسال ہماری زکوٰۃ دگنی نکلی ہے اس لئے ہم بہنوں نے فیصلہ کیا ہے کہ کوئی ایسی راہ نکالی جائے جس سے بھائی کو خود کفیل ہونے میں مدد ملے۔ ہم اُسے گاڑی دلا دینگے تاکہ وہ اولا یا اُوبر جیسی کمپنی کیلئے اپنی خدمات پیش کرسکے۔ اس کےچھوٹے بھائی نے بھی اپنی زکوٰۃ اس مقصد کیلئے دینے کا وعدہ کیاہے۔ ‘‘ جنوبی ممبئی کی اس خاتون کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’’بھائی ڈرائیونگ جانتا ہے لیکن دوسروں کی گاڑی چلاتاہے، اپنی گاڑی ہوگی تو وہ زیادہ رقم پس انداز کرسکےگا۔‘‘

ملاڈ کی ۵۰؍ سالہ سرکاری ملازمہ بھی زکوٰۃ کی تقسیم کا اندازہ بدلیں گی۔ اُن کےبقول’’ میرااکلوتا بیٹا بیرونی ملک میں پڑھائی کررہا ہے۔ میرے پاس جوزیورات ہیں، ان پر نکلنے والی زکوٰۃ کم و بیش دو گنا ہوگی۔ ہر سال اس رقم سے جن لوگوںکی مدد کرتی ہوں، انہیں دینے کے باوجود بچ جانےوالی رقم کے استعمال سےمتعلق سوچ رہی ہوں کہ ان پیسوں کو کسی بیت المال یا فلاحی ادارہ کو دوں مگر رابطہ کرنا میرے لئے مشکل ہے، اس لئے میں نے باقی رقم سے غریبوں میں راشن تقسیم کرنے اور کسی غریب طالب علم کی فیس کی ذمہ داری قبول کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو انجینئرنگ میں زیر تعلیم ہے۔‘‘ ان صاحبہ کو احساس ہے کہ اگر زکوٰۃ کی رقم کا منظم استعمال کیا گیا تو کوئی ایک ضرورتمند اپنے پیروں پر کھڑا ہوسکتا ہے لیکن اُن کے اپنے مسائل ہیں۔ کہتی ہیں: ’’مَیں کسی مستحق کو تلاش کروں، پھر تحقیق کروں یہ میرے لئے ممکن نہیں ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: حکومت روہت پوار کے سوالات کے جواب کیوں نہیں دے رہی ہے ؟

آگری پاڑہ کے ایک تاجر سے ہوئی بات چیت میں اندازہ ہوا کہ جو لوگ کاروبار کرتے ہیں اُن کا معاملہ قدرے مختلف ہے۔ ان صاحب نے کہا کہ ’’عام کاروبار کرنے والوں کی زکوٰۃ میں کوئی واضح فرق نہیں آیا ہے کیونکہ کووڈ کےبعد سے کاروباری حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ محدود کاروبار، مہنگائی اور اوورہیڈ ایکس پینس مثلاً بجلی بل اور جگہ کا کرایہ وغیرہ کافی بڑھ گیا ہے جس کی وجہ سے مجموعی سالانہ منافع کم ہو گیا ہے ۔‘‘

کوسہ کی بدرالنساء عبدالقدیر شیخ کے مطابق ’’ سونےکی قیمت بڑھنے سے امسال میری زکوٰۃ زیادہ نکلی ہے۔ میری بھی خواہش ہےکہ اس پوری رقم سے کسی ایک کی مدد کرکے اُسے معاشی طور پر مستحکم کروں لیکن جن غریب خاندانوں کی برسوں سے مدد کررہی ہوں ان کی دلآزاری برداشت نہیں کرسکتی۔ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہرسال زکوٰۃ لینے والوںکی تعداد بھی بڑھ رہی ہے، ایسےمیں زکوٰۃ کی اضافہ شدہ رقم سے میں اپنے پرانے لوگوں کو کچھ زیادہ رقم دے دوںگی تو مہنگائی کے اس دور میں ان کی کچھ اضافی ضروریات پوری ہوجائینگی۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK