حال ہی میں حتمی شکل پانے والے ہند -یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کو عملی جامہ پہنانے کی ایک اہم کوشش کے تحت مرکزی وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن نے جرمنی کے شہر میونخ میں یورپی سینٹرل بینک (ای سی بی) کی صدر کرسٹین لاگارڈ سے ملاقات کی۔
EPAPER
Updated: February 15, 2026, 5:07 PM IST | Munich
حال ہی میں حتمی شکل پانے والے ہند -یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کو عملی جامہ پہنانے کی ایک اہم کوشش کے تحت مرکزی وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن نے جرمنی کے شہر میونخ میں یورپی سینٹرل بینک (ای سی بی) کی صدر کرسٹین لاگارڈ سے ملاقات کی۔
حال ہی میں حتمی شکل پانے والے ہند -یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کو عملی جامہ پہنانے کی ایک اہم کوشش کے تحت مرکزی وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن نے جرمنی کے شہر میونخ میں یورپی سینٹرل بینک (ای سی بی) کی صدر کرسٹین لاگارڈ سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں مالیاتی تعاون بڑھانے اور معاہدے کے تحت تجارتی سرگرمیوں کو آسان بنانے میں ای سی بی کے ممکنہ کردار پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
اتوارکو وزارتِ خزانہ کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان کے مطابق دونوں لیڈروں نے جنوری ۲۰۲۶ء میں ہند -یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دیے جانے کا خیرمقدم کیا۔ ملاقات کے دوران نرملا سیتارمن نے اس بات پر زور دیا کہ جیسے جیسے معاہدہ نفاذ کی جانب بڑھ رہا ہے، ای سی بی تجارت اور سرمایہ کاری کے راستوں کو ہموار بنانے میں اہم مالیاتی کردار ادا کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:مارکرم کی طوفانی نصف سنچری، جنوبی افریقہ نے نیوزی لینڈ کو ۷؍ وکٹوں سے ہرا دیا
مالیاتی شعبے میں تعاون کو گہرا کرنے کے مقصد سے ایک اہم اعلان کرتے ہوئے نرملا سیتارمن نے بتایا کہ ایف ٹی اے کے فریم ورک کے تحت ہندوستان چار سال کے دوران یورپی یونین کے بینکوں کو زیادہ سے زیادہ ۱۵؍ شاخیں کھولنے کی اجازت دے گا۔ یہ اقدام مرکزی بجٹ برائے مالی سال۲۶۔۲۰۲۵ء اور ۲۷۔۲۰۲۶ء کی دفعات کے ذریعے ممکن بنایا جائے گا۔
طویل مذاکرات کے بعد رواں سال کے آغاز میں طے پانے والے اس معاہدے سے دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافہ، محصولات، دیگر تجارتی رکاوٹوں میں کمی، اور ہندوستان اور ۲۷؍ رکنی یورپی بلاک کے درمیان سرمایہ کاری کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھئے:تاپسی پنّو نے کہا: کنگنا اور اُروشی سے میرا کوئی جھگڑا نہیں
میونخ میں ہونے والی یہ ملاقات یورپی یونین کے ساتھ تزویراتی اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کی ہندوستان کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے، جس میں اس آزاد تجارتی معاہدے کو عالمی تجارتی حکمتِ عملی کا ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔