• Sun, 15 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ اور ایران جنیوا میں ایٹمی مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے رضامند: رپورٹ

Updated: February 15, 2026, 5:16 PM IST | Geneva

ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ اور ایران کشیدگی کے درمیان جنیوا میں ایٹمی مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے تیار ہوگئے ہیں، حکام کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا مقصد تنازع کو روکنے کے لیے معاہدہ کرنا ہے، جبکہ ٹرمپ کا مطالبہ ہے کہ یورینیم کی افزودگی صفر ہو ساتھ ہی معاہدے کی ناکامی کی صورت میں سخت اقدامات کا اشارہ دیا۔

Iranian Foreign Minister Abbas Araghchi. Photo: INN
ایرانی وزیر خارجہ عباس آراغچی۔ تصویر: آئی این این

امریکی حکام اور ذرائع کے مطابق، امریکہ اور ایران کے درمیان خلیج میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے درمیان، منگل کو جنیوا میں ایٹمی مذاکرات کا دوسرا دور متوقع ہے۔امریکی ویب سائٹ ایکزیوس ( Axios) کے حوالے سے جمعے کو بتایا گیا کہ ان مذاکرات کا مقصد ایک ایسے معاہدے تک پہنچنا ہے جو کشیدگیکو کم کر سکے۔ امید ہے کہ اس مذاکرات میں امریکہ کی جانب سے ڈونالڈ ٹرمپ کے داماد اور غیر سرکاری مشیر جیرڈ کشنر اور وہائٹ ہاؤس کے ایلچی اسٹیو وٹکوف شریک ہوں گے، جبکہ ایران کا وفد وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں ہوگا۔واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالثی کرنے والے عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی کے بھی شرکت کرنے کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھئے: یورپ کو جغرافیائی سیاسی طاقت بننا سیکھنا چاہئے، یہی درست وقت ہے: صدر میکرون

دریں اثناء ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ وٹکوف نے اس ہفتے کے شروع میں عمان کے ذریعے تہران تک پیغامات پہنچائے تھے۔ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق، ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے تصدیق کی ہے کہ انہیں عمانی حکام سے ملاقات کے بعد امریکی تجاویز پر مشتمل ایک دستاویز موصول ہوئی ہے۔ٹرمپ نے خطے میں ایک اہم فوجی تعمیر کے ذریعے دباؤ برقرار رکھتے ہوئے سفارت کاری کے لیے آمادگی کا اشارہ دیا ہے۔ٹرمپ نے منگل کو( Axios ) کو بتایا، ’’یا تو ہم معاہدہ کریں گے یا ہمیں پچھلی بار کی طرح کچھ بہت سخت کرنا پڑے گا،‘‘بظاہر ان کا اشارہ گزشتہ جون میں ایران پر امریکی فضائی حملوں کی طرف تھا۔ بعد ازاں جمعے کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی بھی معاہدے کے لیے ضروری ہے کہ ایران کے اندر یورینیم کی افزودگی صفر ہو، اور مزید کہا کہ تہران نے ابھی تک اپنے جوہری پروگرام پر کوئی معنی خیزپیش رفت  نہیں دکھایا ہے۔  جبکہ حکومتی تبدیلی کےتعلق سے پوچھے جانے پر، ٹرمپ نے کہا کہ ’’ایسا لگتا ہے کہ یہ سب سے اچھی چیز ہو سکتی ہے جو ہو سکتی ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK