Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھیونڈی: محکمۂ اراضی ریکارڈ کے ملازمین کی ہڑتال

Updated: March 09, 2026, 11:25 AM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi

کام بند ہونے سےزمین کی پیمائش کے متعدد کام ٹھپ ۔

Employees protesting outside the office for their demands. Photo: INN
ملازمین اپنے مطالبات کےلئے دفتر کے باہر احتجاج کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

محکمۂ اراضی ریکارڈ کے ملازمین نے اپنے دیرینہ مطالبات کی منظوری کے لئے غیر معینہ مدت کی کام بند ہڑتال شروع کر دی ہے جس کے باعث زمین کی پیمائش اور اس سے متعلق متعدد شہریوں کے کام ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں۔ اس صورتحال سے تعلقہ سطح پر عام شہریوں کو کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ 
اس سلسلے میں بھیونڈی کے اراضی ریکارڈ دفتر کے ملازمین نے اپنے مطالبات پر مشتمل ایک یادداشت رکنِ پارلیمان سریش مہاترے اور سابق مرکزی وزیر مملکت کپل پاٹل کو گزشتہ روز پیش کئے۔ ملازمین نے دونوں رہنماؤں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حکومت تک ان کے مسائل پہنچا کر ان کے فوری حل کے لئے پہل کریں۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ محکمۂ اراضی ریکارڈ کے زیر التوا مطالبات پر حکومت کی جانب سے اب تک کوئی اطمینان بخش فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ ہائی کورٹ کی ہدایت کے باوجود محکمہ کے ملازمین کو تاحال تکنیکی تنخواہ درجہ نافذ نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ ۱۵۰؍ دن کے پروگرام کے دوران محکمۂ محصولات کے وزیر کی جانب سے مطالبات تسلیم کرنے کا یقین دلایا گیا تھا، مگر اس پر اب تک عمل درآمد نہیں ہو ا ہے۔ اسی کے خلاف ریاست بھر میں اراضی ریکارڈ دفاتر کے باہر ملازمین نے احتجاجی مظاہرے بھی کئے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ناگپاڑہ: بجلی کی قلت، عوام پریشان، شدید گرمی اور اندھیرے میں وقت گزارنے پر مجبور

ملازمین کے اہم مطالبات میں تکنیکی تنخواہ درجہ نافذ کرنا، نظر ثانی شدہ ڈھانچے کے تحت زمین پیمائش کرنے والا اہلکار اور زمین کے سروے سے متعلق انتظامی کام کرنے والے اہلکار کے اضافی عہدوں کو منظوری دینا، زمین پیمائش کرنے والے ملازمین کےلئے مقررہ سفری الاؤنس طے کر کے اسے تنخواہ میں شامل کرنا، دیگر محکموں کے ایسے افسران کو اس محکمہ میں تبادلہ یا ڈیپوٹیشن پر نہ لانا جن کے پاس ضروری تکنیکی مہارت نہیں ہےاور محکمہ کی نجکاری نہ کرنے جیسے مطالبات شامل ہیں۔ 
واضح رہے کہ ان مطالبات کے حق میں مہاراشٹر ریاستی اراضی ریکارڈ ملازمین ایکشن کمیٹی کی قیادت میں ۱۸؍ فروری سے مرحلہ وار تحریک جاری ہے۔ اس دوران ملازمین نے پیمائش کا سامان دفاتر میں جمع کرانا، عدم تعاون تحریک، سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاج، اجتماعی رخصت اور آکروش تحریک جیسے مختلف مراحل اختیار کئے۔ ان تمام اقدامات کے بعد اب ملازمین نے غیر معینہ مدت کے لئے کام بند ہڑتال شروع کر دی ہے، جس کے نتیجے میں تعلقہ سطح پر زمین پیمائش سے متعلق کئی کام زیر التوا پڑ گئے ہیں اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK