فرانسیسی حکام نے غزہ میں انسانی امداد کی ترسیل روکنے کے الزامات پر دو فرانسیسی نژاد اسرائیلی شہریوں کے خلاف ’’نسل کشی میں معاونت‘‘ کے تحت وارنٹ جاری کیے ہیں۔ وارنٹس میں گرفتاری کا حکم شامل نہیں، تاہم ملزمان کو تفتیشی جج کے سامنے پیش ہونا ہوگا۔
EPAPER
Updated: February 06, 2026, 7:02 PM IST | Paris
فرانسیسی حکام نے غزہ میں انسانی امداد کی ترسیل روکنے کے الزامات پر دو فرانسیسی نژاد اسرائیلی شہریوں کے خلاف ’’نسل کشی میں معاونت‘‘ کے تحت وارنٹ جاری کیے ہیں۔ وارنٹس میں گرفتاری کا حکم شامل نہیں، تاہم ملزمان کو تفتیشی جج کے سامنے پیش ہونا ہوگا۔
فرانسیسی عدالتی حکام نے غزہ میں انسانی امداد کی ترسیل روکنے کی کوششوں سے متعلق ’’نسل کشی میں معاونت‘‘ کے الزام میں دو فرانسیسی نژاد اسرائیلی شہریوں کے خلاف وارنٹس جاری کئے ہیں۔ قانونی ذرائع کے مطابق یہ وارنٹس جولائی ۲۰۲۵ء میں جاری کیے گئے تھے۔ تحقیق سے وابستہ ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ وارنٹس نیلی کوفر نوری اور ریچل توئیتو کے خلاف جاری کیے گئے ہیں۔ نیلی کوفر کا تعلق ’’اسرائیل از فارایور‘‘ جبکہ ریچل کا تعلق ’’ژاؤ ۹‘‘ سے بتایا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ وارنٹس دونوں افراد کو تحقیقات کرنے والے مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہونے کا پابند بناتے ہیں، تاہم ان میں حراست یا گرفتاری کا حکم شامل نہیں ہے۔ ایک عدالتی ذریعے نے بتایا کہ یہ کارروائی ایک فرانسیسی میڈیا رپورٹ کے بعد تصدیق شدہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: فنڈ کے کمی، اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزیں ادارے کی خدمات میں ۲۰؍ فیصد کی کمی
تحقیقات کے مطابق دونوں کارکنان پر الزام ہے کہ انہوں نے جنوری سے نومبر ۲۰۲۴ء کے درمیان غزہ میں داخل ہونے والی انسانی امداد کو روکنے کی کوشش کی۔ ان الزامات میں خاص طور پر مئی ۲۰۲۴ء کے دوران نیزانہ کراسنگ اور کریم شیلوم کراسنگ پر امدادی ٹرکوں کو روکنے کی مبینہ کوششیں شامل ہیں۔ قانونی ذرائع کے مطابق، دونوں افراد پر ’’عوامی طور پر نسل کشی پر اکسانے‘‘کا شبہ بھی ظاہر کیا گیا ہے، کیونکہ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے عوامی بیانات کے ذریعے غزہ تک امداد پہنچنے سے روکنے کی اپیل کی۔
یہ بھی پڑھئے: ورلڈ حجاب ڈے پر پوسٹ، نیویارک کے ظہران ممدانی کو شدید تنقید کا سامنا
غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے دائر شکایت کے وکیل کلیمنس بیکٹریٹ نے کہا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب انسانی امداد کی رکاوٹ کو فرانسیسی قانون کے تحت ’’نسل کشی میں معاونت‘‘ کے زاویے سے جانچا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ مقدمہ بین الاقوامی انسانی قانون کے اطلاق کے حوالے سے ایک اہم نظیر بن سکتا ہے۔ یاد رہے کہ یہ شکایت گزشتہ سال ’’فلسطین سینٹر فار ہیومن رائٹس‘‘، الحق اور المیزان کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔ تحقیقات سے قریبی ذرائع نے بتایا کہ اسی مقدمے کے سلسلے میں مزید تقریباً ۱۰؍ افراد کے خلاف بھی وارنٹس جاری کیے جا سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا۔ فرانسیسی عدالتی نظام کے تحت یہ کارروائی تفتیشی مرحلے میں شمار ہوتی ہے اور الزامات ثابت ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ آئندہ عدالتی عمل کے بعد ہی سامنے آئے گا۔ فی الحال دونوں ملزمان کی جانب سے ان الزامات پر کوئی عوامی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔