بینک آف بڑودہ نے مبینہ ڈیٹا لیک کے معاملے پر وضاحت کرتے بیان جاری کیا کہ اس کا کور بینکنگ سسٹم مکمل طور پر محفوظ ہے اور واقعے کی تفصیلی فارینسک تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
EPAPER
Updated: July 27, 2026, 8:07 PM IST | New Delhi
بینک آف بڑودہ نے مبینہ ڈیٹا لیک کے معاملے پر وضاحت کرتے بیان جاری کیا کہ اس کا کور بینکنگ سسٹم مکمل طور پر محفوظ ہے اور واقعے کی تفصیلی فارینسک تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
بینک آف بڑودہ نے پیر کو مبینہ ڈیٹا لیک کے معاملے پر وضاحت کرتے بیان جاری کیا کہ اس کا کور بینکنگ سسٹم مکمل طور پر محفوظ ہے اور واقعے کی تفصیلی فارینسک تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ بینک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری بیان میں کہا’’ بینک میں معلوماتی تحفظ (Information Security) کے مضبوط پروٹوکول نافذ ہیں۔ یہ واقعہ بینک کے ایک ملازم کے ای میل اکاؤنٹ کے ہیک یا کمپرو مائز ہونے کے باعث پیش آیا، جس کے نتیجے میں بعض ڈیٹا تک غیر مجاز رسائی کی گئی۔ اس واقعے کی فوری نشاندہی کر لی گئی تھی اور ضروری حفاظتی و کنٹرول اقدامات بھی فوری طور پر نافذ کر دیے گئے تھے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:پلیئر آف دی سیریز ایوارڈ جیتنا خواب کی تعبیر ہے: ویبھو سوریہ ونشی
بینک نے واضح کیا کہ’’اس واقعے کے دوران بینک کے کور بینکنگ سسٹمز تک کوئی رسائی نہیں کی گئی اور وہ مکمل طور پر محفوظ ہیں۔‘‘بینک نے مزید کہا کہ اس معاملے کی تفصیلی فارینسک جانچ جاری ہے اور وہ تمام متعلقہ ریگولیٹری اداروں کے ساتھ مقررہ ضوابط کے مطابق تعاون کر رہا ہے۔بیان میں کہا گیا’’بینک معلوماتی تحفظ کے اعلیٰ ترین معیارات برقرار رکھنے اور اپنے صارفین و دیگر متعلقہ فریقین کا اعتماد قائم رکھنے کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:حنا خان کی عامر خان کی گوری اسپریٹ سے تیسری شادی پر تنقید
ایک ٹیرا بائٹ حساس ڈیٹا لیک ہونے کا دعویٰ
میڈیا رپورٹس کے مطابق’’بینک آف بڑودہ‘‘ کا تقریباً ایک ٹیرا بائٹ (1TB) حساس ڈیٹا مبینہ طور پر ڈارک ویب پر دستیاب ہے، جس میں ذاتی اور کارپوریٹ بینکنگ سے متعلق معلومات شامل ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایک ہیکر نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے پاس تقریباً ایک ٹیرا بائٹ حساس ڈیٹا موجود ہے، جس میں درج ذیل معلومات شامل ہیں: سیونگ اور کرنٹ اکاؤنٹس کے ریکارڈ، قرض (لون) سے متعلق معلومات، نیٹ بینکنگ صارفین کی تفصیلات،این آر آئی اور کارپوریٹ بینکنگ سروسیز کا ریکارڈ، کسٹمر سپورٹ سے متعلق معلومات، بینک کی شاخوں اور اے ٹی ایمز سے متعلق ریکارڈ۔ تاہم اب تک کسی بھی ہیکر یا گروپ نے عوامی طور پر اس مبینہ ڈیٹا لیک کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔