Updated: July 27, 2026, 8:30 PM IST
| Washington
امریکہ کی وفاقی اپیل عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کے مجوزہ وفاقی ووٹر فہرست منصوبے پر اہم فیصلہ سناتے ہوئے ۲۳؍ ریاستوں میں اس پر عمل درآمد روکنے کا حکم برقرار رکھا ہے۔ اس فیصلے نے میل اِن ووٹنگ، ووٹر رجسٹریشن اور انتخابی اختیارات سے متعلق قانونی و آئینی بحث کو مزید شدت دے دی ہے۔
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این۔
امریکہ کی ایک وفاقی اپیل عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کے اس منصوبے کے خلاف فیصلہ دیا ہے جس کے تحت اہل ووٹروں کی ملک گیر وفاقی فہرست تیار کی جانی تھی۔ عدالت نے اس منصوبے کو ان۲۳؍ ریاستوں میں معطل رکھنے کا حکم برقرار رکھا ہے جنہوں نے اس کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔ امریکہ کی فرسٹ سرکٹ کورٹ آف اپیلز نے سنیچر کو فیصلہ سنایا کہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی (Midterm) انتخابات سے قبل ٹرمپ انتظامیہ ان 23 ریاستوں میں مجوزہ وفاقی ووٹر فہرست سے منسلک ڈاک کے ذریعے ووٹنگ (Mail-in Voting) پر عائد پابندیوں کو نافذ نہیں کر سکتی۔ یہ فیصلہ بوسٹن کی وفاقی ضلعی جج اندرا تلوانی کے جون میں جاری کردہ حکم امتناعی (Injunction) کو برقرار رکھتا ہے، جس کے تحت ان ریاستوں میں صدارتی حکم نامے پر عمل درآمد روک دیا گیا تھا جنہوں نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نے تحفظ کی گیارنٹی دی ہے، نیویارک آؤں گا: نیتن یاہو
ٹرمپ کا ووٹر فہرست سے متعلق صدارتی حکم
صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے مارچ میں ایک صدارتی حکم نامے پر دستخط کئے تھے جس میں امریکی شہریت و امیگریشن سروس (USCIS) اور سوشل سیکوریٹی ایڈمنسٹریشن کو ہدایت دی گئی تھی کہ اہل ووٹروں کی ایک ’ریاستی شہریت فہرست‘ تیار کی جائے۔ اس حکم کے مطابق امریکی پوسٹل سروس صرف انہی افراد کو ڈاک کے ذریعے بیلٹ بھیجتی جن کے نام اس وفاقی فہرست میں شامل ہوتے۔ ٹرمپ نے اس اقدام کو انتخابی دھاندلی، خصوصاً ڈاک کے ذریعے ووٹنگ میں مبینہ بے ضابطگیوں، کی روک تھام کے لیے ضروری قرار دیا۔ اوول آفس میں حکم نامے پر دستخط کرنے سے قبل ٹرمپ نے کہا تھا:’’ڈاک کے ذریعے ووٹنگ میں دھاندلی ایک مشہور حقیقت ہے۔ ‘‘انتظامیہ کا یہ بھی مؤقف تھا کہ یہ نظام غیر شہریوں کو ووٹ ڈالنے سے روکنے میں مدد دے گا۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی میزائل کے ذخائر میں کمی، ٹرمپ کا اپنی فوج کو ایران پر حملے روکنے کا حکم
ریاستی حکام کے تحفظات
ریاستی انتخابی حکام نے اس منصوبے پر شدید خدشات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مجوزہ شہریت فہرست میں غلطیاں ہو سکتی ہیں، جس سے انتخابات کے دوران الجھن پیدا ہوگی۔ ان کے مطابق اگر مختلف سرکاری ڈیٹا بیس کا تقابل کرتے وقت غلطی ہو جائے تو اہل ووٹرز کو غلط طور پر فہرست سے خارج کیا جا سکتا ہے یا انہیں ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم کیا جا سکتا ہے۔
۲۳؍ریاستوں اور واشنگٹن ڈی سی کی قانونی کارروائی
۲۳؍ریاستوں اور واشنگٹن ڈی سی کے ڈیموکریٹک عہدیداروں نے بوسٹن کی وفاقی عدالت میں ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ صدر کو یکطرفہ طور پر انتخابی قوانین بنانے کا آئینی اختیار حاصل نہیں، بلکہ یہ اختیار ریاستوں اور امریکی کانگریس کے پاس ہے۔ جج اندرا تلوانی نے ریاستوں کے مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے حکم دیا کہ ۳؍نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل اس حکم نامے پر ان ریاستوں میں عمل درآمد نہیں ہوگا۔ تاہم ان کا فیصلہ صرف انہی ریاستوں تک محدود تھا جنہوں نے مقدمہ دائر کیا تھا۔ اپیل عدالت کے تازہ فیصلے نے بھی یہی صورت حال برقرار رکھی ہے۔ یعنی صدارتی حکم اب بھی ان۲۳؍ ریاستوں اور واشنگٹن ڈی سی میں معطل رہے گا، جبکہ جن ریاستوں نے مقدمے میں شمولیت اختیار نہیں کی، وہاں اس حکم کی قانونی حیثیت بدستور الگ معاملہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ٹیکساس کا شہر کارپس کرسٹی شدید آبی بحران کی زد میں، ماہرین کا انتباہ
تارکین وطن اور شہریت حاصل کرنے والوں پر ممکنہ اثرات
اگرچہ اس صدارتی حکم کو انتخابات میں شہریت کی جانچ کے ایک نئے نظام کے طور پر پیش کیا گیا، لیکن اس سے تارکین وطن اور قدرتی طور پر امریکی شہریت حاصل کرنے والے (Naturalized Citizens) افراد پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے بھی خدشات سامنے آئے۔ امریکہ میں غیر شہری پہلے ہی وفاقی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے مجاز نہیں، اور ایسا کرنا وفاقی جرم ہے۔ ووٹر رجسٹریشن کے وقت بھی ریاستی اور وفاقی سطح پر شہریت کی جانچ کا نظام پہلے سے موجود ہے۔ یہ صدارتی حکم ووٹ ڈالنے کے بنیادی قوانین تبدیل نہیں کرتا تھا، بلکہ مختلف سرکاری ڈیٹا بیس کو ملا کر ووٹر کی اہلیت کی تصدیق کا ایک نیا طریقہ متعارف کرانے کی تجویز دیتا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ-ایران تنازع کا نیا محاذ، حوثیوں کا سعودی تیل کی تنصیبات پر حملہ
اہل ووٹروں کے غلط طور پر خارج ہونے کا خدشہ
ووٹنگ کے حقوق کیلئے سرگرم تنظیموں اور ریاستی حکام نے خبردار کیا کہ سوشل سیکوریٹی اور امیگریشن ریکارڈ پر مبنی اس فہرست میں غلطیاں ہونے کا امکان موجود ہے۔ نام کی تبدیلی، غلط شناختی نمبر، پرانا ریکارڈ یا مختلف سرکاری ریکارڈز میں معلومات کے فرق کی وجہ سے اہل ووٹر کو غلطی سے نااہل قرار دیا جا سکتا ہے۔ خصوصاً وہ افراد جنہوں نے بعد میں امریکی شہریت حاصل کی ہو، اگر ان کی شہریت کا ریکارڈ بروقت اپ ڈیٹ نہ ہو تو انہیں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ اسی طرح ایسے افراد جن کے نام مختلف سرکاری ریکارڈز میں مختلف انداز سے درج ہوں، بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس نظام کے نتیجے میں قانونی طور پر اہل شہریوں کو بھی غلطی سے ووٹ ڈالنے سے محروم کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ: اسرائیل کے حملے میں حماس کی پولیس فورس کے افسر کی موت
دیگر ریاستوں میں صورتحال
فی الحال عدالتی فیصلہ صرف ان ۲۳؍ریاستوں اور واشنگٹن ڈی سی پر لاگو ہوتا ہے جنہوں نے مقدمہ دائر کیا تھا۔ اپیل عدالت نے ان ریاستوں کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں دیا جو اس مقدمے کا حصہ نہیں ہیں۔ ایسی ریاستوں میں رہنے والے تارکین وطن اور قدرتی طور پر شہریت حاصل کرنے والے افراد کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ووٹر رجسٹریشن اور ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کے تازہ قوانین کیلئے اپنی متعلقہ ریاست کے انتخابی حکام سے رابطہ کریں۔ اگر مجوزہ منصوبہ نافذ ہو جاتا تو امریکی پوسٹل سروس صرف انہی افراد کو ڈاک کے ذریعے بیلٹ بھیجتی جن کے نام وفاقی شہریت فہرست میں موجود ہوتے۔ اس صورت میں اگر کسی اہل ووٹر کا نام غلطی سے فہرست سے خارج ہو جاتا تو وہ میل بیلٹ حاصل کرنے سے محروم رہ سکتا تھا۔ ووٹنگ کے حقوق کی تنظیموں کے مطابق ایسی صورت میں ووٹرز کو اپنی اہلیت ثابت کرنے اور غلطی درست کروانے کیلئے انتہائی کم وقت میں اضافی قانونی کارروائی کرنا پڑ سکتی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: دفتر میں غزہ کے بچے کی ڈرائنگ ہے تاکہ ان بچوں کی تکلیف نہ بھولوں: پیڈرو سانچیز
آئندہ کیا ہوگا؟
امریکی محکمہ انصاف نے کہا ہے کہ وہ عدالتی فیصلے کے بعد اپنے قانونی آپشنز کا جائزہ لے رہا ہے اور اسے یقین ہے کہ آخرکار ٹرمپ کا صدارتی حکم برقرار رکھا جائے گا۔ اس لئے توقع کی جا رہی ہے کہ یہ قانونی تنازع مزید اپیلوں کے ذریعے جاری رہے گا، اور ممکن ہے کہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل یہ معاملہ بالآخر امریکی سپریم کورٹ تک پہنچ جائے۔