ایران میں ایک بڑا پوسٹر آویزاں کیا گیا ہے، جس میں ٹرمپ کو تابوت میں لیٹے ہوئے دکھایا گیا ہے، اس کے علاوہ اس میں ٹرمپ سے انتقام لینے اور قتل کرنے کے نعرے بھی تحریر ہیں۔
EPAPER
Updated: July 16, 2026, 9:09 PM IST | Tehran
ایران میں ایک بڑا پوسٹر آویزاں کیا گیا ہے، جس میں ٹرمپ کو تابوت میں لیٹے ہوئے دکھایا گیا ہے، اس کے علاوہ اس میں ٹرمپ سے انتقام لینے اور قتل کرنے کے نعرے بھی تحریر ہیں۔
ایران نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی دھمکی دینے کے چند روز بعد تہران میں ایک بہت بڑا پوسٹر آویزاں کیا ہے جس میں وہ تابوت میں نظر آ رہے ہیں۔ ایران کے دارالحکومت کے قلب میں واقع تہران کے انقلاب چوک پر ایک بڑا بل بورڈ نصب کیا گیا ہے جس پر ٹرمپ کی لاش کو تابوت میں لیٹے ہوئے دکھایا گیا ہے اور اس کے گرد ’’ٹرمپ کو قتل کرو‘‘ کے پیغامات لکھے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب ایران نے سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کا بدلہ لینے کی دھمکی دی تھی۔ جبکہ سابق سپریم لیڈر کا جنازہ ان کی شہادت کے تین ماہ بعد ۹؍ جولائی کو نکالا گیا، وہ امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں شہید ہوگئے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: خلیج بنگال: روہنگیا مہاجرین کی کشتیاں الٹ گئیں،۵۰۰؍ سے زائد افراد کی موت کا خدشہ
بعد ازاں ایران میں سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے کے دوران حامیوں نے بڑے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر ٹرمپ کی موت کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ جنازے کے فوراً بعد ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے والد کے قتل کا بدلہ لینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اپنے والد کے خون کا بدلہ لینا ’’ایک قومی مطالبہ‘‘ہے اور یہ ’’یقینی طور پر پورا کیا جائے گا۔‘‘ اگرچہ انہوں نے امریکی صدر کا نام نہیں لیا، لیکن انہوں نے عہد کیا کہ وہ اپنے والد کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے اور کہا کہ انہیں ’’اپنے بستروں میں پرامن موت مرنے‘‘ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ مزید برآںجنازے کے جلوسوں کے دوران سوگواروں کی طرف سے ’’ہم ٹرمپ کو قتل کریں گے‘‘ اور ’’ٹرمپ کو قتل کرو‘‘ کے بڑے بینرز دکھائے گئے۔
یہ بھی پڑھئے: اسلامیات کے ممتاز امریکی اسکالر پروفیسر جان ایل ایسپوزیٹو کا انتقال
تاہم مجتبیٰ خامنہ ای کی دھمکی کے بعد، ٹرمپ نے کہا کہ وہ کچھ عرصے سے ایرانی ہٹ لسٹ میں ہیں۔ ٹرمپ نے ۸؍ جولائی کو نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا،’’میں برسوں سے ان کی فہرست میں پہلے نمبر پر ہوں۔‘‘جبکہ دو دن بعد۱۰؍ جولائی کو، ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے احکامات دیے ہیں کہ اگر ان کے ساتھ کچھ ہوتا ہے تو ایران کو تباہ کر دیا جائے۔حالانکہ اس بارے میں قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں کہ امریکی آئین کسی ایسے صدر کے احکامات کے بارے میں کیا کہتا ہے جو انتقال کر گیا ہو یا کسی اور وجہ سے اپنے عہدے سے ہٹ گیا ہو۔ ٹرمپ نے کہا تھا،’’ صرف ایک بات ہے، میں نے ہدایات چھوڑ دی ہیں اگر کچھ ہوتا ہے تواس درجہ کی بمباری کرو جسے انہوں نے کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔‘‘