درمیانی بریج کو بکنگ کےپاس اورماہم کی سمت والے حصےکو بند کرکے سیڑھیوں پر پولیس کا پہرہ بٹھا دیا گیا ہے، فلائی اووَر سے جانے کی ہدایت ۔
باندرہ اسٹیشن۔ تصویر:آئی این این
باندرہ میں منگل کی صبح سے کی جانے والی انہدامی کارروائی کے سبب بریج بند کئے جانے سے مسافرو ں کو دقتو ں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ مسافروں کی یہ پریشانی ۲۳؍ مئی تک برقرار رہے گی۔ درمیانی بریج کو مشرق کی سمت بکنگ کےپاس سے بیریکیڈ کرکے اور ماہم کی سمت والے حصے کو جو پلیٹ فارم نمبرایک سے ۶؍کو جوڑتا ہے اورجس کی سیڑھیاں کورٹ کی جانب اترتی ہیں، بند کردیا گیا ہے۔ مسافروں کو فلائی اووَر سے جانے کی ہدایت دی جارہی ہے۔اس کےتعلق سے ریلوے کی جانب سے بار بار اعلان بھی کیا جارہا ہے۔ بریج بند کئے جانے کی وجہ یہ ہےکہ کہیں انہدامی کارروائی کےسبب مسافروں کی کثرت اورمکینوں کی برہمی کی وجہ سے کوئی خطرہ لاحق نہ ہوجائے۔حالانکہ ریلوے کی جانب سے اس نظریے کو چھپایا جارہا ہے اوراسے حکمت ِ عملی کا نتیجہ قرار دیا جارہا ہے ۔
نمائندۂ انقلاب نے دیکھا کہ ماہم کی سمت والے بریج کی آخری سیڑھیاں جو کورٹ کی جانب اترتی ہیں اور مسافر وہاں سےاترکرآٹورکشا یا بس میںسوار ہوتے ہیں یا پھرپیدل اپنی منزل کی جانب رواں دوا ں رہتے ہیں، ان سیڑھیوں کو پترے سے بند کرنے کے ساتھ ان پرپولیس کے جوانوں کا بھی پہرہ بٹھادیا گیا ہے۔
اس تعلق سے ویسٹرن ریلوے کے چیف پی آر او ونیت ابھیشیک نے انقلاب کے استفسار پربتایا کہ ’’ فلائی اووَر کا استعمال کرتے ہوئے مسافروں کی آمد ورفت ہورہی ہے اورگھاس بازار کی جانب والے بریج کو بھی مسافر استعمال کرتے ہوئے ٹرمنس بھی جارہے ہیں، انہیں کوئی دقت نہیں ہے۔ ‘‘
حالانکہ چیف پی آر او کے اس دعو ےکےبرعکس حقیقت یہ ہےکہ دو اہم بریج کو جزوی طور پربند کئے جانےکی وجہ سے مسافروں کوکافی پریشانی ہورہی ہے مگر وہ مجبور ہیں، اس کے سوا کچھ کر بھی نہیں سکتے۔‘‘
دوسری جانب انہدامی کارروائی کے دوران نمائندے نے دیکھا کہ ایک چار منزلہ مکان کی بالائی منزل پر مسجد کا بورڈ آویزا ں تھا ،خبر لکھے جانے تک اس مکان کو توڑا نہیں کیا گیا تھا۔