Inquilab Logo Happiest Places to Work

۳۴؍ کروڑ خوں بہا، ۲۰؍ سال بعد عبدالرحیم کی رہائی، کیرالا میں ہندو مسلم اتحاد

Updated: May 30, 2026, 1:35 PM IST | Calicut

اپنے کفیل کے بیٹے کی حادثاتی موت کا سبب بننے کی بنا پر عبدالرحیم کو سزائے موت کا سامنا تھا، طویل قانونی جنگ کےبعد ورثا ’دیت ‘پر راضی ہوئےمگر رقم ۳۴؍ کروڑ تھی۔

Abdul Rahim with his wife after returning home. Photo: INN
عبدالرحیم وطن واپسی کے بعد اپنے اعزہ کے ساتھ۔ تصویر: آئی این این

۲۶؍ سال کی عمر میں ملازمت کیلئے کیرالا سے سعودی عرب جانے والے عبد الرحیم تقریباً دو دہائیوں تک وہاں  کی جیل میں قید رہنے کے بعد امسال عیدالاضحی کے موقع پر اپنے آبائی شہر کوذی کوڈ واپس آ گئے۔ ان کی رہائی کو حالیہ برسوں کی انسانی ہمدردی سب سے بڑی کی مہمات کا نتیجہ قرار دیا جارہا ہے جو کیرالا میں  ہندو مسلم اتحاد کی علامت بھی بن گیاہے۔ اسے ’’ریئل کیرالااسٹوری‘‘ بھی قرار دیا جارہاہے۔ سعودی عرب کی عدالت نے عبدالرحیم کو ان کے کفیل کے بیٹے ذہنی طور پر معذور بیٹے کی موت کے کیس میں سزائے موت سنائی تھی۔ طویل قانونی لڑائی اور عبدالرحیم کیجان بچانے کی برسوں کوشش کےبعد مہلوک کے اہل خانہ انہیں   دَیت(خوں بہا) کے بدلے آزاد کرنے پرراضی تو ہوئے مگر یہ رقم ۳۴؍ کروڑ  سے زائد تھی۔ کیرالا کی ہندو اور مسلم برادری نے مذہب سے بالاتر ہو کر ان کی جان بچانے یہ خطیر رقم جمعہ کی۔ عبد الرحیم روزگار کی تلاش میں سعودی عرب گئے تھے۔ وہاں وہ بطور ڈرائیور کام کرتے تھے۔ ایک سفر کے دوران ان کے سعودی کفیل کے معذور کم عمر بیٹے کی گردن سے منسلک طبی آلہ غلطی سے الگ ہوگیا، جس کی بنا پر لڑکے کی موت واقع ہوگئی۔ اگرچہ اسے حادثاتی واقعہ قرار دیا گیا لیکن عبد الرحیم کو گرفتار کر لیا گیا اور۲۰۱۲ء میں انہیں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ 

یہ بھی پڑھئے: طلبہ کے سنگین مسائل کی اصل وجہ بدترین بدعنوانی

جب مقتول کے اہل خانہ خوں  بہا پر راضی ہوئے تو اتنی بڑی رقم جمع کرنا ان کے خاندان کیلئے ممکن نہیں تھا۔ سیو عبد الرحیم‘‘مہم شروع کی گئی۔ اس مہم میں کیرالہ اور سعودی عرب میں مقیم ملیالی برادری نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ہندوؤں اور مسلمانوں نے مل کر چندہ جمع کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ مہم انسانیت اور مذہبی ہم آہنگی کی علامت بن گئی۔ رمضان المبارک کے دوران اس مہم نے غیر معمولی رفتار پکڑی۔ شب قدر کے موقع پر صرف ایک دن میں تقریباً۹؍کروڑ روپے جمع ہوئے جبکہ ایک مرحلے پر صرف۹؍منٹ میں ایک کروڑ روپے عطیہ کئے گئے۔ آٹو رکشہ ڈرائیوروں، مزدوروں، خواتین اور عام لوگوں نے اس میں اپنی استطاعت کے مطابق حصہ لیا اور مجموعی طور پر۴۷؍ کروڑ روپے سے زائد رقم جمع ہوئی۔ 

یہ بھی پڑھئے: نیٹ پر سپریم کورٹ میں سرزنش،حکومت کو تلخ سوالوں کا سامنا

سعودی عدالت نے جولائی۲۴ء میں عبد الرحیم کی سزائے موت ختم کر دی، تاہم عوامی حقوق کے تحت انہیں ۲۰؍ سال قید مکمل کرنا پڑی۔ رہائی کے بعد وہ عیدالاضحی سے قبل ایئر انڈیا کی پرواز سے کالی کٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچے جہاں اہل خانہ اور سیکڑوں مقامی افراد نے ان کا استقبال کیا۔ گھر پہنچنے پر ان کی والدہ فاطمہ اپنے بیٹے کو دیکھ کر آبدیدہ ہوگئیں۔ تقریباً۲۰؍ برس بعد ماں نے عید کے دن اپنے ہاتھوں سے بیٹے کو کھانا کھلایا۔ یہ منظر وہاں موجود ہر شخص کو جذباتی کر گیا۔ عبد الرحیم نے واپسی پر کہاکہ’’واپسی کی خوشی بیان کرنے کیلئے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ آج میں ہزاروں نیک دل لوگوں کی دعاؤں اور بے لوث مدد کی وجہ سے زندہ ہوں۔ ‘‘ عیدا لاضحی پر یہ ایک ایسا ملاپ تھا جس کی امید خاندان نے شاید چھوڑ دی تھی۔ عبد الرحیم بدھ کوسعودی جیل سے رہائی کے بعد جمعرات کی صبح تقریباً ساڑھے ۷؍بجے کالی کٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچے۔ ان کے اہل خانہ جو برسوں سے ان کی واپسی کیلئے دعائیں کررہے تھے اور مہم چلا رہے تھے ان کے استقبال کے لیے موجود تھے۔ سعودی عرب میں ہندوستانی سفارت خانہ نے اپنے بیان میں کہا ہےکہ عبد الرحیم کو۲۰؍ سال جیل میں گزارنے کے بعد معاف کر کے رہا کر دیا گیا ہے۔ سفارت خانے کے مطابق اس دوران سعودی حکام کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا گیا اور عبد الرحیم کی خیریت پر نظر رکھی گئی۔ سفارت خانے نے سعودی حکام کے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے ہندوستانی برادری کے غیر متزلزل تعاون۔ یکجہتی اور عدالتی عمل پر اعتماد کو بھی سراہا۔ بیان میں کہا گیا کہ ہندوستانی برادری نے فنڈ جمع کرنے کی مہم کے ذریعے غیر معمولی مدد فراہم کی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK