Inquilab Logo Happiest Places to Work

باندرہ مشرق میں افرادی قوت کم ہونے سے میپنگ کیلئےعوام پریشان

Updated: April 13, 2026, 4:56 PM IST | Saadat Khan | Bandra

یہاں کے ۲۶۰؍ بی ایل اوزمیں سے بیشتر نےڈیوٹی جوائن نہیں کی ہے، سماجی اور سیاسی کارکن عوام کی رہنمائی پرمامور، باندرہ نوپاڑہ کوکنی مسجد ہال میں خصوصی کیمپ۔

A view of mapping in Bandra Behramnagar. Photo: INN
باندرہ بہرام نگرمیں میپنگ کا ایک منظر۔ تصویر: آئی این این

باندرہ ایسٹ اسمبلی حلقہ نمبر۱۷۶؍ کے رائے دہندگان بھی بیٹ لیول آفیسر( بی ایل او)کی کمی سے۲۰۰۲ء اور ۲۰۲۴ء کی فہرست میں اپنے ناموں کی میپنگ کرانے کیلئے پریشان ہیں ۔ یہاں ۲۶۰؍ بی ایل اوز کی ضرورت ہے لیکن ان میں سے بیشتر بی ایل اوز نے ابھی ڈیوٹی جوائن نہیں کی ہے۔ افرادی قوت کم ہونے سےموجودہ بی ایل اوزپر کام کا کافی بوجھ ہے۔ ایسے میں مقامی سماجی کارکن اپنے طورووٹروں کی میپنگ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ساتھ ہی بیٹ لیول ایجنٹ (بی ایل اے) کی تقرری کا عمل بھی جاری ہے۔ دریں اثناء اسپیشل انٹینسیو رویژن ( ایس آئی آر) سے متعلق عوام میں پوری معلومات نہ ہونے سے خوف اور بے چینی پائی جا رہی ہے۔ 
شیوسینا ( ایکناتھ شندے گروپ ) کے مقامی رابطہ کار تنویر شیخ کے مطابق ’’الیکشن کمیشن کی جانب سے ایس آئی آر سے متعلق معقول بیداری مہم نہیں چلائی گئی ہے جس کی وجہ سے پسماندہ علاقوں کی جھگی جھوپڑی میں رہنے والے عام لوگوں کو ایس آئی آر کے بارےمیں معلومات نہیں ہے۔ پہلے مرحلہ میں انہیں ایس آئی آر کیاہے؟یہ بتانےکی ضرورت ہے۔ حالانکہ یہ کام انتخابی محکمہ کا ہے لیکن افرادی قوت کے کم ہونے سے الیکشن ڈپارٹمنٹ کے نمائندے ان بستیوں میں نہیں پہنچ پا رہے ہیں۔ ایسے میں ہماری پارٹی عوام کو بیدار کرنے کے علاوہ میپنگ کا کام کر رہی ہے۔ ‘‘ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ’’باندرہ ایسٹ اسمبلی حلقہ نمبر ۱۷۶؍ میں ۲۶۰؍ بوتھ ہیں ، ان مراکز کی ووٹر لسٹ کی میپنگ کیلئے ۲۶۰؍ بی ایل اوز کی ضرورت ہے لیکن فی الحال تقریباً ۲۰؍ سے ۲۵؍ فیصد بی ایل اوز ہی نے ڈیوٹی جوائن کی ہے جس کی وجہ سے میپنگ کے کام میں رکاوٹ آ رہی ہے، اس لئے ہم اپنے طورپر میپنگ اور بی ایل اے کی تقرری کر رہے ہیں۔ ‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: ’’ایس آئی آر کے تئیں بیدار رہنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے‘‘

سماجی کارکن ایڈوکیٹ شغف تارا پور والا کے بقول’’ ہمارے حلقہ میں جو بی ایل اوز تعینات ہیں ، وہ اپنے طور پر اپنی یادی کی میپنگ خود بھی کر رہے ہیں ۔ ان بی ایل اوز نے اپنی یادی کے تقریباً ۳۰؍فیصد رائے دہندگان کی میپنگ کرلی ہے۔ اس کےساتھ وہ اپنی یادی والے علاقوں کا دورہ بھی کر رہےہیں ۔ ہم ان بی ایل اوز کو گلی محلوں میں لے جاکر رائے دہندگان سے ملا رہے ہیں ۔ میپنگ میں آنے والی دشواریوں کو حل کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ‘‘انہوں نےمزید کہا کہ ’’ ناخواندہ طبقے میں ایس آئی آر کےبارے میں بڑی کم بیداری ہے۔ اس لئے ان میں زیادہ خوف نہیں ہےلیکن جنہیں اس کے بارے میں معلومات ہے، ان میں بڑی بےچینی پائی جا رہی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے اہل خانہ کی میپنگ جلدازجلد ہو جائے تاکہ وہ ایس آئی آر کے دیگر عمل کی تیاری کرسکیں ۔ ہمارے گروپ نے اس تعلق سے عوام کی رہنمائی کیلئے ایک مہم شروع کی ہے جس کے تحت ہم روزانہ رات میں ایک جگہ جمع ہوتے ہیں ۔ یہا ں آنے والوں کو ہم ضروری معلومات فراہم کرتے ہیں ، ساتھ ہی لوگوں کی میپنگ کا کام بھی جاری ہے۔ ‘‘
نوپاڑہ کے سماجی کارکن صدیق تاراپور والا نے اس نمائندہ کو بتایاکہ ’’ایس آئی آر کےضمن میں مختلف سیاسی، سماجی اور ملّی ادارے عوام کی رہنمائی کررہے ہیں۔ اتوار کو باندرہ نوپاڑہ کوکنی مسجد ہال، باندرہ مغرب اسٹیشن کےقریب، صبح ۱۰؍ سے شام ۴؍بجے کےدرمیان باندرہ خدمت گروپ اور باندرہ پیس کمیٹی کی طرف سے خصوصی رہنمائی کیمپ کاانعقاد کیا گیا۔ ‘‘
اس سلسلے میں باندرہ ایسٹ اسمبلی حلقہ نمبر ۱۷۶؍ کے ریٹرننگ آفیسر گجندر کمار پٹولے سے بھی ان کے موبائل نمبر پر ایس آئی آر مہم سے متعلق معلومات کیلئے رابطہ کیا گیا لیکن انہوں نے فون ریسیو نہیں کیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK