گرام سبھائوں میں ہونے والی مارپیٹ کی وارادتوں اور سیاسی رسہ کشی سے نالاں، مطالبات سے متعلق میمورنڈم ضلع کلکٹر کو پیش کیا گیا۔
EPAPER
Updated: September 03, 2026, 12:07 PM IST | ZA Khan | Beed
گرام سبھائوں میں ہونے والی مارپیٹ کی وارادتوں اور سیاسی رسہ کشی سے نالاں، مطالبات سے متعلق میمورنڈم ضلع کلکٹر کو پیش کیا گیا۔
گرام سبھاؤں میں بڑھتے ہوئے سیاسی تنازعات، گرام پنچایت کے افسران کے ساتھ گالی گلوچ، دھکم پیل اور ذہنی ہراسانی کے واقعات کے خلاف گرام سیوکوں میں شدید ناراضگی ہے۔ اسی سلسلے میں ضلع بیڑ کے ۵۲۵؍ گرام سیوکوں نےایک روز قبل ضلع پریشد دفتر سے خاموش مارچ نکالا اور کلکٹر دفتر پہنچ کر احتجاج کیا۔ انہوں نے وہاں دوپہر ۲؍ بجے تک دھرنا بھی دیا۔
یہ بھی پڑھئے: برطانیہ: ۵۵؍ ہزار افراد کا وزیر اعظم سے اسرائیل کو جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ
مظاہرین نے واضح کیا کہ جب تک گرام سبھاؤں کے انعقاد کیلئے حفاظتی انتظامات فراہم نہیں کئے جاتے، اس وقت تک گرام سیوک گرام سبھا کے سیکریٹری کی حیثیت سے ذمہ داری انجام نہیں دیں گے۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے سال بھر میں ۱۲؍ گرام سبھائیں منعقد کرنے کے احکامات پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس بات کا جائزہ لینا چاہئے کہ آیا واقعی اتنی بڑی تعداد میں گرام سبھاؤں کی ضرورت ہے یا نہیں۔ گرام سیوکوں نے سال میں صرف دو گرام سبھائیں منعقد کرنے کا مطالبہ کیا۔احتجاج کرنے والے گرام سیوکوں نے ضلع جلگاؤں کے شیورے گاؤں میں گرام سبھا کے دوران گرام پنچایت افسر پی این پاٹل کی موت کے ذمہ دار افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔گرام سیوکوں کا کہنا تھاکہ ماضی میں گرام سبھائیں عوام اور انتظامیہ کے درمیان گفت و شنید کا مؤثر ذریعہ ہوا کرتی تھیں، لیکن اب یہ سیاسی تنازعات، ذاتی دشمنیوں اور الزام تراشیوں کا مرکز بنتی جارہی ہیں۔
بیڑ ضلع میں گرام پنچایتوں کی مجموعی تعداد ۱۰۳۹؍ ہے۔اصولی طور پر ہر گرام پنچایت کیلئے ایک گرام سیوک کا علاحدہ عہدہ ہونا چاہئے، تاہم ضلع میں صرف ۷۲۲؍ عہدے منظور شدہ ہیں، جن میں سے تقریباً ۱۰۰؍ عہدے خالی ہیں۔ اس صورتحال کے باعث بیشتر گرام سیوکوں کو ایک سے زائد گرام پنچایتوں کی اضافی ذمہ داری سنبھالنی پڑ رہی ہے۔اسی وجہ سے سال۲۶۔ ۲۰۲۵ء کے دوران بعض گرام سیوکوں کو اپنی دو گرام پنچایتوں کیلئے مجموعی طور پر ۲۴؍ گرام سبھائیں منعقد کرنی پڑیں۔ گرام سیوک تنظیم نے مطالبہ کیا کہ مہاراشٹر گرام پنچایت قانون میں ترمیم کرکے سال میں صرف دو باقاعدہ گرام سبھاؤں کی قانونی گنجائش رکھی جائے۔تنظیم کی جانب سے انتظامیہ کو مطالبات پر مشتمل ایک یادداشت بھی پیش کی گئی، جس میں گرام سبھا کی بغیر اجازت ویڈیوگرافی کرکے افسران کی سماجی ساکھ کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کیلئے واضح رہنما ہدایات جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’دنیا کو دہشت گردی کے نیٹ ورک کے خلاف متحد ہونا ہوگا‘‘
اسکے علاوہ متنازع اور حساس دیہاتوں میں گرام سبھاؤں کے انعقاد کے دوران انتظامیہ کی جانب سے مفت پولیس بندوبست فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا اور سرکاری اسکیموں سے متعلق درخواستوں کی جانچ براہِ راست گرام سبھا میں نہ کرنے کی مانگ کی گئی ہے۔