Inquilab Logo Happiest Places to Work

ملائیشیا میں مقیم کسی بھی اسرائیلی شہری کو ملک بدر کردیا جائے گا: وزیراعظم

Updated: July 16, 2026, 11:10 AM IST | Kuala Lumpur

ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے کہا ہے کہ ملائیشیا میں پائے جانے والے کسی بھی اسرائیلی شہری کو فوری طور پر ملک بدر کر دیا جائے گا۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب حکام اس الزام کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ ایک اسرائیلی شہری جنوبی ریاست جوہر کے ایک نجی رہائشی کمیونٹی کے آپریشنز میں ملوث ہے۔

Malaysian Prime Minister Anwar Ibrahim. Photo: X
ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم۔ تصویر: ایکس

ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے کہا ہے کہ ملائیشیا میں پائے جانے والے کسی بھی اسرائیلی شہری کو فوری طور پر ملک بدر کر دیا جائے گا۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب حکام اس الزام کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ ایک اسرائیلی شہری جنوبی ریاست جوہر کے ایک نجی رہائشی کمیونٹی کے آپریشنز میں ملوث ہے۔انور ابراہیم نے بدھ کو کہا کہ متعلقہ حکام ان الزامات کی چھان بین کر رہے ہیں اور اگر یہ الزامات سچ ثابت ہوئے تو حکومت کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ انگریزی روزنامہ فری ملائیشیا ٹوڈے کے مطابق، انہوں نے کہا، ’’اگر ہمیں کوئی اسرائیلی ملتا ہے تو ہم انہیں فوری طور پر جلاوطن کر دیں گے، کیونکہ ہم اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کے’رِجیم چینج‘ منصوبے سے وابستگی کے الزام کو احمدی نژاد نے جھوٹ قرار دیا

واضح رہے کہ ملائیشیا اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتااور اسرائیلی پاسپورٹ ہولڈرز کو عام طور پر خصوصی حکومتی اجازت کے بغیر ملائیشیا میں داخلے کی ممانعت ہے۔وزارت داخلہ نے جوہر ریاستی حکومت کی جانب سے نیٹ ورک اسکول (جوہر میں قائم ایک اسٹارٹ اپ کمیونٹی) سے متعلق الزامات میں وفاقی تحقیقات کا مطالبہ کرنے کے بعد انکوائری شروع کر دی ہے۔بعد ازاں دوسری جانب، امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ فاریسٹ سٹی میں ایک بین الاقوامی کمیونٹی میں معائنہ کیے گئے تمام۲۶۶؍ غیر ملکیوں کے پاس درست امیگریشن دستاویزات تھیں۔ ذہن نشین رہے کہ فاریسٹ سٹی جوہر میں سنگاپور کی سرحد کے قریب مصنوعی جزائر پر تعمیر کیا گیا ایک مخلوط منصوبہ ہے، جسے بین الاقوامی رہائشی مرکز کے طور پر فروخت کیا جاتا ہے اور اس نے غیر ملکیوں کی کافی تعداد کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے، تاہم یہ وقتاً فوقتاً امیگریشن اور ریگولیٹری معاملات کے تعلق سے تنقید کی زد میں آتا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK