بنگلہ دیش نے شیخ حسینہ اور ان کےخاندان سے منسلک ۶؍ اعشاریہ ۱۹؍ بلین ڈالر( تقریباً ۶؍ ہزار کروڑ روپئے) کے اثاثے منجمد کردئے، جو گزشتہ سال کی سیاسی تبدیلی کے بعد اثاثے منجمد کرنے کی سب سے بڑی کارروائیوں میں سے ایک ہے۔
EPAPER
Updated: July 16, 2026, 9:09 PM IST | Dhaka
بنگلہ دیش نے شیخ حسینہ اور ان کےخاندان سے منسلک ۶؍ اعشاریہ ۱۹؍ بلین ڈالر( تقریباً ۶؍ ہزار کروڑ روپئے) کے اثاثے منجمد کردئے، جو گزشتہ سال کی سیاسی تبدیلی کے بعد اثاثے منجمد کرنے کی سب سے بڑی کارروائیوں میں سے ایک ہے۔
بنگلہ دیش کی مالیاتی انٹیلیجنس ایجنسی نے بدھ۱۵؍ جولائی کو کہا کہ حکام نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ، ان کے خاندان کے اراکین اور ملک کے۱۰؍ بڑے کاروباری گروپوں سے منسلک۷۶۰؍ ارب ٹکہ (( تقریباً ۶؍ ہزار کروڑ روپئے)) کے اثاثے منجمد کر دیے ہیں، جو گزشتہ سال کی سیاسی تبدیلی کے بعد اثاثے منجمد کرنے کی سب سے بڑی کارروائیوں میں سے ایک ہے۔ڈھاکہ میں بنگلہ دیش فنانشل انٹیلیجنس یونٹ (بی ایف آئی یو) کی سالانہ رپورٹ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، بی ایف آئی یو کے سربراہ اختیار الدین محمد ماموں نے کہا کہ عدالتی احکامات نے حکام کو بنگلہ دیش کے اندر ۵۷۰؍ارب ٹکہ اور بیرون ملک مزید۱۹۰؍ ارب ٹکہ کے اثاثے منجمد کرنے کو ممکن بنایا۔ماموں نے یہ تفصیل نہیں دی کہ انفرادی خاندانی یا مخصوص کاروباری گروپوں کی کتنی رقم منجمد کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: شیخ حسینہ کو واپس آ کر مقدمے کا سامنا کرنا چاہیے: وزیر اعظم کے مشیر
بعد ازاں بی ایف آئی یو کے سربراہ نے کہا کہ حکام اب مبینہ طور پر ملک سے باہر منتقل کی گئی رقم کا پتہ لگانے اور واپس لینے پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا، ’’ہم ان اثاثوں کو واپس لینے کے لیے کام کر رہے ہیں جو ملک سے چوری کیے گئے تھے۔ ہم اس سال کے آخر تک اثاثوں کی وصولی پر مثبت خبر شئیر کرنے کی امید رکھتے ہیں۔‘‘
واضح رہے کہ یہ اثاثہ جاتی کارروائی ان تحقیقات کے بعد ہوئی ہے جب۵؍ اگست۲۰۲۴ء کو طلبہ کی قیادت میں بغاوت کے بعد حسینہ کو اقتدار سے بے دخل کیا گیا تھا۔وہ بعد میں بنگلہ دیش سے فرار ہو گئیں اور تب سے ہندوستان میں پناہ گزین ہیں۔پروفیسر محمد یونس کی سربراہی میں عبوری حکومت نے بعد میں حسینہ کے خاندان اور کئی بڑے کارپوریٹ گروپوں کے خلاف بدعنوانی، رشوت، فراڈ، جعلسازی، منی لانڈرنگ، غیر ملکی کرنسی کی اسمگلنگ اور ٹیکس چوری سمیت الزامات کی تحقیقات کا حکم دیا۔تاہم ایف آئی یو کے مطابق، تفتیش کا دائرہ ایس عالم گروپ، بیکسیمکو گروپ، نبیل گروپ، سمٹ گروپ، اورین گروپ، پریمیئر گروپ، ناسا گروپ، بشندھرا گروپ، سکدر گروپ اور آرمیٹ گروپ تک پھیلا ہوا ہے۔یہ تفتیش کریمنل انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ (سی آئی ڈی)، نیشنل بورڈ آف ریونیو (این بی آر) اور اینٹی کرپشن کمیشن (اے سی سی) مشترکہ طور پر کر رہے ہیں، جبکہ بی ایف آئی یو تفتیش کے مالیاتی انٹیلیجنس پہلو کو مربوط کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ملائیشیا میں مقیم کسی بھی اسرائیلی شہری کو ملک بدر کردیا جائے گا: وزیراعظم
تاہم اس موقع پر ماموں سے پوچھا گیا کہ کیوں بڑی مالیاتی تحقیقات اکثر حکومت کی تبدیلی کے بعد تیز ہوتی ہیں اور کیا موجودہ عبوری انتظامیہ کے ارکان بھی جانچ کے دائرے میں آ سکتے ہیں۔انہوں نے اس الزام کو مسترد کیا کہ تحقیقات سیاسی طور پر متحرک ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’اپنا کام کرتے ہوئے ہم سیاسی وابستگی یا ذاتی شناخت پر غور نہیں کرتے۔ ہم خود کام پر توجہ دیتے ہیں۔‘‘ماموں نے مزید کہا کہ’’ بینک جب بھی مشکوک لین دین کی نشاندہی کرتے ہیں تو اکاؤنٹس منجمد کر دیتے ہیں، چاہے اس میں کوئی بھی ملوث ہو۔ساتھ ہی انہوں نے کہا، ’’اگر عبوری حکومت کا کوئی فرد ملوث ہے تو وہ بھی سامنے آئے گا۔‘‘