• Tue, 06 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

وینزویلا: کارگزار صدر ڈیلسی روڈریگز کی امریکہ کو تعاون کی دعوت

Updated: January 05, 2026, 6:07 PM IST

امریکہ کی مبینہ فوجی کارروائی کے دوران وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورز کی گرفتار ی نے بین الاقوامی سطح پر ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔ وینزویلا کی کارگزار صدر ڈیلسی روڈریگز نے امریکی لیڈروں کو تعاون کی دعوت دی ہے جبکہ چین نے امریکہ کے اس عمل کو مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ امریکی فیصلے دنیا کے ’عدالت‘ کا کردار ادا نہیں کر سکتے۔ صدر ٹرمپ نے وینزویلا پر مزید کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ واشنگٹن کے مطابق وہ وینزویلا پر حکومت نہیں کرے گا بلکہ تیل پر بلاک کی مدد سے تبدیلیوں پر دباؤ ڈالے گا۔

Acting President Delcy Rodríguez. Picture: INN
کارگزار صدر ڈیلسی روڈریگز۔ تصویر: آئی این این

وینزویلا میں امریکی افواج کی متنازع کارروائی میں صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کرکے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیلسی روڈریگز نے عبوری صدر کی حیثیت سے امریکہ کو تعاون کی پیشکش کی ہے۔ روڈریگز نے سوشل میڈیا پر پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وینزویلا امن، بین الاقوامی قانون اور باہمی احترام کی بنیاد پر امریکہ کے ساتھ سفارتی اور ترقیاتی تعاون چاہتا ہے، جس میں دونوں ممالک کے عوام کا مفاد شامل ہو۔ 

چین کی شدید تنقید
چینی وزارت خارجہ نے امریکہ کی جانب سے مادورو اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری کو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک کے خلاف فوجی کارروائی اور اس کے صدر کے خلاف طاقت کا استعمال نہ صرف خودمختاری کی خلاف ورزی ہے بلکہ عالمی امن اور سلامتی کیلئے بھی خطرناک مثال قائم کرتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:ایران: صورتحال کشیدہ، انٹرنیٹ معطل، بین الاقوامی ردِ عمل

ٹرمپ کی دھمکی
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وینزویلا نے ’’مناسب برتاؤ‘‘ نہ کیا تو امریکہ دوسری فوجی کارروائی کیلئے تیار ہے اور انہوں نے کولمبیا اور دیگر ممالک میں آپریشن کے امکانات پر بھی اشارے دیئے ہیں۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اب وینزویلا کے وسائل کو فعال کرے گا اور وہاں کے تیل کے شعبے میں امریکی کمپنیوں کی شمولیت ممکن بنائے گا۔ 

واشنگٹن کا مؤقف
امریکی محکمہ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ امریکہ وینزویلا کی حکومت نہیں چلائے گا، بلکہ وہ موجودہ تیل بلاک کے ذریعے دباؤ ڈالنے اور پالیسی تبدیلیوں کو فروغ دینے کی کوشش کرے گا۔ سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکہ صرف سیاست اور معاشی تبدیلیاں چاہتا ہے، نہ کہ براہِ راست حکمرانی۔ 

یہ بھی پڑھئے:ظہران ممدانی کا دفتر میں پہلا دن، ان کا لباس بہت کچھ بیان کرتا ہے

یورپ کا ردعمل
۲۶؍ یورپی ممالک نے ایک مشترکہ بیان میں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے احترام پر زور دیا ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی چیف کاجا کالاس کا کہنا ہے کہ بحران کا حل پر امن طریقے سے اور قانونی اصولوں کی پاسداری کے ساتھ ہونا چاہئے، اور دنیا بھر کے رہنما اسمبلیوں کو کشیدگی کم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

عالمی سطح پر تازہ ترین پیش رفت
بین الاقوامی برادری نے امریکہ کی کارروائی پر متفرق ردعمل دیا ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی امریکہ سے بین الاقوامی قانون کا احترام کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ لاطینی امریکی ممالک میں امن و قیامِ خودمختاری کیلئے زور بڑھ گیا ہے۔ متعدد ممالک نے زور دیا ہے کہ تنازع صرف مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے حل ہونا چاہئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK