ہنگامی اجلاس کے دوران واشنگٹن کے قریبی اتحادیوں نے بھی امریکہ کو تنقیدوں کا نشانہ بنایا، امریکی مندوب نے اپنے اقدامات کے دفاع کی ناکام کوشش کی
EPAPER
Updated: January 07, 2026, 1:59 PM IST | New York
ہنگامی اجلاس کے دوران واشنگٹن کے قریبی اتحادیوں نے بھی امریکہ کو تنقیدوں کا نشانہ بنایا، امریکی مندوب نے اپنے اقدامات کے دفاع کی ناکام کوشش کی
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں متعدد رکن ممالک نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو ان کی سرکاری رہائش گاہ سے اغوا کر لینے پرامریکہ اور صدر ٹرمپ کو سخت تنقیدوں کا نشانہ بنایا۔ ان ممالک میں واشنگٹن کے قریبی اتحادی بھی شامل ہیں۔ امریکی فوج کے اقدام کے بعد لاطینی امریکہ، یورپ اور دیگر خطوں میں وسیع پیمانے پر امریکہ کی مذمت کی جارہی ہے۔ کئی ممالک نے خبردار کیا ہے کہ یہ آپریشن بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے اور علاقائی استحکام کیلئے خطرہ ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو غطریس نے کونسل کو بتایا کہ وہ اس چھاپے اور اصدر کے اغوا پر ’’شدید فکر مند‘‘ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایک سربراہِ مملکت کی گرفتاری سے وینزویلا اور وسیع تر خطے میں عدم استحکام بڑھنے کا خطرہ ہے۔ غطریس نے سوال کیا کہ آیا یہ آپریشن اقوامِ متحدہ کے چارٹر کا احترام کرتا ہے۔ انہوں نے سفارت کاری کی واپسی اور بین الاقوامی اصولوں کے احترام پر زور دیا۔
اقوامِ متحدہ میں وینزویلا کے مندوب سیموئیل مونکاڈا نے کونسل کو خبردار کیا کہ سربراہِ مملکت کے اغوا کو برداشت کرنا اس بات کا اشارہ ہوگا کہ قانون اختیاری ہے اور طاقت ہی بین الاقوامی نظم کا حقیقی ترجمان ہے۔ برازیل کے سفیر سرجیو فرانکا ڈینیس نے وینزویلا کی سرزمین پر بمباری اور مادورو کی گرفتاری کو ناقابلِ قبول حد پار کرنے اور ریاستوں کے مابین تعلقات کیلئے خطرناک مثال قائم کرنے سے تعبیر کیا۔ فرانس نے بھی ان خدشات کی تائید کی۔ فرانسیسی نائب سفیر نے متنبہ کیا کہ یہ کارروائی ’بین الاقوامی نظم کی بنیادوں کو کھوکھلا‘ کر رہی ہے۔ چین اور روس نے مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا اور واشنگٹن سے کسی بھی مزید فوجی کارروائی کو روکنے کا مطالبہ کیا۔ کولمبیا اور میکسیکو نے کہا کہ یہ چھاپہ خطے میں امریکی مداخلت کی تاریخ کی یاد دلاتا ہے اور بین الاقوامی امن و سلامتی کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اسی دوران آپریشن کا دفاع کرتے ہوئے امریکی سفیر مائیک والٹز نے کمال ڈھٹائی سے کہا کہ یہ وینزویلا کے خلاف کوئی جنگ نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی قانونی کارروائی ہے جس کا مقصد ایک ’غیر قانونی‘ لیڈر کو ملک کے اقتدار سے ہٹانا تھا ۔