Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ ایک ہزار گھنٹے سے تجاوز کر گیا: انٹرنیٹ واچ ڈاگ

Updated: April 11, 2026, 10:04 PM IST | Tehran

انٹرنیٹ واچ ڈاگ کے مطابق ایران میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ ایک ہزار گھنٹے سے تجاوز کر گیا، نیٹ بلاکس کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ کے شروع سے کنیکٹیویٹی تقریباً ایک فیصد پر برقرار ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

انٹرنیٹ مانیٹرنگ گروپ نیٹ بلاکس کے ہفتہ کو شیئر کردہ اعداد و شمار کے مطابق، ایران میں ملک گیر انٹرنیٹ بندش ایک ہزار گھنٹے سے تجاوز کر گئی ہے۔امریکی سوشل میڈیا کمپنی ایکس پر ایک پوسٹ میں، نیٹ بلاکس نے کہا،’’ ۱۰۰۰؍گھنٹے،‘‘ اس کے ساتھ ایک گراف دکھایا گیا جس میں ایران میں نیٹ ورک کنیکٹیویٹی مارچ کے شروع میں معمول کی سطح سے تقریباًایک فیصد پرپہنچ گئی اور۱۰؍ اپریل تک اسی سطح پر برقرار رہی۔

یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو نے امریکی صدور سے ایران پر حملے کا بارہا مطالبہ کیا: جان کیری

دریں اثناء نیٹ بلاکس اور بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق یہ بندش۲۸؍ فروری کو امریکہ-اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہوئی، جس میں مبینہ طور پر۳۰۰۰؍ سے زائد ایرانی شہید ہوئے، جن میں اس وقت کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای بھی شامل تھے۔بعد ازاںیہ بلیک آؤٹ۴۰؍ دن سے تجاوز کر چکا ہے، جو ریکارڈ کی گئی طویل ترین ملک گیر انٹرنیٹ بندشوں میں سے ایک ہے، جس میں زیادہ تر صارفین شدید پابندی والے مقامی نیٹ ورکس تک محدود رہ گئے ہیں۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف ۱۰؍ ہزار ۸۰۰؍ سے زیادہ فضائی حملے کئے گئے

واضح رہے کہ ۲۸؍ فروری کو اسرائیل اور امریکہ نے مشترکہ طور پر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا آغاز کیا، اورمسلسل ۴۰؍ روز تک تمام ایرانی شہروں کو بمباری کا نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے بھی جوابی کارروائی کے طور پر خطے میں موجود امریکی اثاثوں پر میزائل اور ڈرون سے حملہ کیا۔ چونکہ امریکہ اور اسرائیل کی کوشش تھی کہ ایرانی عوام کو حکومت کے خلاف ورغلا کر عوامی بغاوت پیدا کی جائے تاکہ حکومت کا تختہ پلٹ کیا جاسکے، تاہم اس خطرے کے پیش نظر ایرانی حکومت نے انٹرنیٹ مکمل پابندی عائد کردی، تاکہ عوام کسی بھی حکومت مخالف پروپیگنڈا کا شکار نہ ہو، اور نہ ہی افواہ پھیلائی جاسکے جو عوامی اضطراب کا سبب بنے۔ اورحکومت اپنی اس مقصد میں کامیاب بھی ہوئی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK