Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی کمی نہیں ہوگی‘‘

Updated: March 09, 2026, 12:53 PM IST | New Delhi

۴؍ ہزار کروڑ لیٹر تیل ہے: حکومت۔ دعویٰ کیا کہ یہ ۸؍ہفتوں کیلئے کافی ہوگا۔ یہ بھی بتایا کہ آبنائے ہرمز پر انحصار کم ہواجہاں سے اب صرف ۴۰؍فیصد خام تیل آتا ہے۔

Despite the war, there will be no shortage of petrol and diesel in India in the coming days. Photo: INN
جنگ کے باوجودہندوستان میں آئندہ دنوں میں پیٹرول اور ڈیزل کی قلت نہیں ہوگی۔ تصویر: آئی این این

امریکہ، اسرائیل اور ایران جنگ کے دوران ملک کو خام تیل کی کمی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ ہندوستان کے پاس اس وقت۲۵۰؍ ملین بیرل (تقریباً ۴؍ ہزار کروڑ لیٹر) خام تیل اور ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات کا ذخیرہ ہے۔ حکومت کی رپورٹ کے مطابق یہ بیک اپ اس لئے کافی ہے کہ اگر سپلائی مکمل طور پر بند ہو جائے تب بھی ملک کی پوری سپلائی چین۷؍ تا ۸؍ہفتوں تک آسانی سے کام کر سکتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آئندہ دنوں میں پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی قلت کی کوئی فکر نہیں ہے۔ 
یہ رپورٹ اس دعوے کی تردید کرتی ہے کہ ہندوستان کے پاس صرف۲۵؍ دن کا ذخیرہ بچا ہے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ ہندوستان کی توانائی کی حفاظت اب کسی ایک راستے یا ملک پر منحصر نہیں ہے۔ 
۱۰؍برس میں رسائی ۲۷؍ سے بڑھ کر۴۰؍ممالک تک بڑھی
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان کی توانائی کی خریداری مکمل طور پر ’قومی مفاد‘ پر مبنی ہے۔ گزشتہ ۱۰؍برس میں ہندوستان نے تیل سپلائی میں نمایاں طور پر توسیع کی ہے۔ ایک دہائی قبل ہندوستان صرف۲۷؍ ممالک سے تیل خریدتا تھا جو اب بڑھ کر۴۰؍ ہو گیا ہے۔ عالمی کشیدگی کے باوجود ہندوستان نے اپنی ضروریات پوری کرنے کیلئے نئی راہیں تلاش کی ہیں۔ 
آبنائے ہرمز پر انحصارکم ہوا
آبنائے ہرمز کے بارے میں اکثر خدشات کا اظہار کیا جاتا ہےجو دنیا کے حساس ترین سمندری راستوں میں سے ایک ہے۔ تاہم ہندوستان نے اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی ہے۔ اب ہندوستان کا صرف ۴۰؍ فیصد خام تیل اسی راستے سے آتا ہے۔ بقیہ ۶۰؍فیصد متبادل راستوں جیسے روس، مغربی افریقہ، امریکہ اور وسطی ایشیا سے آتا ہے۔ ’دینک بھاسکر‘ کی خبر کے مطابق رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ وہ دن گزر گئے جب ہندوستان کی توانائی کی سلامتی ایک بحری راستے پر منحصر تھی۔ 

یہ بھی پڑھئے: مغربی ایشیا کشیدگی: ایئر انڈیا کا ۹؍ راستوں پر۷۸؍ اضافی پروازوں کا اعلان

ہندوستان روس سے خام تیل خرید سکے گا
امریکی محکمہ خزانہ نے ہندوستانی ریفائنریز کو۳۰؍ دن کا خصوصی لائسنس دیا ہے۔ یہ لائسنس۳؍ اپریل تک کارآمد رہے گا۔ اس سے ہندوستان میں خام تیل کی قلت کا امکان ختم ہو جاتا ہے۔ مزید برآں، پیٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بحران فی الحال حل ہو گیا ہے۔ 
قیمتیں ۴؍ سال سے مستحکم ہیں 
پاکستان میں قیمتوں میں ۵۵؍فیصد اور جرمنی میں ۲۲؍ فیصداضافہ ہوا ہے۔ پیٹرولیم پلاننگ اینڈ اینالیسس سیل (پی پی اے سی) کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے یہ اطلاع دی گئی کہ ہندوستان میں گزشتہ ۴؍برس سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں مستحکم ہیں۔ فروری۲۰۲۲ء اور فروری۲۰۲۶ء کے درمیان دہلی میں پیٹرول کی قیمتوں میں ۰ء۶۷؍فیصد کی معمولی کمی واقع ہوئی۔ اس کے برعکس اسی عرصے کے دوران پاکستان میں پیٹرول ۵۵؍ فیصد اور جرمنی میں ۲۲؍ فیصد مہنگا ہوا۔ 
سرکاری تیل کمپنیوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا
عوام کو مہنگائی سے بچانے کیلئے سرکاری تیل کمپنیوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پبلک سیکٹر کی کمپنیوں کو پیٹرول اور ڈیزل پر۲۴؍ہزار ۵۵۰۰؍ کروڑ روپے اور ایل پی جی پر لگ بھگ ۴۰؍ہزار کروڑ کا نقصان ہوا ہے تاکہ ریٹیل قیمتوں میں اضافہ نہ ہو۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ ۱۲؍برس میں ملک میں ایک بھی پیٹرول پمپ خشک نہیں ہوا۔ 
عالمی پیشکش
ہدوستان کیلئے اچھی بات یہ ہے کہ دنیا کے کئی دوسرے ممالک بھی تیل اور ایل این جی کی فراہمی میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں اس وقت ایل این جی کا اضافی ذخیرہ موجود ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK