Updated: January 30, 2026, 10:14 PM IST
| Barcelona
بارسلونا (اسپین) میں ’’ایکٹ ایکس فلسطین‘‘ خیراتی پروگرام کے موقع پر مانچسٹر سٹی کے منیجر پیپ گارڈیالا نے فلسطینی بچوں کے لیے آواز اٹھائی۔ انہوں نے کیفیہ پہنا اور ’’السلام علیکم‘‘ سے خطاب شروع کیا۔ اپنی تقریر میں انہوں نے عالمی برادری پر فلسطینی عوام خصوصاً بچوں کے ساتھ بے حسی کا الزام لگایا۔ اس پروگرام کے تمام فنڈز فلسطین میں انسانی خدمات کے لیے وقف کیے جائیں گے۔
معروف فٹ بال منیجر پیپ گارڈیالا۔ تصویر: ایکس
معروف فٹ بال منیجر پیپ گارڈیالا نے بارسلونا کے مشہور پالاؤ سینٹ جورڈی اسٹیج پر ’’ایکٹ ایکس فلسطین‘‘ نامی خیراتی پروگرام کے دوران فلسطینی بچوں کے لیے ایک پر اثر اور انسانی جذبے سے بھرپور خطاب کیا۔ انہوں نے فلسطینی کیفیہ پہنا اور ’’السلام علیکم‘‘ کہہ کر اپنی تقریر کا آغاز کیا، جس نے ہجوم میں جوش بھردیا۔ گارڈیالا نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ دنیا بھر میں فلسطینی عوام خصوصاً بچوں کی صورتحال کے بارے میں پچھلے دو سال سے ایک ہی تکلیف دہ تصویریں دیکھ رہے ہیں، جن میں بچے اپنے والدین کو ملبے میں تلاش کرتے نظر آتے ہیں، یا والدین اپنے بچوں کو ملبے میں ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری نے ان معصوم بچوں کو تنہا چھوڑ دیا ہے اور انسانی ہمدردی کا تقاضا یہ ہے کہ الفاظ سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے زور دیا کہ عالمی لیڈر ان خاموشی اختیار نہ کریں اور فلسطینی عوام کے درہم برہم حالات کی حقیقت کو تسلیم کریں۔ گارڈیالا نے کہا، ’’ہم نے ان کو چھوڑ دیا ہے، ہم نے انہیں تنہا چھوڑا ہے — اور یہی وجہ ہے کہ یہ تباہی جاری ہے۔‘‘ ان کے مطابق یہ خطاب صرف ایک مظاہرہ نہیں بلکہ انسانیت کی بازیابی کے لیے ایک پیغام بھی ہے۔ واضح رہے کہ یہ پروگرام ایک وسیع بین الاقوامی مہم کا حصہ تھا جس کا مقصد فلسطینی علاقوں میں بنیادی انسانی امداد، کمیونٹی کی تعمیر، اور بچوں اور خاندانوں کے لیے سہولیات فراہم کرنا ہے۔ اس میں ہزاروں افراد شریک ہوئے۔ متعدد موسیقار، فنکار، اور سماجی لیڈران نے بھی اپنی شرکت سے اس مشن کی حمایت کرتے ہوئے مظلوم عوام کی آواز کو عالمی سطح پر پہنچانے کی کوشش کی۔ اس تقریب میں اسپین کی معروف گلوکارہ روزالیہ نے بھی شاندار نغمہ پیش کیا، جس نے سامعین میں جوش اور یکجہتی پیدا کی۔ پروگرام کے دوران فلسطینی عوام اور خاص طور پر بچوں کے ساتھ جاری انسانی بحران، امدادی ناکامیوں اور عالمی عدم توجہ جیسے مسائل پر بھی بات کی گئی۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی فوج کا پہلی بار اعتراف، غزہ میں ۷۱؍ ہزار سے زائد فلسطینی شہید
گارڈیالا، جو اس سے پہلے بھی مختلف مواقع پر عوامی مسائل پر اظہار خیال کر چکے ہیں، نے اس موقع پر کہا کہ انسانی بحرانوں کے خلاف آواز اٹھانا ہمارا اخلاقی فرض ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ سرگرمیاں کسی ایک سیاسی ایجنڈے کے لیے نہیں بلکہ انسانی اقدار اور دنیا بھر میں مظلوم عوام کی مدد کے جذبے کے تحت ہیں۔ اس پروگرام کے دوران جو رقم جمع کی گئی ہے، اسے براہِ راست فلسطینی علاقوں میں بنیادی سہولیات، صحت کی خدمات، تعلیم، اور بچوں کی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر خرچ کیا جائے گا۔ اس کا مقصد نہ صرف فوری امداد فراہم کرنا ہے بلکہ ان علاقوں میں ایک مستقل اور مضبوط بنیادی ڈھانچہ تیار کرنا بھی ہے۔