Updated: February 08, 2026, 6:00 PM IST
| Dhaka
بنگلہ دیش عوامی لیگ کے لیڈررمیش چندر سین انتخابات سے کچھ دن قبل حراست میں انتقال کر گئے، عوامی لیگ نے اسے ریاست کا جرم قرار دیا، ساتھ ہی کہا کہ دوران حراست انہیں مناسب طبی سہولت فراہم نہیں کی گئی،اس کے علاوہ حکومت پر اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانےکا الزام عائد کیا۔
بنگلہ دیش عوامی لیگ کے سینئر لیڈراور سابق وزیر رمیش چندر سین۔ تصویر: ایکس
بنگلہ دیش عوامی لیگ کے سینئر لیڈراور سابق وزیر رمیش چندر سین سنیچر ۷؍ فروری کو بنگلہ دیش کی دیناجپور ڈسٹرکٹ جیل میں حراست کے دوران انتقال کر گئے۔ جیل حکام کے مطابق۸۳؍ سالہ سین سنیچر کی صبح جیل کے اندر غیر معمومی طور پر بیمار محسوس کرنے لگے اور انہیں دیناجپور میڈیکل کالج اسپتال لے جایا گیا، جہاں مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً۹؍ بج کر ۲۹؍ منٹ پر ان کی موت کی تصدیق کردی گئی۔
ہندوستانی خبررساں ایجنسی اے این آئی نے جیل سپرنٹنڈنٹ فرہاد سرکار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تمام قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ان کی لاش ان کے خاندان کے حوالے کر دی جائے گی۔واضح رہے کہ ان کی موت تقریباً ایک ماہ بعد آئی ہے جب ایک ممتاز موسیقار اورعوامی لیگ لیڈرپرلائے چاکی دل کا دورہ پڑنے کے بعد حراست میں انتقال کر گئے تھے۔بعد ازاں ان کے خاندان نے طبی غفلت کا الزام لگایا اور دعویٰ کیا کہ انہیں ان کی گرتی ہوئی صحت کے بارے میں بروقت اطلاع نہیں دی گئی۔عوامی لیگ کے ایک اور لیڈرعبدالرشید ناؤگاؤں جیل میں انتقال کر گئے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق صرف جنوری۲۰۲۶ء میں کم از کم۱۵؍ حراستی اموات ہوئیں، جو دسمبر۲۰۲۵ء میں ۹؍ اموات سے کہیں زیادہ ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: روس: چاقو کے حملے میں چار ہندوستانی طلبہ سمیت متعدد زخمی
تاہم بنگلہ دیش عوامی لیگ نے ایک بیان میں کہا کہ’’ سین کی موت نے یہ عیاں کر دیا ہے کہ ریاست سیاسی مخالفین کو ختم کرنے کے لیے جیلوں کو خاموش ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔‘‘ اس نے الزام لگایا کہ سین کو اعلیٰ معیار کی طبی دیکھ بھال نہیں دی گئی۔ گرفتاری کے بعد حراست میں تشدد، مناسب طبی علاج سے انکار، صحت میں اچانک بگاڑ، اور منٹوں میں موت کی تصدیق، یہ سب مل کر سوالیہ نشان لگاتے ہیں۔کہ آیا کیا یہ واقعی ایک حادثہ تھا، یا سیاسی انتقام کے ایک مسلسل عمل کا ایک اور باب۔‘‘بیان میں مزید کہا گیا کہ سین کی موت ایک الگ تھلگ واقعہ نہیں ہے۔ اس نے موجودہ حکومت پر ’’بیماری‘‘ کا لفظ استعمال کر کے ذمہ داری سے بچنے کا الزام لگایا۔ اور کہا کہ ،’’یہ موت نہیں ہے۔ یہ ریاست کا جرم ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: برطانوی نژاد پپیٹا سیٹھ ۸۴؍ برس میں ہندوستانی شہری بن گئیں
واضح رہے کہ یہ واقعہ بنگلہ دیش میں۱۲؍ فروری۲۰۲۶ء کو ہونے والے انتخابات سے پہلے پیش آیا ہے۔ یہ اگست۲۰۲۴ء میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے اقتدار سےمعزولی کے بعد پہلے عام انتخابات ہیں۔ اس کے بعد محمد یونس کی عبوری انتظامیہ کی جگہ عوام کے ذریعے منتخب حکومت برسراقتدار آجائے گی۔ انتخاب بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور جماعت اسلامی (جے آئی) اتحاد کے مابین مقابلے میں بدل گیا ہے۔ بی این پی لیڈر طارق رحمان، مرحوم سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کے بیٹے، کو سب سے آگے سمجھا جا رہا ہے۔ وہ۱۷؍ سال کی جلاوطنی کے بعد بنگلہ دیش واپس آئے ہیں، جس کے بعد ان کی پارٹی زیادہ تر انتخابی جائزوں میں آگے چل رہی ہے۔