Updated: March 18, 2026, 2:03 PM IST
| Tehran
ایرانی پاسداران انقلاب نے علی لاریجانی سمیت دیگر شہدا کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان کر دیا ہے۔ایران کی قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی کی شہادت پر ایرانی پاسداران انقلاب کا اہم بیان سامنے آیا ہے، جس میں علی لاریجانی سمیت دیگر شہدا کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان کیا گیا ہے۔
علی لاریجانی۔ تصویر:پی ٹی آئی
ایرانی پاسداران انقلاب نے علی لاریجانی سمیت دیگر شہدا کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان کر دیا ہے۔ایران کی قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی کی شہادت پر ایرانی پاسداران انقلاب کا اہم بیان سامنے آیا ہے، جس میں علی لاریجانی سمیت دیگر شہدا کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان کیا گیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ علی لاریجانی کا خون دیگر شہدا کی طرح ایرانی عزت، قومی بیداری کا سبب ہے۔ ان کا خون صہیونیوں کے مقابلے میں حوصلہ افزا ہے۔ شہید علی لاریجانی اور دیگر شہدا کا بدلہ لینا کبھی نہیں بھولیں گے۔ ایرانی فوج کے کمانڈر انچیف میجر جنرل امیر حاتمی نے بھی تمام شہدا کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ علی لاریجانی کی شہادت پر ہمارا ردعمل فیصلہ کن ہوگا اور ہمارا جواب دشمن کے لیے شدید پشیمانی کا سبب بنے گا۔
ایرانی آرمی چیف کا کہنا تھا کہ شہید لاریجانی کی انقلابی قیادت نے قوم کے لیے لازوال میراث چھوڑی ہے۔ مجرمانہ اقدامات ایران کی خودمختاری اور دفاع کے راستے میں خلل نہیں ڈالیں گے۔ ان بیانات کے ساتھ ہی ایران نے اسرائیل کے خلاف ایک اور بڑا وار کیا، جس کے بعد تل ابیب اور یروشلم سمیت کئی علاقوں میں خطرے کے سائرن بج اٹھے۔
واضح رہے کہ امریکی اور اسرائیلی مشترکہ حملے میں گزشتہ روز ایران کی قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی اپنے بیٹے سمیت شہید ہو گئے تھے، جس کی سرکاری سطح پر تصدیق کر دی گئی ہے۔ دوسری جانب امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ۲۸؍ فروری سے اب تک ایران کی جانب سے امریکی تنصیبات پر ۲۹۲؍ بار حملہ کیا جا چکا ہے۔
علی لاریجانی کی شہادت ایک عہد کا خاتمہ
امریکہ اور اسرائیل کے حملے میں ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سکریٹری علی لاریجانی شہید ہوگئے۔ علی لاریجانی انقلابِ ایران کے وہ مایہ ناز سپوت اور مدبر سیاستدان تھے اور نظامِ ایران میں توازن اور وقار کی علامت سمجھے جاتے تھے جن کا سفرِ حیات امریکہ اور اسرائیل کے بزدلانہ حملے میں شہادت پر اختتام پذیر ہوا۔
یہ بھی پڑھئے:کون ہیں’’سرکے چنر‘‘فیم منگلی؟ نغمہ نگار رقیب عالم کا ’’ڈبل میننگ‘‘ گانوں سے پرانا تعلق
تفصیلات کے مطابق عالمِ اسلام اور ایرانی سیاست کی قد آور شخصیت، ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سکریٹری علی لاریجانی امریکہ اور اسرائیل کے ایک مشترکہ حملے میں اپنے بیٹے مرتضیٰ لاریجانی سمیت شہید ہو گئے۔ ایرانی سرکاری میڈیا اور ان کے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ نے اس اندوہناک خبر کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔ علی لاریجانی کا شمار امام خمینیؒ کی قیادت میں آنے والے انقلابِ ایران کے بنیادی اور مخلص لیڈروں میں ہوتا تھا۔ انہوں نے اپنی خدمات کا آغاز ایران عراق جنگ کے دوران بطور ’’فرنٹ لائن فائٹر‘‘ کیا اور اس معرکے میں پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے سربراہ کی حیثیت سے کلیدی کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھئے:ایپل کے سی ای او ٹم کک نے استعفیٰ کی خبروں کو افواہ قرار دیا
شہید لاریجانی نے دہائیوں تک ایران کے اہم ترین ریاستی و دفاعی عہدوں پر کام کیا، انھوں نے ۱۹۹۲ء سے۲۰۰۳ء تک بطور وزیرِ ثقافت ملک کی ثقافتی پالیسیوں کی نگرانی کی جبلپ۱۹۹۳ء سے۲۰۰۴ء تک ایرانی ریڈیو اور ٹی وی کے سربراہ رہے۔ صدر احمدی نژاد کے دور میں دفاعی کونسل کے سیکریٹری منتخب ہوئے، تاہم سیاسی اختلافات پر استعفیٰ دیا جبکہ وہ ۲۰۲۵ء میں دوبارہ قومی سلامتی کونسل کے سکریٹری مقرر ہوئے اور اپنی شہادت تک اسی حساس منصب پر فائز رہے۔ شہادت سے محض چند گھنٹے قبل علی لاریجانی نے اپنے آخری ٹوئٹ میں شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھا تھا ’’میں موت کو اللہ سے ملاقات اور خوشی کے سوا کچھ نہیں سمجھتا۔‘‘